سندھ کے ضلع خیرپور کے شہر گمبٹ میں قائم پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جدید روبوٹک سرجری کے ذریعے پیچیدہ آپریشن کرنے والے سرکاری طبی اداروں میں شامل ہو گیا ہے۔
گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، جسے جی آئی ایم ایس بھی کہا جاتا ہے، میں جنوبی کوریا کی طبی روبوٹکس کمپنی کیوریکسو کے تیار کردہ 2 روبوٹک نظام نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں کیووس جوائنٹ گھٹنوں کی تبدیلی جبکہ کیووس اسپائن ریڑھ کی ہڈی کے آپریشنز میں سرجن کی معاونت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ نظام جنوری 2026 میں نصب کیے گئے، جس کے بعد متعلقہ طبی عملے کی تربیت بھی کی گئی۔ روبوٹک ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرجری کا فیصلہ اور بنیادی عمل سرجن ہی انجام دیتا ہے، جبکہ روبوٹک نظام ڈاکٹر کو آپریشن کے مختلف مراحل میں زیادہ درستگی اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
گھٹنے کی تبدیلی کے آپریشن میں کیووس جوائنٹ نظام ہڈی کی کٹائی، الائنمنٹ اور مصنوعی جوڑ کی درست پوزیشن طے کرنے میں سرجن کی مدد کرتا ہے۔
جی آئی ایم ایس نے جون 2026 میں روبوٹک ٹوٹل نی ریپلیسمنٹ کا مفت پروگرام بھی شروع کیا۔ اس پروگرام کے تحت موزوں اور مستحق مریضوں کو گھٹنے کی روبوٹک سرجری، ادویات اور ہسپتال میں داخلے سمیت علاج کی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہیں۔ مریضوں کا ابتدائی معائنہ اور دستاویزات کی جانچ کے بعد آپریشن کے لیے انتخاب کیا جاتا ہے۔
روبوٹک ٹیکنالوجی کا استعمال صرف آرتھوپیڈک سرجری تک محدود نہیں رہا۔ جولائی 2026 میں جی آئی ایم ایس میں نیم فعال روبوٹک نیورو اسپائن سرجری بھی کی گئی، جسے ادارے نے پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کامیاب سرجری قرار دیا۔
ریڑھ کی ہڈی کی پیچیدہ سرجری میں روبوٹک نظام سرجن کو زیادہ درست رہنمائی اور کنٹرول فراہم کرتا ہے، جس سے ایسے آپریشنز میں معاونت ملتی ہے جہاں سرجیکل درستگی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
جی آئی ایم ایس میں روبوٹک سرجری کا آغاز ادارے کی کئی برسوں پر محیط طبی ترقی کا اگلا مرحلہ ہے۔ یہ سرکاری ادارہ پہلے ہی جگر اور گردے کی پیوند کاری سمیت پیچیدہ طبی علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
گمبٹ میں روبوٹک سرجری کی سہولت اس لیے بھی اہم ہے کہ جدید طبی ٹیکنالوجی کو سرکاری شعبے میں مستحق مریضوں کے لیے مفت علاج کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان میں جدید سرجری کی سہولیات تک عام مریضوں کی رسائی کے حوالے سے ایک نئی مثال سامنے آتی ہے۔
