ابھی یا کبھی نہیں: پمز ہسپتال کا سانحہ، بیوروکریسی کا جمود اور سلگتی دھرتی کا نوحہ

پمز ہسپتال

آج کا پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر گزرتا دن ہمیں ایک نئی تباہی کی دہلیز پر لا کھڑا کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں دارالحکومت اسلام آباد کے قلب میں، پارلیمنٹ ہاؤس سے محض چند منٹ کے فاصلے پر واقع پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں لگنے والی آگ نے پندرہ معصوم بچوں کی زندگیوں کا چراغ گل کر دیا۔

وزیر صحت کی روایتی طفل تسلیاں، انکوائری کمیٹیوں کا قیام اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار کا ایمرجنسی کرین اور فائر ایگزٹ کے بغیر سیڑھی کے سہارے بچوں کو بچانے کا وہ روح فرسا منظر، یہ سب کچھ کسی دور دراز پسماندہ گاؤں میں نہیں، بلکہ ملک کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے شہر میں ہوا۔

یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ اس بوسیدہ، مفلوج اور مجرمانہ غفلت سے لت پت انتظامی نظام کا نوحہ ہے جس کے سہارے ہم اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل چھوڑ چکے ہیں۔

دوسری طرف، اگر ہم ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر نظر دوڑائیں تو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئرز کا پگھلنا اور برفانی جھیلوں کا پھٹنا اب کوئی علمی بحث یا مستقبل کا دور رس خطرہ نہیں رہا۔ یہ ہمارے سروں پر منڈلاتی ہوئی ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جو کسی بھی وقت ملک کے مواصلاتی اور معاشی ڈھانچے کو ملیا میٹ کر سکتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ریاست اپنے سب سے بڑے ہسپتال میں فائر ایکسٹنگوشر اور ہنگامی راستے یقینی بنانے میں ناکام ہے، وہ گلوبل وارمنگ کے اس طوفان کا مقابلہ کیسے کرے گی؟

بیوروکریسی کا جمود:  ‘ہر فن مولا’ طرز حکمرانی کا المیہ

پاکستان کے اس دوہرے بحران، یعنی انتظامی اور ماحولیاتی بحران، کی ایک بڑی وجہ ہمارا سول سروس کا وہ ڈھانچہ ہے جو انگریز دور حکومت کی یادگار ہے۔ موجودہ نظام میں ایک روایتی بیوروکریٹ، جس نے تاریخ یا انگریزی ادب پڑھ کر امتحان پاس کیا ہوتا ہے، اسے کسی بھی دن وزارت صحت کا وفاقی سیکریٹری لگا دیا جاتا ہے۔ اسے ہسپتالوں کے فائر سیفٹی کوڈز، لائف سپورٹ سسٹمز یا کلینیکل گورننس کی بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔

چند ماہ بعد اسی افسر کو تبدیل کرکے وزارت موسمیاتی تبدیلی کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے، جہاں وہ گلیشیئرز کے پگھلنے کے سائنسی ڈیٹا اور کاربن کریڈٹس کے پیچیدہ بین الاقوامی معاہدوں کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔

اس ‘جنرلسٹ’ یعنی ہر فن مولا طرز حکمرانی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے پاس دنیا کے بہترین اور مہنگے ترین کاغذی ‘ایکشن پلانز’ تو موجود ہیں، لیکن زمین پر ان کا نفاذ صفر ہے۔ سائنسی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، لیکن وفاقی ترقیاتی بجٹ میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کا حصہ انتہائی کم ہے۔

یہ مالیاتی حقیقت ریاست کی ترجیحات کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ہماری بیوروکریسی فائلیں چلانے، بین الاقوامی فنڈز کے انتظام اور اپنی مراعات کے تحفظ میں مصروف ہے، جبکہ عوام کے بنیادی حقوق اور تحفظ کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

ہمالیہ کا پگھلتا ہوا تاج: ایک خاموش سونامی

گلگت بلتستان اور چترال کے شمالی اضلاع دنیا میں قطبین کے باہر اہم برفانی ذخائر کے حامل علاقوں میں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں برفانی جھیلیں موجود ہیں، جن میں بعض جھیلیں کسی بھی وقت پھٹنے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو بعض جھیلوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے اور ان کے قدرتی بند ٹوٹنے کی صورت میں پانی، مٹی اور پتھروں کا ریلا نیچے کی بستیوں، ہائیڈرو پاور پلانٹس اور شاہراہ قراقرم جیسے اہم راستوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

محدود وسائل اور بین الاقوامی فنڈز کے ذریعے کچھ علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹمز اور حفاظتی دیواریں ضرور بنائی گئی ہیں، لیکن پمز ہسپتال جیسے گورننس کے بحران ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہمارا مجموعی ریاستی ڈھانچہ اتنے بڑے پیمانے کی ماحولیاتی تباہی کو سنبھالنے کی سکت رکھتا ہے؟

جب سرحد پار چین یا نیپال میں گلیشیئر سے متعلق واقعات پیش آتے ہیں تو ارلی وارننگ اور ڈیٹا شیئرنگ کے مؤثر نظام کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ نااہل وزرا اور غیر متخصص بیوروکریٹس کی موجودگی میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنا ایک بڑا انتظامی چیلنج بن چکا ہے۔

حل کیا ہے؟ ٹیکنوکریسی اور ماہرین کو آگے لانا ہوگا

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنے سول سروس کے نظام میں اصلاحات کرے۔ صحت، ماحولیات، توانائی اور انفراسٹرکچر جیسے تکنیکی محکموں کی سربراہی روایتی بیوروکریٹس کے بجائے متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے حوالے کی جائے۔

اوپن مارکیٹ ہائرنگ: وزارتوں کے سیکریٹریز کی پوزیشنز کو صرف سی ایس ایس افسران کے لیے مخصوص رکھنے کے بجائے اوپن مارکیٹ کے لیے کھولا جائے، جہاں نجی اور سرکاری شعبے کے پی ایچ ڈی اور تجربہ کار سائنسدانوں اور ہیلتھ مینجمنٹ کے ماہرین کو میرٹ پر لایا جا سکے۔

سخت احتساب اور فوجداری مقدمات: پمز جیسے سانحات پر صرف نچلے درجے کے کلرکوں یا چوکیداروں کو معطل کرنا بند کیا جائے۔ جب تک سیکریٹری صحت اور متعلقہ وزرا کے خلاف مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمات درج کرکے انہیں سزا نہیں دی جاتی، تب تک سرکاری عمارتوں میں حفاظتی نظام کو نظر انداز کیے جانے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

بجٹ میں ماحولیات کو ترجیح دینا: موسمیاتی تبدیلی کو صرف تماشے یا این جی او کا موضوع سمجھنے کے بجائے اسے قومی سلامتی کا لازمی حصہ قرار دیا جائے اور ملکی بجٹ کا بڑا حصہ مقامی سطح پر فائر سیفٹی، واٹر مینجمنٹ اور گلیشیئرز کی نگرانی پر لگایا جائے۔

اب نہیں تو کبھی نہیں: عوام اور سول سوسائٹی کا کردار

ریاست کے مقتدر حلقوں نے قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے: حکومت کے حامی اور حکومت کے مخالف۔ جب کوئی سانحہ ہوتا ہے تو حامی طبقہ حکومت کا دفاع کرتا ہے، جبکہ مخالف طبقہ احتجاج اور تنقید تک محدود رہ جاتا ہے۔ حکمران اس سیاسی تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ توجہ اصل مسئلے اور ذمہ داری کے تعین سے ہٹ جاتی ہے۔

پاکستانی عوام، میڈیا اور سول سوسائٹی کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اب حکمرانوں کی طفل تسلیوں کے سہارے جینے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس بیوروکریسی کے اس مضبوط نظام کو یکسر بدلنے کی فوری سکت نہیں ہے، لیکن ہمیں میدان عمل میں آنا ہی ہوگا۔ ہمیں پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن، سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل تحریکوں اور اپنے حلقے کے سیاستدانوں سے سوالات کے ذریعے اس نظام کو جواب دہ بنانا ہوگا۔

یہ ہماری اپنی مٹی ہے اور یہ ہمارے اپنے معصوم بچے ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی سطح پر آواز نہ اٹھائی اور اس مجرمانہ غفلت کے خلاف صف آرا نہ ہوئے تو یاد رکھیں کہ اگلا سانحہ کسی پمز ہسپتال میں نہیں، بلکہ ہمارے اپنے گھر کے دروازے پر دستک دے گا۔ یہ وقت جاگنے کا ہے، یہ وقت لڑنے کا ہے، ابھی یا کبھی نہیں!

اسی بارے میں: