[rank_math_breadcrumb]

نواب شاہ: درگاہ کے باہر لوگوں کو درختوں کے ساتھ کیوں باندھ دیا جاتا ہے؟

بڑی درگاہ کے باہر درخت کے ساتھ بیٹھے ہوئے نوجوان کی ٹانگ لوہی زنجیر اور تالے کے ساتھ بندھی ہوئے۔ نوجوان پلیٹ میں کھانا کھا رہا ہے، نوجوان کی والدہ کچھ فاصلے پر چھوٹی سی لکڑی سے زمیں کھرچنے کے ساتھ انتظار کررہی ہے۔

یہ واحد نوجوان نہیں بلکہ درگاہ باہر بڑے میدان میں متعدد افراد اس طرح درختوں کے تنوں اور موٹی لکڑیوں کے ساتھ بندھے ہوئے۔
یہ مناظر سندھ کے ضلع نواب شاہ کے نواحی علاقے جام صاحب میں واقع سخی جام ڈاتار، المعروف سید اصغر علی شاہ، کی درگاہ کے باہر کے ہیں۔ ‘ذہنی مسائل’ کے شکار یہ افراد نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا سمیت پاکستان بھر سے آتے ہیں۔
ان افراد کے گھر والے ان کو زنجیروں اور تالے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔ زائرین یہ مانتے ہیں جب صوفی بزرگ کی برکت سے یہ لوگ صحت مند ہوجائیں گے تو تالے خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں۔

بعض اوقات زائرین کے مطابق ‘برکت سے تالے ٹوٹنے’ میں کئی مہینے یا سال لگ جاتے ہیں۔
عمرکوٹ کی بزرگ خاتون اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ درگاہ کے باہر گذشتہ دو سالوں سے صحت مندی کی منتظر ہے۔
ساگا ڈیجیٹل اے آئی کے گفگتو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کا ذہنی توازن کھو گیا ہے اس لیے وہ اس امید پر اپنے بیٹے کو درگاہ کے باہر باند دیا ہے کہ ایک دن صحت مند ہوجائے گا۔

درخت کے ساتھ بندھے ہوئے ایک اور نوجوان کی والدہ کے مطابق وہ بیواہ ہیں اور اپنے بیٹے کا علاج نہیں کراستیں، اس لیے درگاہ کے باہر بیٹے کو درخت کے ساتھ باندھ دیا ہے۔

درگاہ کے باہر بندھے ہوئے افراد کے ورثا کے مطابق یہ افراد درختوں کے نیچے رہتے ہیں اور وہ ان کے قریب بیٹھ کر ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
قبرستان کے اس حصے میں پانی، سایہ یا رہائش کی کوئی سہولت موجود نہیں۔ شدید سردی اور گرمی کے دوران بھی یہ افراد اسی جگہ پر رہتے ہیں۔ کچھ مریض طویل عرصے سے یہاں مقیم ہیں۔

مقامی شہریوں اور زائرین کے مطابق ضلعی انتظامیہ، محکمہ اوقاف یا درگاہ کی انتظامیہ کی جانب سے یہاں آنے والے مریضوں کے لیے طبی یا بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔
درگاہ پر ہر سال بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں، جب کہ قبرستان کے اس حصے میں موجود ذہنی امراض کے شکار افراد کی دیکھ بھال کا انحصار مکمل طور پر ان کے ورثا پر ہے، جو انہیں کھانا، پانی اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات فراہم کرتے ہیں۔

ساتھ رپورٹر: گلزار علی منگی

اسی بارے میں: