ملائیشیا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر جمع 100 سے زائد برمی روہنگیا پناہ گزین گرفتار

ملائیشیا

ملائیشیا کے دارالحکام کوالالمپور میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے دفتر کے باہر پناہ کے لیے جمع ہونے والے 100 سے زائد برمی روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملک کے قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور عوامی نظم و نسق کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

رائٹرز کے مطابق پیر کی شام پولیس اہلکار چار ٹرکوں میں سوار ہو کر یو این ایچ سی آر کے دفتر پہنچے اور وہاں موجود تمام روہنگیا پناہ گزینوں کو ان کے سامان سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔

 گرفتار کیے جانے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بھی شامل تھی۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تمام افراد کو مزید جانچ پڑتال کے لیے کوالالمپور پولیس ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا ہے۔

روہنگیا پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ انہیں اتوار کے روز ملائیشیا کی شمالی ریاست پینانگ میں مقامی رہائشیوں نے اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ رات بھر بسوں میں سفر کرکے کوالالمپور پہنچے تاکہ یو این ایچ سی آر سے مدد اور کسی تیسرے ملک میں آبادکاری کے حوالے سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں اور وہ تحفظ چاہتے ہیں۔

دوسری جانب پینانگ پولیس نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا افراد نے اپنی مرضی سے کوالالمپور جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

 پولیس کے مطابق ریاستی اور وفاقی حکام، جن میں قومی سلامتی کونسل بھی شامل تھی، نے ان کی منتقلی میں معاونت کی۔ ضلعی پولیس سربراہ انوار عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا کہ علاقے میں روہنگیا آبادی بڑھنے کے بعد معاشی اور علاقائی نوعیت کے تنازعات پیدا ہوئے تھے، جس کی وجہ سے یہ اقدام کیا گیا۔

وزیر اعظم انور ابراہیم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یو این ایچ سی آر کے دفتر کے سامنے روہنگیا پناہ گزینوں کا اجتماع عوام میں تشویش کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملائیشیا ایک خودمختار ملک ہے اور یہاں رہنے والے ہر فرد پر ملکی قوانین کی پابندی لازم ہے۔ ان کے مطابق جن افراد کے پاس قانونی سفری دستاویزات یا رہائشی اجازت نامہ موجود نہیں ہوگا، ان کے خلاف امیگریشن قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر انہیں امیگریشن حراستی مراکز میں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی شہر کے کسی حصے پر قبضہ کرنے یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ملائیشیا کی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم کی ایشیا کے لیے نائب ڈائریکٹر برائنی لاؤ نے کہا کہ ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزین پہلے ہی گرفتاریوں اور چھاپوں کے مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں روہنگیا برادری کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مہم میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ان کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بے گھر کیے گئے پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، نہ کہ انہیں مزید خوفزدہ کیا جائے۔

رائٹرز کے مطابق مئی سے ملائیشیا میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں روہنگیا برادری کو ہراسانی، امتیازی سلوک اور مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متعدد غیر سرکاری تعلیمی مراکز بھی بند ہو چکے ہیں کیونکہ والدین اور اساتذہ بچوں کی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بھی حالیہ دنوں میں روہنگیا اور دیگر پناہ گزینوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات پر تشویش ظاہر کی تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس قسم کا ماحول معاشرے میں امتیازی رویوں اور تشدد کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔ تاہم اس واقعے کے بعد یو این ایچ سی آر کے کوالالمپور دفتر نے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

ملائیشیا اگرچہ اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق 1951ء کے کنونشن کا رکن نہیں، تاہم کئی برسوں سے میانمار میں ظلم و ستم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کے لیے نسبتاً محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال فروری کے اختتام تک ملائیشیا میں تقریباً دو لاکھ پندرہ ہزار رجسٹرڈ پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی موجود تھے، جن میں نصف سے زیادہ روہنگیا مسلمان ہیں۔ اس کے باوجود ملک میں ان کی قانونی حیثیت محدود ہے اور انہیں روزگار، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

روہنگیا مسلمان میانمار (سابق برما) کی ریاست راکھین کے رہنے والے ایک نسلی اور مذہبی اقلیتی گروہ ہیں۔ میانمار کی حکومت انہیں ملک کا باقاعدہ شہری تسلیم نہیں کرتی، جس کی وجہ سے وہ کئی دہائیوں سے شہریت، تعلیم، صحت، روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

سن 2017 میں میانمار کی فوجی کارروائیوں کے بعد سات لاکھ سے زائد روہنگیا اپنی جانیں بچانے کے لیے بنگلہ دیش ہجرت کر گئے، جہاں آج بھی دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ قائم ہے۔ بڑی تعداد میں روہنگیا ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے روہنگیا کو دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم اور بے وطن اقلیتوں میں شمار کیا ہے۔

اسی بارے میں: