دھنجی مل روہیلا علم و دانش، لوک ادب کی پہچان اور ریگستانی سماج کی ایک نامور شخصیت تھے۔ وہ 1943ء کے قریب سندھ کی دھرتی کے صحرائی خطے تھرپارکر کے تاریخی شہر چیلہار کی روہیلا کالونی کے رہائشی سڈو مل روہیلا کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پورہیت اور ہنرمند میگھواڑ قبیلے سے تھا۔
دھنجی مل بچپن ہی میں اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے ہونے کے ناتے، یتیمی میں کسی کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے انہوں نے اپنی ہمت اور خودداری کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کیا۔
بچپن ہی سے ان کی تربیت میں ایک خاص نفاست شامل تھی۔ ان کا لہجہ شیریں اور الفاظ کا انتخاب انتہائی عمدہ ہوتا تھا۔ وہ اپنی بات کو آسان، سلیس اور شگفتہ انداز میں پیش کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مین پرائمری اسکول چیلہار سے حاصل کی اور وہیں سے "فائنل” پاس کیا، جو اس دور میں گریجویشن کے مساوی سمجھا جاتا تھا۔
دھنجی مل اپنے بچپن سے ہی انتہائی باہمت، بردبار اور دلیر انسان تھے۔ ہر کام کو آخری حد تک پہنچانے میں وہ بڑی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے تھے اور کم عمری ہی میں ایک جاندار شخصیت کے مالک بن چکے تھے۔ لباس کے معاملے میں وہ ہمیشہ اجلے سفید کپڑوں میں ملبوس رہتے اور سر پر سندھی پٹکا (پگڑی) باندھتے، جو سندھی ثقافت اور وقار کی علامت ہے۔
پیشہ ورانہ لحاظ سے وہ عمارت سازی (معماری) کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ فنِ تعمیر اور اینٹوں کی ترتیب (اوساری) میں پورے علاقے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ اس پیشے کے علاوہ بھی ان کی شخصیت میں متعدد ادبی اور سماجی خوبیاں موجود تھیں۔
دھنجی مل روہیلا کو مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ ہندی زبان کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس زبان میں ان کی شاعری بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ سندھی اور اردو زبان پر بھی انہیں کامل دسترس حاصل تھی۔ وہ باقاعدگی سے سندھی اور اردو کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔
کلاسیکی ادب میں وہ بھگت کبیر اور رویداس کے فکر سے بے حد متاثر تھے اور ان کی شاعری انہیں زبانی یاد تھی۔ وہ مختلف سماجی اور ادبی محفلوں میں اپنے کلام کے ساتھ ساتھ بھگتی تحریک کے شاعروں کا کلام بھی سنایا کرتے تھے۔ سندھی زبان میں وہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور سچل سرمستؒ کی صوفیانہ شاعری کے دلدادہ تھے۔
وہ نہایت نفیس طرزِ بیان کے مالک تھے۔ جب بھی کسی محفل میں گفتگو کرتے، لوگ انہیں مکمل توجہ اور احترام سے سنتے تھے۔
ریگستانی سماج، بالخصوص اپنی کمیونٹی میں ان کا مقام انتہائی محترم تھا۔ سماجی اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے موقع پر انہیں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا تھا اور اکثر اہم رسومات انہی کے مبارک ہاتھوں سے ادا ہوتی تھیں۔
وہ سیاسی بصیرت کے بھی حامل تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا دائرہ اپنی کالونی سے لے کر پورے تھرپارکر تک پھیلایا۔ وہ ایک اصول پسند اور دردِ دل رکھنے والے رہنما تھے، جن کی گفتگو ہمیشہ نصیحت آموز ہوتی تھی۔ انہوں نے خطے کے لوگوں کی بہترین رہنمائی کی اور ہمیشہ انسانیت، امن اور انسانی حقوق کا درس دیا۔

دھنجی مل روہیلا مسلسل ایک ماہ کی علالت کے بعد 19 جولائی 2026ء کو روہیلا کالونی، چیلہار میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پورے تھرپارکر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ خطے کے لوگوں نے ایک سچے شاعر، لوک ادب کے شناسا اور مدبر سماجی و سیاسی رہنما کو الوداع کہا۔
دھنجی مل روہیلا جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو چکے ہیں، لیکن ان کے نصیحت آموز افکار اور ادبی سرمائے کی صورت میں وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
ان کے اس ادبی و فکری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے بڑے بیٹے سوائی لال سانگی، جو بھگتی اور موسیقی سے لگاؤ رکھتے ہیں، اور گووند گل، جو ایک بہترین شاعر، مجسمہ ساز اور فی الوقت سندھی ادبی سنگت شاخ چیلہار کے سیکریٹری ہیں، روشن امیدیں ہیں۔ ہمیں کامل یقین ہے کہ دھنجی مل روہیلا کا بویا ہوا علمی و ادبی پودا ہمیشہ بارآور رہے گا۔
تھر کی دھرتی، چیلہار اور لوک ادب کی اس اہم شخصیت کی یادداشت کو قلمبند کرنے کی یہ ایک نہایت پرخلوص اور شاندار کاوش ہے۔

