2026 تک 90 فیصد میڈیا، موویز اور ڈیجیٹل مواد اے آئی سے تیار ہوگا: ایلون مسک کی پیش گوئی

اے آئی

ٹیکنالوجی کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے چند برسوں میں عالمی میڈیا اور تفریحی صنعت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا اثر و رسوخ فیصلہ کن حد تک بڑھ جائے گا۔

اتوار کو سرمایہ کار، اسٹاک بروکر اور پوڈکاسٹر نکھل کامتھ کے یوٹیوب چینل پر تقریباً دو گھنٹے طویل انٹرویو میں مسک کا کہنا تھا کہ 2026 تک دنیا بھر فلموں، آن لائین ویڈیوز، پاڈکاسٹ سمیت مواد کا ‘نوے فیصد’ اے آئی پر مبنی ہوگا۔

مسک نے دعویٰ کیا کہ ان کی کمپنی ایکس اے آئی کا آنے والا ماڈل گروک تھری محض چند جملوں کی ہدایات سے پوری لمبائی کی فلمیں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھے گا اور یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ہالی وڈ کے بڑے اسٹوڈیوز کا مقابل بن سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ اے آئی ماڈلز طویل کہانیوں میں تسلسل قائم رکھنے میں اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔

مسک کے مطابق مستقبل کی سب سے بڑی تبدیلیاں ریئل ٹائم ویڈیو جنریشن اور ویڈیو گیمز کے شعبوں میں ہوں گی، جہاں اے آئی پہلے ہی انسانی تجربات کی نقالی انتہائی باریکی سے کر رہی ہے۔

گفتگو کے دوران میزبان نکھل کامتھ نے نوٹ کیا کہ دنیا بھر میں لائیو ایونٹس دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ لوگ حقیقی اور براہِ راست انسانی رابطے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

اس پر مسک کا کہنا تھا کہ جب ڈیجیٹل مواد تقریباً مفت ہو جائے گا، تو لائیو تجربات ‘نایاب اور قیمتی’ ہو جائیں گے اور مستقبل میں ایک مضبوط سرمایہ کاری کا موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔

مسک کی پیش گوئیوں پر صنعت کے ماہرین نے سخت ردِعمل دیا ہے۔ ڈائریکٹرز گلڈ آف امریکہ نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی مواد سازی پر حاوی ہوئی تو امریکہ میں تخلیقی شعبے کی تقریباً چھ لاکھ نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ دوسری جانب کاپی رائٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فلموں پر اے آئی ماڈلز کی تربیت قانونی طور پر ایک متنازع معاملہ ہے۔

نیٹ فلکس اور ڈزنی سمیت بڑی اسٹریمنگ کمپنیوں نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ انسانی تخلیقی نگرانی کے بغیر مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ مواد قبول نہیں کریں گی، کیونکہ ان کے بقول اس میں معیار اور صداقت کا شدید خدشہ رہتا ہے۔

اسی بارے میں: