انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کی جدوجہد کے دوران ایک الگ آزاد ریاست، پاکستان، کا تصور بنیادی طور پر ’اکثریت اور اقلیت‘ کے سوال کے تناظر میں سامنے آیا، کیونکہ مسلمان خود کو ایک اقلیت سمجھتے تھے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ کانگریس ایک مضبوط مرکز کی حامی تھی اور ایسے مضبوط مرکزی نظام میں مسلمانوں کی حیثیت بہرحال اقلیت ہی کی رہتی۔ چنانچہ مسلمانوں کا سیاسی نعرہ اور نظریہ ’کمزور مرکز اور خودمختار ریاستیں‘ قرار پایا۔
یہ تصور آگے چل کر 1940 کی تاریخی قرارداد میں تحریری شکل اختیار کر گیا، جو پاکستان کی پہلی نظریاتی بنیاد تھی۔ یہ قرارداد سندھ ہی میں منظور ہوئی اور اس پر سندھ کی بھی توثیق شامل تھی۔
قرارداد کے تحت دیگر صوبوں اور ریاستوں کی طرح سندھ کو بھی ایک خودمختار صوبائی حیثیت حاصل تھی۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر ہمارا پیارا پاکستان وجود میں آیا۔
79 برس گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی ہر صوبہ مکمل خودمختاری کا منتظر ہے۔ مسلمان سیاسی رہنماؤں نے ہندوستان میں جس مضبوط مرکز کے خلاف اپنا نظریاتی مؤقف اختیار کرکے جدوجہد کی تھی، وہی مضبوط مرکزی نظام پاکستان میں نافذ کر دیا گیا۔
اسی لیے سندھ کے متحرک لیڈر محترم رسول بخش پلیجو کہا کرتے تھے: ’پاکستان ابھی تک آزاد ہی نہیں ہوا۔‘
ہر دور میں انگریز نواز نام نہاد امیرالمؤمنین اپنے اپنے طوطے چھوڑتے رہے ہیں؛ کبھی اس ملک میں اسلامی جمہوریت کے قیام کا نعرہ لگایا گیا، کبھی ون یونٹ نافذ کیا گیا، کبھی روحانی مساوات کی بات ہوئی اور کبھی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے دعوے کیے گئے۔
تین آئینی مسودوں کے بعد 1973 کا آئین بھی ایک کمزور اکثریت کے ساتھ منظور ہوا، لیکن اسے آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔ اوسطاً ہر ڈھائی سال بعد ایک آئینی ترمیم ہوتی رہی ہے؛ اب، 79 برس بعد، 28ویں ترمیم بھی زیرِ بحث ہے۔
گزشتہ دو برس سے ایک بار پھر نئے طوطے میدان میں اتار دیے گئے ہیں اور مسلسل یہ راگ الاپا جا رہا ہے کہ ’نئے صوبے اور نئے انتظامی یونٹ بنانا ناگزیر ہے، ورنہ ملک نہیں چل سکتا۔‘ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ’ملک کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔‘
سائیں! 79 برس سے کس نے کہا ہے کہ ملک صحیح طور پر چل رہا ہے، جو آپ آج ہمیں بتا رہے ہیں؟ ملک کیسے درست انداز میں چلے گا، جب آپ نے ملک چلانے کے بنیادی اصول، یعنی ’صوبائی خودمختاری‘، کو ہی نافذ کرنا بھلا دیا ہے؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ لاہور کے بلڈرز اور بعض صحافی سندھ کو تقسیم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، گویا کوئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر اس کے بلاکس تقسیم کرنے ہوں۔ راتوں رات لوگ دانشور بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔ دانشور بننے کے لیے علم سے روشنی کشید کرنے کے بجائے صرف ایک ’دانشورانہ واسکٹ‘ پہننا اور اپنا ٹیلی ویژن پروگرام حاصل کرنا کافی سمجھا جاتا ہے۔
جہاں تک اختیارات کو نچلی اور بنیادی سطح تک منتقل کرنے کا تعلق ہے، اس کے لیے بلدیاتی نظام پہلے سے موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات منتقل کریں۔ یہ ادارے 1980 تک خاصے مؤثر تھے، لیکن اس کے بعد انہیں بتدریج کمزور کیا گیا۔
سندھ میں آج صورتِ حال یہ ہے کہ بجٹ بھی بظاہر مناسب مختص کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقی اخراجات انتہائی کم ہوتے ہیں۔ سرکاری افسران، ایڈمنسٹریٹرز اور مقامی بااثر افراد مل کر بجٹ کے وسائل ہڑپ کر جاتے ہیں۔
دوسری طرف صفائی ستھرائی کی صورتِ حال بدترین ہو چکی ہے۔ نالیاں ابل کر گلیوں کو نالوں میں تبدیل کر چکی ہیں۔ صفائی کے کارکن بھوک اور بدحالی کا شکار ہو کر ختم ہو گئے، جبکہ خاکروبوں کی نئی بھرتیوں میں سید، لغاری، مخدوم، قریشی اور دیگر بااثر خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں سے بعض مقامی پارلیمانی نمائندوں کے رشتہ دار بھی ہیں۔
