یہ راگ بھٹائی کے سُر ہیں جو شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری پر مشتمل ہیں۔ بھٹائی کا یہ کلام صدیوں سے سندھی صوفی روایت کا روشن استعارہ مانا جاتا ہے۔ اس شاعری میں عشق انسان دوستی فطرت اور جدائی کے درد کی گہری تصویریں ہیں ۔
فقیر اس کلام کو عقیدت محبت اور روحانی وابستگی کے اظہار کے طور پر گاتے ہیں۔ بھٹائی کے فقیر خانقاہی روایات کے وارث ہیں جو نسل در نسل یہ سُر سنبھالتے آئے۔
یہ راگ عام موسیقی سے مختلف ہے اس میں سر اور لَے سادگی کے ساتھ بہتے ہیں۔ سید جمن شاہ کے گروہ کی آواز میں بھٹائی کی روایت کی صدیوں پرانی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
اس راگ میں نمایاں ساز تنپورو اور یکتارو ہیں جو خاص سُر پیدا کرتے ہیں۔ تنپورے کی مسلسل دھُن فقیرانہ کلام کو روحانی گہرائی اور سکون عطا کرتی ہے۔
اس گانے کا انداز بیحد سادہ مگر دل گداز ہے جو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔ یہ روایت تقریباً تین سو برس سے بھٹ شاہ کے مزار پر مسلسل گائی جا رہی ہے۔
