[rank_math_breadcrumb]

جانوروں کی بیماریوں کی تشخیص، ویکسین کی تیاری والا پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ

کراچی کے کورنگی صنعتی علاقے میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ، جسے عام طور پر ایس آئی اے ایچ کہا جاتا ہے، سندھ میں جانوروں کی صحت، بیماریوں کی تشخیص، تحقیق اور ویکسین کی تیاری کے حوالے سے ایک اہم سرکاری ادارہ ہے۔

یہ ادارہ صرف مویشیوں کی بیماریوں تک محدود نہیں بلکہ پولٹری، پالتو جانوروں، جنگلی حیات اور آبی حیوانات کی صحت سے متعلق بھی مختلف شعبوں میں کام کرتا ہے۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کا موجودہ ادارہ جاتی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اس ادارے کا قیام 1970 میں ہوا، جبکہ 1995 میں یہاں سندھ پولٹری ویکسین سینٹر قائم کیا گیا۔ بعد ازاں 2018 میں اس کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اسے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کی شکل دی گئی۔

اس ادارے کی ایک اہم ذمہ داری جانوروں میں پھیلنے والی بیماریوں کی بروقت تشخیص ہے۔

پولٹری کے شعبے میں یہاں نیوکاسل، ایویئن انفلوئنزا، گمبورو اور انفیکشیئس برونکائٹس سمیت مختلف بیماریوں کی تشخیص اور ان کے تدارک کے لیے ویکسین سے متعلق کام کیا جاتا ہے۔

مویشیوں کی بیماریوں کی تشخیص کے ساتھ ساتھ ادارے میں پالتو جانوروں اور جنگلی حیات سے متعلق بیماریوں پر بھی تحقیق کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک ہی ادارے کے دائرہ کار میں گھریلو جانوروں سے لے کر جنگلی اور آبی حیوانات تک مختلف اقسام کے جانور شامل ہیں۔

ادارے کا ایکوا ہیلتھ ڈویژن مچھلیوں اور دیگر آبی حیوانات کی صحت سے متعلق امور پر کام کرتا ہے۔ یہ شعبہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ آبی حیوانات میں بیماریوں کی بروقت تشخیص مچھلی کی پیداوار اور آبی زراعت سے وابستہ لوگوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

ایس آئی اے ایچ میں بیماریوں کی تشخیص کے لیے مختلف جدید لیبارٹریز بھی موجود ہیں، جہاں خون، ٹشوز اور دیگر حیوانی نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے۔

یہاں پی سی آر سمیت مختلف تشخیصی طریقوں کے ذریعے بیماریوں کی شناخت کی جاتی ہے، جبکہ دودھ، گوشت اور انڈوں سمیت حیوانی مصنوعات کے نمونوں کی مائکرو بایولوجیکل جانچ بھی کی جاتی ہے۔

اس کام کی اہمیت صرف جانوروں تک محدود نہیں۔

جانوروں میں پائی جانے والی متعدد بیماریاں انسانوں تک بھی منتقل ہوسکتی ہیں، جبکہ دودھ، گوشت اور انڈوں جیسی حیوانی مصنوعات براہ راست انسانی خوراک کا حصہ ہیں۔ اس لیے جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، خوراک میں جراثیمی آلودگی کی جانچ اور محفوظ حیوانی مصنوعات کی فراہمی کا تعلق انسانی صحت سے بھی جڑ جاتا ہے۔

ایس آئی اے ایچ کا ایک اہم شعبہ ویکسین کی تیاری بھی ہے۔

ادارے میں پولٹری اور مویشیوں کے لیے مختلف ویکسین تیار کی جاتی ہیں، جبکہ نئی ویکسین اور بیماریوں کی تشخیص کے بہتر طریقوں پر تحقیق بھی کی جاتی ہے۔ اس نوعیت کی مقامی ویکسین کی تیاری بیماریوں پر قابو پانے

کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس سے مقامی حالات اور یہاں پائی جانے والی بیماریوں کو سامنے رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

ادارے کے کام کا ایک حساس پہلو سانپ کے کاٹنے سے متعلق بھی ہے۔ یہاں سانپ کے زہر کے خلاف استعمال ہونے والی اینٹی وینم ویکسین کی تیاری بھی کی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں کورنگی میں قائم اس ادارے کی ویٹرنری سہولیات میں مزید شعبے شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں پیٹ ہسپتال، ڈیری، اینالیٹیکل لیبارٹری اور پیراسائٹولوجی لیبارٹری شامل ہیں۔

پیٹ ہسپتال کے ذریعے پالتو جانوروں کی تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ ڈیری سے متعلق شعبہ مویشیوں اور دودھ کی پیداوار سے جڑے معاملات میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

اینالیٹیکل لیبارٹری مختلف نمونوں کے تجزیے میں مدد دیتی ہے، جبکہ پیراسائٹولوجی لیبارٹری جانوروں میں پائے جانے والے مختلف طفیلی جراثیم اور کیڑوں سے متعلق بیماریوں کی تشخیص اور تحقیق کے لیے کام کرتی ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو کے مطابق سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کا کام صرف جانوروں کی صحت تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق محفوظ دودھ، گوشت اور انڈوں، خوراک کے تحفظ اور بالآخر انسانی صحت سے بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جانوروں کی صحت سے متعلق ایسے ادارے کا کردار کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہتا۔ مویشیوں اور پولٹری کی بیماریوں سے بچاؤ، پالتو جانوروں اور جنگلی حیات کی صحت، آبی حیوانات کی بیماریوں کی تشخیص، حیوانی مصنوعات کی جانچ اور ویکسین کی تیاری، یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے شعبے ہیں۔

کورنگی میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ اسی وسیع نظام کا حصہ ہے، جہاں جانوروں کی بیماری کی تشخیص سے لے کر ویکسین کی تیاری اور خوراک کے معیار کی جانچ تک مختلف کام ایک ہی ادارے میں انجام دیے جارہے ہیں۔

یعنی جانوروں کی صحت پر کام کرنے والا یہ ادارہ دراصل انسانی خوراک کے تحفظ اور انسانی صحت سے بھی براہ راست جڑا ہوا ایک اہم تحقیقی اور تشخیصی مرکز ہے۔

ساگا ڈیجیٹل
جہاں خبر صرف خبر نہیں، اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آتی ہے۔

اسی بارے میں: