گیارہ ستمبر 2012 کی شام کراچی کے صنعتی علاقے بلدیہ میں ایک گارمنٹ فیکٹری سے اٹھنے والے دھویں نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسا سانحہ جنم دیا جس نے سیکڑوں خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دیں۔
علی انٹرپرائزز نامی فیکٹری میں اس وقت 600 سے زیادہ مزدور موجود تھے جب خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ بہت سے مزدوروں کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ 256 مزدور جاں بحق اور تقریباً 55 زخمی ہوئے۔
سانحے کے بعد سامنے آنے والی مختلف تحقیقات میں فیکٹری میں حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ فیکٹری میں بڑی تعداد میں مزدور موجود تھے، لیکن ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کے مناسب راستے موجود نہیں تھے۔ بعض کھڑکیوں پر لوہے کی گرلیں لگی ہوئی تھیں اور متعدد راستے بند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ نتیجتاً آگ تیزی سے پھیلی تو مزدوروں کی بڑی تعداد عمارت کے اندر پھنس گئی۔
ابتدائی طور پر پولیس کی کارروائی کا مرکز فیکٹری مالکان اور انتظامیہ تھی۔ مالکان عبدالعزیز بھائلہ اور ان کے بیٹوں سمیت بعض دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ بعد میں کیس کی تحقیقات نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور فیکٹری کو مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے پر آگ لگانے کے الزام کی بات سامنے آئی۔
کچھ خاندانوں نے اپنے بیٹے کھوئے، کچھ نے شوہر، کچھ نے باپ اور کچھ بچوں نے اپنا واحد سہارا۔ اس ایک شام نے کراچی کے سیکڑوں گھروں میں ایسا خلا پیدا کیا جو برسوں بعد بھی پُر نہیں ہوسکا۔
لیکن بلدیہ فیکٹری کا سانحہ صرف ایک آگ کی کہانی نہیں۔ یہ مزدوروں کے حقوق، صنعتی تحفظ، سیاسی الزامات، عدالتی کارروائی اور معاوضے کے لیے کئی برس تک جاری رہنے والی جدوجہد کی داستان بھی ہے۔
سانحے کے بعد مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، نے فوری طور پر متاثرہ خاندانوں اور زخمی مزدوروں کے ساتھ کام شروع کیا۔
تنظیم نے نہ صرف ریاستی اداروں کے ردعمل کا جائزہ لیا بلکہ یہ جاننے کی بھی کوشش کی کہ آخر فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور کن حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔
پائلر کی رپورٹ کے مطابق فیکٹری میں تقریباً 2 ہزار مزدور کنٹریکٹ اور پیس ریٹ کی بنیاد پر کام کر رہے تھے، مگر ان میں سے صرف 250 ای او بی آئی اور 268سیسی میں رجسٹرڈ تھے۔ زیادہ تر مزدوروں کے پاس باقاعدہ تقرری کے خطوط نہیں تھے۔ انہیں طبی اور گروپ انشورنس کی سہولت بھی حاصل نہیں تھی۔
مزدور روزانہ اوسطاً 11 سے 14 گھنٹے کام کرتے تھے۔ فیکٹری میں یونین سازی پر پابندی تھی جبکہ کنٹریکٹ مزدوروں کو ہفتہ وار چھٹی بھی حاصل نہیں تھی۔
یہ اعداد و شمار اس سانحے کے ایک اور پہلو کو سامنے لاتے ہیں۔ آگ سے پہلے بھی مزدور ایک ایسے نظام میں کام کر رہے تھے جہاں ان کے بنیادی حقوق اور سماجی تحفظ محدود تھا۔
آگ کے بعد تحقیقات اور الزامات
حادثے کے فوراً بعد فیکٹری مالکان کے خلاف کارروائی شروع ہوئی۔ حکومت نے ابتدا میں مالکان کو گرفتار کیا، تاہم بعد میں وہ رہا ہوگئے اور ملک سے باہر چلے گئے۔
بعد ازاں مقدمے کی تحقیقات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ یہ الزام سامنے آیا کہ فیکٹری مالکان سے بھتہ طلب کیا گیا تھا اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر فیکٹری کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔
اس الزام کے نتیجے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے وابستہ بعض افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور عدالت سے انہیں سزائیں بھی سنائی گئیں۔
یہ مقدمہ برسوں تک ملکی سیاست اور عدالتوں میں زیر بحث رہا۔ ایک طرف استغاثہ کا مؤقف تھا کہ فیکٹری کو بھتہ نہ دینے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری جانب ملزمان اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے رہے۔
2026 میں سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کے دو کارکنوں، عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چڑیا، کی سزائیں ختم کرتے ہوئے انہیں بری کردیا۔ تین رکنی بینچ نے قرار دیا کہ استغاثہ کے شواہد ملزمان کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے اور انہیں شک کا فائدہ دیا گیا۔
عدالت کے سامنے یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ دونوں ملزمان کو ابتدائی ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا۔ دفاع کی جانب سے یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ اس رپورٹ کو سزائے موت دینے کے لیے قابل اعتماد قانونی ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
یوں بلدیہ فیکٹری سانحے میں بھتہ خوری اور سیاسی جماعت کے ملوث ہونے کا الزام ایک طویل قانونی عمل کے بعد بھی قطعی طور پر ثابت نہ ہوسکا۔ اس صورتحال نے اس سانحے کی تحقیقات اور عدالتی نظام کے بارے میں ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے۔
یوں فیکٹری آتشزدگی کے حوالے سے بھتہ خوری اور سیاسی مداخلت کے الزامات ایک طویل عدالتی عمل سے گزرے، لیکن دو اہم ملزمان کو بالآخر شواہد کی کمی کے باعث بری کردیا گیا۔
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن (این ٹی یو ایف) کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور کے مطابق اصل ملزم علی انٹرپرائیز کے مالکان تھے، مگر وہ ایم کیو ایم پر الزام لگا کر ملک سے باہر فرار ہوگئے اور حکومت نے ان کے خلاف کیسز بھی ختم کردیے۔
انصاف کی ایک اور جنگ
فوجداری مقدمہ اپنی جگہ چل رہا تھا، لیکن متاثرہ خاندانوں کے سامنے ایک فوری مسئلہ بھی تھا۔ جن لوگوں نے اپنے کمانے والے افراد کھو دیے تھے، وہ اپنے گھروں کا خرچ کیسے چلاتے؟ زخمی ہونے والے مزدور علاج کیسے کراتے؟ اور ان خاندانوں کا مستقبل کیا ہوگا جن کے بچے اچانک باپ یا بڑے بھائی سے محروم ہوگئے تھے؟
مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پائلر نے اسی سوال کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔
تنظیم نے دیگر مزدور تنظیموں کے ساتھ مل کر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور حادثے کی تحقیقات، لاشوں کی شناخت، متاثرین کو انصاف اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے قانونی کارروائی شروع کی۔ متاثرین کے معاوضے کے لیے بھی عدالت سے رجوع کیا گیا۔
قانونی کوششوں کے نتیجے میں سندھ ہائی کورٹ نے فیکٹری مالکان کو فوری امداد کے طور پر 61.8 ملین روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔
مقامی مخیر حضرات نے بھی 5.7 ملین روپے فراہم کیے۔ مجموعی طور پر 165.475 ملین روپے سندھ ہائی کورٹ کے کمیشن کے پاس جمع ہوئے تاکہ یہ رقم جاں بحق مزدوروں کے ورثا اور زخمی مزدوروں میں تقسیم کی جاسکے۔
یہ فوری امداد اہم تھی، لیکن متاثرین کے مسائل صرف چند ماہ یا چند سال کے نہیں تھے۔ جن خاندانوں نے اپنے کفیل کھوئے تھے، ان کے لیے مستقل آمدنی کا مسئلہ بدستور موجود تھا۔
اسی مقام سے معاوضے کی ایک نئی اور طویل جنگ شروع ہوئی۔
علی انٹرپرائزز سے تیار ہونے والے کپڑے عالمی مارکیٹ کا حصہ تھے۔ اس پس منظر میں پائلر کے بین الاقوامی شراکت داروں نے جرمنی کے برانڈ KiK Textilien سے رابطہ کیا۔ مزدوروں کے حقوق کی عالمی مہم چلانے والی تنظیم کلین کلوتھس کیمپین (CCC) سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد سے یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا گیا۔
پائلر اور جرمن کمپنی کے درمیان مذاکرات ہوئے اور کمپنی نے متاثرین کے لیے فوری امداد فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
جرمن کمپنی کے آئی کے نے 10 لاکھ امریکی ڈالر فوری امداد کے طور پر دیے۔ یہ رقم سندھ ہائی کورٹ کے قائم کردہ جسٹس (ریٹائرڈ) رحمت حسین جعفری کی معاوضہ کمیشن میں جمع کرائی گئی تاکہ جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں اور زخمی کارکنوں کی مدد کی جاسکے۔
عدالتی کمیشن نے متاثرین کا ریکارڈ کیسے تیار کیا؟
معاوضے کی رقم کسی اندازے یا غیر رسمی فہرست کی بنیاد پر تقسیم نہیں کی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایک باقاعدہ معاوضہ کمیشن قائم کیا جس کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس رحمت حسین جعفری نے کی۔
اپریل 2013 میں کمیشن نے معاوضے کی تقسیم کا عمل باضابطہ طور پر شروع کیا۔
اس سے پہلے جاں بحق اور زخمی مزدوروں کی سرکاری فہرست مکمل کی گئی۔ اس فہرست میں 256 تصدیق شدہ جاں بحق افراد اور 55 زخمی مزدور شامل تھے۔
متاثرہ خاندانوں کو اپنے دعوے کے لیے ضروری دستاویزات کمیشن کے سامنے جمع کرانا پڑیں۔ متاثرین کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا، جن میں جاں بحق افراد کے ورثا، معذور افراد، شدید زخمی اور معمولی زخمی مزدور شامل تھے۔
رقم کی تقسیم کا پورا عمل مکمل ہونے میں تقریباً ایک سال لگا۔
اس عمل نے یہ بھی ثابت کیا کہ کسی بڑے سانحے کے بعد صرف رقم فراہم کرنا کافی نہیں ہوتا۔ اصل چیلنج یہ ہوتا ہے کہ درست رقم درست شخص تک کیسے پہنچائی جائے۔
فوری معاوضہ تقسیم ہونے کے باوجود پائلر نے اپنی جدوجہد ختم نہیں کی۔ وجہ واضح تھی۔ ایک مزدور کی موت سے اس کا خاندان صرف اس دن متاثر نہیں ہوتا جس دن حادثہ پیش آتا ہے۔ اس کے بعد برسوں تک بچوں کی تعلیم، گھر کا خرچ، علاج، رہائش اور روزمرہ زندگی کے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔
اسی لیے پائلر نے 2014 میں KiK Textilien سے طویل مدتی معاوضے کے لیے دوبارہ مذاکرات شروع کیے۔ابتدا میں کمپنی مزید معاوضہ دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ مذاکرات میں تاخیر ہوئی اور معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔اس کے بعد پائلر اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں نے ایک وسیع عالمی مہم شروع کردی۔
متاثرہ خاندانوں کے افراد کو جرمنی لے جایا گیا۔ کمپنی کے نمائندوں کے علاوہ جرمن وزارت ٹیکسٹائل، جرمن پارلیمنٹ کی کمیٹیوں، جرمن ٹریڈ یونینوں، ILO اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملاقاتیں کی گئیں۔
پاکستان میں بھی یورپی یونین کے انسانی حقوق کے وفد، جرمن پارلیمنٹ کے وفد، آئی ایل او اور کمپنی کے نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
یہ ایک ایسے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش تھی جس میں کراچی کے ایک صنعتی حادثے کے متاثرین اور عالمی مارکیٹ میں کپڑے فروخت کرنے والی کمپنی کے درمیان تعلق کو سامنے لایا گیا۔
کئی سال کی مہم، مذاکرات اور کوششوں کے بعد جرمن وزارت کی مدد سےجرمن کمپنی KiK Textilien طویل مدتی معاوضہ دینے پر رضامند ہوگئی۔ اس مرحلے پر آئی ایل او سے درخواست کی گئی کہ وہ متاثرین کے طویل مدتی معاوضے کا حساب لگائے۔ آئی ایل او کا تحقیقاتی مشن پاکستان آیا۔ متاثرین اور ان کے حالات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد معاوضے کا حساب جنیوا میں کیا گیا۔پائلر اور این ٹی یو ایف نے اس پورے عمل میں سہولت فراہم کی۔