الزام یہ ہے کہ صفائی کی بیشتر آسامیوں پر انہی لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے، جو عملی طور پر صفائی کا کام انجام نہیں دیتے لیکن گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ سندھ کے بیشتر شہر گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ تمام متعلقہ ادارے اس صورتِ حال کو خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں اور پھر یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ’پورا نظام ناکام ہو چکا ہے، اس لیے نئے صوبے بنانے ہوں گے۔‘
سندھ میں مجموعی طور پر 3,472 مقامی حکومت کے ادارے ہیں، جن میں 1,736 یونین کونسلیں، 1,170 یونین کمیٹیاں، 351 ٹاؤن کمیٹیاں، 146 میونسپل کمیٹیاں، 34 ضلعی کونسلیں، 24 میونسپل کارپوریشنیں، 10 میٹروپولیٹن/ضلعی میونسپل کارپوریشنیں اور ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن شامل ہیں۔
مالی سال 2025-26 کے لیے سندھ حکومت کے محکمۂ بلدیات کا مجموعی بجٹ 327.89 ارب روپے ہے۔ اس میں 204.26 ارب روپے خدمات کی فراہمی جبکہ 123.63 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
مجموعی رقم میں سے 165 ارب روپے مقامی اداروں کو منتقل کرنے کے لیے، 132 ارب روپے سندھ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت بلدیاتی شعبے کے لیے، جبکہ محکمۂ بلدیات کے مخصوص ترقیاتی پورٹ فولیو کے تحت 765 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 78.087 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
دنیا کے کامیاب ممالک کا تجربہ اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ بااختیار اور مضبوط مقامی حکومت ہی اچھی حکمرانی، عوامی فلاح و بہبود اور شہری ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ، جرمنی، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور جاپان جیسے ممالک میں اختیارات، وسائل اور ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں نچلی سطح تک منتقل کیا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں صفائی، شہری نظم و نسق، بنیادی سہولیات، شہری منصوبہ بندی اور عوامی خدمات کے معیار میں بہتری آئی ہے۔
جب فیصلے عوام کے قریب کیے جائیں، وسائل مقامی سطح پر دستیاب ہوں اور ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں تو حکمرانی زیادہ مؤثر اور عوامی فلاح و بہبود زیادہ یقینی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا مضبوط، خودمختار، مالی طور پر مستحکم اور جواب دہ بلدیاتی ادارے کسی بھی جدید اور عوام دوست نظامِ حکمرانی کے بنیادی ستون ہیں۔
اب پاکستان کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کیا جائے۔ نت نئے تجربات سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا، جیسا کہ 1971 میں ہوا۔ حکومت عوام کی حقیقی منتخب کردہ ہونی چاہیے۔ فارم 47 کا سہارا نہ ہو، بیلٹ پیپرز میں ہاتھ سے ردوبدل کی گنجائش نہ ہو اور انتخابات بایومیٹرک نظام کے تحت کرائے جائیں، جس کی سہولت اب ہر گاؤں تک دستیاب ہے۔
آج ہر گاؤں میں سم کارڈ فروخت ہوتے ہیں اور جہاں سم کی تصدیق کے لیے بایومیٹرک مشین موجود ہے، وہاں بایومیٹرک ووٹنگ کا نظام بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
بایومیٹرک ووٹنگ کے نظام کے نفاذ کی راہ میں وڈیرے رکاوٹ ہیں، کیونکہ سندھ کو موجودہ حالت تک پہنچانے کے بعد وہ شفاف اور براہِ راست انتخابی عمل کے ذریعے شاید دوبارہ منتخب نہ ہو سکیں۔ دوسری جانب ممکن ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی نئی قیادت اور نئے لوگوں کی ضرورت محسوس نہ ہوتی ہو۔ اسی لیے ملک کو مسلسل تجربہ گاہ بنائے رکھا گیا ہے۔
اسی طرح پانی کی پیمائش کے لیے جدید الیکٹرانک نظام بھی دستیاب ہیں، جنہیں ہر دریا، ندی اور نہر پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے طے شدہ حصے کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے اور پانی کی قلت کو بھی باہمی اتفاقِ رائے سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
سمندر اور ڈیلٹا کو بھی تمام صوبے مل کر محفوظ بنا سکتے ہیں۔ جب سمندر سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد میں سب اپنا حصہ لے سکتے ہیں تو پھر سمندر اور ڈیلٹا کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سب کو مل کر ادا کرنا ہوگی۔
جب سمندر آپ کو بخارات اور بادلوں کے ذریعے میٹھا پانی دیتا ہے تو آپ کو بھی اس کو اور اس کے ڈیلٹا کو پانی دینا پڑے گا۔

