میرا دوست، میرا بیٹا اور کیمسٹری

کیمسٹری

اس کا شمار میٹرک میں ہماری کلاس کے بہترین طالب علموں میں ہوتا تھا۔

میٹرک کے امتحان میں اے گریڈ حاصل کیا، نمبروں کے لحاظ سے شاید کلاس کے شروع کے پانچ طالب علموں میں آیا۔ اس کا داخلہ گورنمنٹ کالج ناظم آباد میں ہوا۔ میرا اچھا بی گریڈ تھا لیکن گورنمنٹ کالج میں داخلہ نہ مل سکا، شپ آنرز کالج جانا پڑا۔

ہم تقریباً ہر ہفتے کم از کم ایک بار تو ملتے ہی تھے۔ میرے لیے اس سے ملنا ایسے ہی تھا جیسے کسی باغ میں جا کر لمبے لمبے سانس لینا، پھیپھڑوں میں آکسیجن بھر لینا۔ اپنی ساری پریشانیاں، مسائل اسے سنا کر ہلکا پھلکا ہو جاتا۔ وہ کچھ نہ بھی بولے، خاموشی سے مسکراتا بھی رہے تو میرے لیے کافی تھا۔

ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا، اور سناؤ پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟

میں نے کہا، یار باقی تو سارے سبجیکٹ ٹھیک ہی ہیں لیکن کیمسٹری کے نوٹس نہیں بنے۔ آدھا سال گزر گیا اور میرا رجسٹر خالی ہے، سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔

اس نے رسان سے کہا، کوئی مسئلہ نہیں، میرے نوٹس مکمل ہیں، میرا رجسٹر لے جاؤ، اتار کر واپس کر دینا۔

میں تو خوش ہو گیا۔ اس کا رجسٹر ہاتھ میں آیا گویا مسئلہ حل ۔ کیا زبردست نوٹس تھے! موتیوں جیسی لکھائی، بہترین ہیڈ لائنز کے ساتھ صاف ستھرا مکمل کام۔ سمجھو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔

اس سے مل کر خوشی خوشی گھر پہنچا تو اچانک میرے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ یاد آیا کہ رجسٹر تو بس میں ہی بھول کر آ گیا ہوں۔ میں بھاگا بھاگا پاپوش نگر کے خلافت چوک والے ‘ٹوکے’ بس کے اسٹاپ پر پہنچا۔

ظاہر ہے بس وہاں ملنا تھی نہ ملی، اگلی بس پکڑ کر سیدھا ٹوکے کے آخری اسٹاپ سخی حسن پہنچ گیا۔ بس ڈھونڈنا شروع کی، ایک بس کا ڈیزائن دیکھ کر شبہ ہوا کہ شاید یہی تھی، فوراً اندر چڑھ گیا۔ پوری بس چھان ماری، رجسٹر نہ ملا۔

 ڈرائیور، کنڈیکٹر، ہیلپر سب سے پوچھ لیا، کوئی سراغ ہاتھ نہ آیا۔ وہاں موجود ایک ایک شخص سے، اسٹاپ کے عملے سے، مستریوں سے، یہاں تک کہ ہیروئنچیوں تک سے پوچھ لیا، لالچ بھی دیا لیکن کوئی امید بر نہ آئی۔

میں نے ابھی ہمت نہیں ہاری تھی۔ وہیں سے بس پکڑ کر ٹوکے کے دوسری سمت والے آخری اسٹاپ کیماڑی جانے کی ٹھانی۔ جب کیماڑی پہنچا تو شام ڈھل چکی تھی۔ اندھیرا مجھے اور ڈرا رہا تھا۔ کیماڑی کے بس اسٹاپ پر بھی جو جو ملا، ہر ایک سے پوچھا لیکن میری تاریکی روشنی میں نہ بدلی۔

بہت مایوس اور دل گرفتہ گھر لوٹ آیا، ہمت اب بھی نہیں ہاری تھی۔ اگلے کئی دن سخی حسن اور کیماڑی بس اسٹاپ کے کئی چکر لگائے، ایک ایک سے پوچھا، کونا کونا کریدا، سیٹ سیٹ ٹٹولی، لیکن میرا ’گمشدہ خزانہ‘ ہاتھ نہ آیا۔ اب میں نے مایوسی کے عالم میں تھک کر ہار مان لی تھی۔

یہ ساری کہانی مجھے کل رات یاد آئی جب میرا ’پڑھاکو‘ بیٹا کیمسٹری کے ٹیسٹ کی وجہ سے پریشان تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ایک رات میں ساری تیاری کر لے گا، لیکن جب آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلا تو نانی یاد آ گئی۔

 گھر پہنچا تو وہ میرا انتظار کر رہا تھا کہ میں کچھ تسلی دوں، کوئی راستہ نکالوں۔

میں نے کہا: ‘دیکھو بیٹا! ہزاروں سال میں کیمسٹری یہاں تک پہنچی ہے، تمہارا کیا خیال ہے ایسا آنکھ جھپکتے یا کھیل کھیل میں ہو گیا؟ یہ ہزاروں انتہائی باصلاحیت اور ذہین سائنسدانوں کی محنتِ شاقہ کا نتیجہ ہے۔

‘انہوں نے رات دیکھا نہ دن، خوشی نہ غمی، آسانی نہ مشکل، اپنی زندگیاں، اپنی آسائشیں سب قربان کر دیں۔

‘کیمسٹری کے چھوٹے چھوٹے فارمولے، مالیکیولر بانڈ جنہیں آج تم سامنے دیکھ کر رٹ لیتے ہو، پتہ نہیں کتنی بے خواب راتوں کی دین ہیں۔ تم کیا اسے آسان سمجھ رہے ہو؟ نہیں میرے بیٹے، یہ ان عظیم سائنسدانوں کی قربانیوں اور مشقتوں کا ثمرہ ہیں۔ تم ایک رات میں کیسے ان سب کو گھول کر پی سکتے ہو؟

یہ تو ان سب عظیم لوگوں کی ناقدری اور بے احترامی ہو گی۔ انہوں نے جتنی محنت کی اس کا پانچ فیصد تو لگاؤ۔ سب سے پہلے تو اپنے دل میں ان کی قدر اور احترام کا جذبہ جگاؤ، پھر احساسِ تشکر کے ساتھ پڑھنے بیٹھو۔’

میں نے اسے فیثا غورث کا وہ واقعہ بھی یاد دلایا جب ایک یونانی شہزادے نے ریاضی سیکھنے کا آسان طریقہ پوچھا تو فیثا غورث نے کہا، شہزادہ معظم! ریاضی کی طرف کوئی ’شاہی‘ راستہ نہیں جاتا۔

میرے دوست کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت تو میں نے کسی نہ کسی طرح اسے رجسٹر کھونے کا بتا دیا، اس نے صرف اتنا کہا، ابے یار! یہ تم نے کیا کیا۔ وہ تو میری سال بھر کی محنت تھی۔ چلو خیر کوئی بات نہیں، اب کیا ہو سکتا ہے۔

یوں بات آئی گئی ہو گئی۔

کوئی دو مہینے بعد میرے دوست نے پھر پوچھا، اور سناؤ پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟

اتفاق دیکھیے، میرا وہی مکالمہ تھا، یار باقی سارے سبجیکٹ تو ٹھیک ہی ہیں، بس کیمسٹری کے نوٹس نہیں بنے۔

اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے کہا، چلو تم میرے نوٹس لے لو، اتار کر رجسٹر واپس کر دینا۔

مجھے حیرت سے خود کو گھورتا پا کر وہ بھی چونکا اور بولا، ارے ہاں! یاد آیا، تم نے پہلے بھی تو میرا رجسٹر کھو دیا تھا، خیر کوئی بات نہیں اس بار احتیاط سے رکھنا۔

تم کیا انسان ہو یار! احساسِ تشکر سے میری آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ اس بار میں نے اس کا رجسٹر جان سے بھی زیادہ سنبھال کر رکھا۔

کیا میں نے آپ کو بتایا ہے کہ میرے اس انتہائی بلند حوصلہ، ہمدرد، پرمحبت، ذہین اور محنتی دوست کا نام کیا ہے؟ اس کا نام بشیر احمد چانڈیو ہے اور وہ قاضی احمد کا رہنے والا ہے۔