قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ رواں سال 66 ہزار مسافر آف لوڈ ہوئے، جن میں سے 51 ہزار مسافروں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے روکا۔
سب سے زیادہ کیسز لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر رپورٹ ہوئے۔ یہ کارروائیاں 2024 کے یونان کشتی حادثے کے بعد شروع ہونے والے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا نتیجہ ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق مسافروں کو دستاویزات کی تصدیق، ڈیٹا چیکس اور آن لائن آتھنٹیکیشن کے بعد روکا جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کئی افراد کے پاس ویزا تو ہوتا ہے مگر یونیورسٹی، کورس، نوکری یا اسپانسر سے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ اکثر کیسز میں ایجنٹس کے ذریعے غلط یا ادھوری معلومات دی جاتی ہیں۔
حکومت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم کی ہدایت پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنا دی ہے۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ کسی مسافر کو سیاسی دباؤ یا وی آئی پی اثر و رسوخ پر کلیئر نہیں کیا گیا۔ ایئرپورٹس پر امیگریشن کاؤنٹرز پر کیمرے لگ چکے ہیں، نادرا ڈیٹا بیس سے براہ راست رابطہ ہے اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے مشکوک کیسز پہلے ہی نشان زد ہو جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر آف لوڈ ہونے والے مسافر وزٹ، عمرہ اور ورک ویزا کی کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں۔ رواں سال پچاسی لاکھ پاکستانی بیرون ملک گئے، جبکہ جعلی دستاویزات پر 170 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا۔
دوسری جانب سعودی عرب میں ویژن 2030 کے تحت ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری آ رہی ہے، جس سے پاکستانیوں کے لیے روزگار کے بڑے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہنرمند تربیت پر توجہ دی جائے۔
