[rank_math_breadcrumb]

سانگھڑ: مچھلی کی سَجی متعارف کرانے والے جبار ملاح

جبار ملاح، ضلع سانگھڑ کے ایک معروف مچھلی فروش، حالیہ برسوں میں اپنی مچھلی کی سجی کی وجہ سے تیزی سے پہچان بنا رہے ہیں۔ سانگھڑ میں زرعی روزگار کے ساتھ اکثر لوگ مچھلی اور مرغی فروش بھی ہیں، مگر جبار ملاح نے مچھلی کی سجی کو باقاعدہ ایک مقامی ذائقہ بنا دیا ہے۔

جبار ملاغ روزانہ مقامی جھیلوں اور کینالوں سے تازہ مچھلی منگواتے ہیں اور پھر اسی تازگی کو اپنی روایت کے ساتھ جوڑ کر سجی تیار کرتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے جبار ملاح نے بتایا کہ سجی ایک سادہ مگر وقت لینے والا عمل ہے۔ سب سے پہلے مچھلی کو صاف کر کے اس میں ہلکا سا نمک، ہلدی اور لیموں لگایا جاتا ہے۔

برصغیر میں عام طور پر سجی کا طریقہ گوشت تک محدود رہا ہے، مگر جبار ملاح نے اسی طرز کو مچھلی پر اپنایا۔ وہ لکڑی کے لمبے سیخ بنا کر مچھلی کو ان پر باندھتے ہیں اور چاروں طرف سے ہلکی آنچ پر پکنے دیتے ہیں۔ یہ عمل بظاہر آسان نظر آتا ہے، مگر اس میں خاص مہارت اور مسلسل نگرانی ضروری ہے، کیونکہ ہلکی آنچ ہی اس کی اصل پہچان ہے۔

جبار ملاح بتاتے ہیں کہ مچھلی کی سجی کو پکانے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ سکتا ہے۔ ‘زیادہ آنچ سجی کو خراب کر دیتی اس لیے وہ آگ کو مسلسل کم رکھتے ہیں، لکڑی کا انتخاب بھی خاص کرتے ہیں تاکہ دھواں ذائقے پر اثر نہ ڈالے۔

‘جب سجی تیار ہوتی ہے تو اس کا رنگ سنہرا اور جلد خستہ ہوتی ہے، مگر اندر کا گوشت نرم اور خوشبودار رہتا ہے۔’

سانگھڑ اور آس پاس کے علاقوں میں لوگ سردیوں کے موسم میں خصوصی طور پر جبار ملاح کے پاس آتے ہیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ان کی سجی کا ذائقہ اس لیے مختلف ہے کہ وہ صرف تازہ مچھلی استعمال کرتے ہیں اور اسے زیادہ مصالحوں میں نہیں ڈبوتے۔ بازار میں عام مچھلی تل کر یا بھون کر پیش کی جاتی ہے، مگر سجی ایک سست رفتار عمل ہے جو ذائقے کو قدرتی رکھتا ہے۔

جبار ملاح کی سجی نہ صرف مقامی بازار میں مشہور ہے بلکہ وہ اب اسے قریبی قصبوں میں بھی بھیجتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نوجوان اس کاروبار میں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ مچھلی کی سجی اب ایک منفرد پہچان بنتی جا رہی ہے۔ جبار ملاح کا مقصد ہے کہ سانگھڑ کی یہ روایت مزید پھیلے اور لوگ مقامی پکوانوں کی قدر سمجھیں۔

اسی بارے میں: