ریاست خیرپور میرس کے آخری والی میر علی مراد خان تالپور دوم 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ 1947 سے 1955 تک ریاست خیرپور میرس کے حکمران رہے، میر صاحب کا دورِ حکومت خیرپور میرس کے سنہری ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ 1955 میں ون یونٹ کے اجرا پر ریاست خیرپور ختم کر دی گئی۔
میں 20 21 سال کا تھا جب پہلی بار خیرپور میرس گیا۔ شاید 95 یا 96 کا سن تھا۔
چھوٹا سا شہر پیدل ہی گھومتا پھرا۔
میری دلچسپی وہاں موجود بنارس مارکیٹ نے کھینچ لی۔ کراچی کا باسی ہونے کی وجہ سے بخوبی علم تھا کہ کراچی کی بنارس کالونی میں یوپی کے شہر بنارس سے ہجرت کر کے آنے والے خاندان اور خاص طرح کے ریشمی کپڑے کے کاریگر رہتے ہیں، کیا خیرپور میرس کی بنارس مارکیٹ کی بھی یہی کہانی ہے؟
خیرپور میرس کی بنارس مارکیٹ میں چند ہی دکانیں تھیں جہاں بہت خوبصورت بنارسی کپڑا دور سے ہی اپنی چمک دمک دکھا رہا تھا۔ میں نے چند دکانوں پر دیکھا تو نرخ کراچی کے مقابلے میں بہت کم تھے، یوں سمجھیے کہ کراچی کے بنارس میں جو بنارسی سوٹ 12 ہزار کا تھا وہ یہاں سات آٹھ ہزار میں دستیاب تھا اور معیار میں کوئی کمی نہ تھی۔
میں نے بھی بساط بھر کچھ خریداری کر لی۔ وہاں ایک دکاندار کو ذرا خوش مزاج اور گفتگو کا رسیا پا کر گپ شپ شروع کر دی۔ میں نے پوچھا آپ سب لوگ بھی کیا بنارس کے ہی رہنے والے ہیں، اس نے کہا جی ہاں بالکل۔ میرا اگلا سوال تھا کہ آپ کے زیادہ تر ہم شہر اور ہم پیشہ تو کراچی میں آباد ہیں تو آپ یہاں کیوں؟ دکاندار نے بتایا کہ ہمیں میر صاحب نے یہاں مدعو کیا تھا۔

برصغیر پاک و ہند کی نوابی ریاستوں میں ریاست خیرپور میرس کو ایک منفرد اور تاریخی مقام حاصل رہا ہے۔ تالپور خاندان کے دورِ حکومت میں، خاص طور پر سکھر بیراج کی تعمیر کے بعد، اس ریاست کا زرعی نظام انتہائی مضبوط ہو گیا۔
کھجور اور کپاس کی ریکارڈ پیداوار نے ریاست کو معاشی طور پر خود کفیل بنا دیا۔ میر علی مراد خان تالپور نے ایک معاشی ترقیاتی کونسل قائم کی تھی جس کے اقدامات کے نتیجے میں ریاست میں صنعتوں کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اپنے عروج کے دور میں ریاست خیرپور میں باٹھ سے زائد چھوٹی اور بڑی صنعتیں کامیابی سے چل رہی تھیں۔
کپاس کی وافر مقامی پیداوار کے باعث خیرپور ٹیکسٹائل ملز قائم کی گئی، جو پورے خطے میں اعلیٰ معیار کا سوتی کپڑا تیار کرتی تھی۔ یہاں چمڑے کی جدید ٹینریز اور جوتے و بیگ بنانے کے کارخانے قائم تھے۔ تمباکو کی پروسیسنگ اور بیڑی و سگریٹ سازی کے یونٹس بھی کام کر رہے تھے۔ ادویات سازی کا کارخانہ اور ایک جدید پرنٹنگ پریس بھی قائم تھا۔ ہاتھ سے بنے قالین، روایتی سندھی دستکاری، کڑھائی والے کپڑے، سوسی اور اجرک بھی خیرپور کی خاص پہچان تھے۔
خیرپور میرس کا سب سے بڑا اور منفرد اعزاز تعلیم پر اخراجات تھے۔ قیامِ پاکستان کے وقت یہ ریاست اپنے کل بجٹ کا بائیس فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرتی تھی۔ پاکستان میں شامل ہونے والی تمام ریاستوں اور انتظامی اکائیوں میں یہ رقم سب سے زیادہ تھی اور ریاست میں میٹرک تک تعلیم بالکل مفت تھی۔
ریاست خیرپور کی خاتونِ اول غلام صدیقہ بیگم نے 1949 میں حیدرآباد دکن کا دورہ کیا۔ سینہ بسینہ روایت کے مطابق اس دورے میں وہ بنارس کے ساڑھی کے نامور تاجر محمد یوسف انصاری سے بھی ملیں اور خیرپور آنے کی دعوت دی۔
اس دعوت پر 1952 میں انصاری برادری کے تقریباً 40 خاندان بنارس چھوڑ کر خیرپور آ گئے۔
ریاست نے انہیں مستقل رہائش اور کارخانے فراہم کیے، جس سے بنارس کالونی وجود میں آئی۔ اس کالونی میں ہاتھ سے چلنے والی 400 سے زیادہ کھڈیاں لگ گئیں۔ یہاں خالص ریشم پر زری اور نقدی کا کام کر کے انتہائی نفیس بنارسی ساڑھیاں، دوپٹے اور دوسرے ملبوسات تیار کیے جاتے تھے۔ 1965 میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے بھی اس کالونی کا دورہ کیا۔
ون یونٹ قائم ہونے پر ریاست خیرپور کو مغربی پاکستان میں ضم کیا گیا تو یہ گویا زوال کا آغاز تھا۔
بعد میں سیاسی حالات اور حکومتی عدم توجہی کے باعث خیرپور کی صنعتیں تباہی کے راستے پر گامزن ہو گئیں، یہاں تک کہ بنارسی کپڑے کی وہ چھوٹی سی لیکن مضبوط گھریلو صنعت بھی دم توڑ گئی۔
اکثر کاریگر خاندان کراچی چلے گئے اور کھڈیوں کی کھٹ کھٹ خاموش ہو گئی۔ آج یہ حال ہے کہ خیرپور کی بنارس کالونی میں چند دکانیں ہی بچی ہیں اور وہ بھی کراچی سے مال منگوا کر فروخت کرتی ہیں
غلط سیاسی فیصلے کسی بھی سماج اور وہاں کے رہنے والوں کے لیےکتنے نقصان دہ ہوسکتے ہیں، ریاست خیر پور اس کی ایک مثال ہے۔ بقول شاعر
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