بالآخر سانحے کی چوتھی برسی، یعنی 11 ستمبر 2016 کو طویل مدتی معاوضے کا معاہدہ طے پا گیا۔
معاہدے کے تحت KiK نے مجموعی طور پر 51 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر طویل مدتی معاوضے کے لیے فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ رقم متاثرین کو ایک مرتبہ دینے کے بجائے زندگی بھر پنشن کے نظام کے ذریعے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پنشن اور رقم کی تقسیم کی نگرانی کے لیے ایک اوور سائٹ کمیٹی قائم کی گئی جس کی سربراہی آئی ایل او جنیوا نے کی، جبکہ مزدور تنظیمیں اس کے اراکین تھیں۔
سندھ سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشنز (سیسی) کے ذریعے متاثرین کے خاندانوں کو ہر مہینے پینشن مہیا کی جارہی ہے۔
بلدیہ فیکٹری سانحے کو 14سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کی یاد اب بھی کراچی کے مزدور طبقے اور متاثرہ خاندانوں میں زندہ ہے۔
یہ سانحہ اس سوال کو بھی سامنے لاتا ہے کہ پاکستان میں صنعتوں اور کام کرنے کے مقامات پر مزدور کتنے محفوظ ہیں اور آگ لگنے کی صورت میں انسانی جانوں کے بچائو کے لیے کتنے انتظامات ہیں؟
ایک سانحہ، ایک سبق
بلدیہ فیکٹری میں بجھنے والے 256 چراغ واپس نہیں آسکتے۔ زخمی مزدوروں کی تکلیف بھی ختم نہیں ہوسکتی اور ان خاندانوں کا دکھ بھی مکمل طور پر کم نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔
لیکن اس سانحے نے پاکستان کے صنعتی شعبے کے سامنے ایک واضح سبق ضرور رکھا۔
مزدور صرف فیکٹری میں کام کرنے والا ایک نمبر نہیں۔ وہ ایک خاندان کا کفیل، کسی بچے کا باپ، کسی ماں کا بیٹا، کسی عورت کا شوہر اور کسی گھر کی امید ہوتا ہے۔
اس لیے محفوظ کام کی جگہ، مناسب حفاظتی انتظامات، قانونی ملازمت، سماجی تحفظ، انشورنس اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کسی رعایت کا نام نہیں بلکہ ان کا حق ہیں۔
11 ستمبر کو سندھ میں ہر سال سیفٹی اینڈ ہیلتھ ڈے (صحت و سلامتی کا دن) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد بلدیہ فیکٹری سانحے میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ کام کی جگہوں پر مزدوروں کی حفاظت اور صحت کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر مزدور کو محفوظ ماحول میں کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ فیکٹریوں اور دیگر صنعتی اداروں میں حفاظتی انتظامات، ہنگامی راستوں، آگ سے بچاؤ کے آلات، مناسب تربیت اور صحت کی سہولتوں کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی خاندان کو اپنے پیارے کی جان سے محروم نہ ہونا پڑے۔
اس سانحے کو 14 برس گزر چکے ہیں، لیکن کام کی جگہوں پر مزدوروں کی زندگی آج بھی محفوظ نہیں۔ اس عرصے کے دوران درجنوں دیگر فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جن میں کئی مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، مگر بلدیہ فیکٹری سانحے کے بعد بھی حالات میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آسکی۔
سرکاری سطح پر لیبر انسپیکشن کا فرسودہ نظام آج بھی اپنی پرانی روش پر قائم ہے، جبکہ فیکٹریوں میں حفاظتی قوانین پر عمل درآمد ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ 14 برس گزرنے کے باوجود مزدوروں کی جان کی قیمت اور ان کی حفاظت کے معاملے میں نظام نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

