پاکستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک تلخ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اس ملک میں ‘طویل مدتی منصوبہ بندی’ ایک ایسا سراب ہے جس کی تعبیر آج تک ادھوری ہے۔
ہم ایک ایسے خطے کے باسی ہیں جہاں ریاستی پالیسیاں مستقل مزاجی اور ٹھوس بنیادوں کے بجائے ‘روزانہ کی بنیاد پر’ بنتی، بگڑتی اور دم توڑتی ہیں۔ اسی ایڈہاک ازم کے تسلسل میں اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پندرہ دن کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بظاہر عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا عذر تراش کر لایا جانے والا یہ نیا نظام درحقیقت اس ملک کے کمزور اور مفلوج انتظامی ڈھانچے کی موت کا پروانہ ہے اور کارپوریٹ مافیا کے لیے کھلی لوٹ مار کا ایک نیا لائسنس ہے۔
دنیا کے جن ممالک میں یومیہ قیمتوں کے تعین کا نظام رائج ہے، وہاں ایک مضبوط ریگولیٹری اتھارٹی اور مستحکم معاشی ڈھانچہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مافیا ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں، یہ فیصلہ ایک ایسے معاشی اور سماجی طوفان کو جنم دے گا جس کا خمیازہ صرف اور صرف عام آدمی کو بھگتنا پڑے گا۔
ویگن کے پائیدان سے سبزی منڈی تک، ایک دائمی سماجی خلفشار
سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا وہ بوسیدہ انتظامی ڈھانچہ اور ضلعی انتظامیہ، جو پندرہ دن میں ایک بار بدلنے والی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی سکت نہیں رکھتی تھی، وہ اب روزانہ کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو سنبھال پائے گی؟
اس کا جواب ایک واضح اور خوفناک ‘نہ’ ہے۔
اس فیصلے کا سب سے ہولناک عملی منظرنامہ ہمیں روز صبح سڑکوں، چوراہوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں دیکھنے کو ملے گا۔ ذرا اس اذیت ناک منظر کا تصور کیجیے۔
‘صبح سویرے دفتر جانے والا ایک تھکا ہارا کلرک یا یونیورسٹی کا طالب علم ویگن میں بیٹھتا ہے۔ وہ ابھی کرایہ نکال ہی رہا ہوتا ہے کہ کنڈکٹر کی کرخت آواز گونجتی ہے۔ ‘باؤ جی! رات بارہ بجے پیٹرول چار روپے مہنگا ہو گیا ہے، لہٰذا آج سے کرایہ بیس روپے بڑھ گیا ہے۔’
سواری آگے سے دہائی دیتی ہے کہ ‘بھائی، تم نے تو ڈیزل پچھلے ہفتے والے سستے ریٹ پر ڈلوایا تھا، ابھی سے نیا کرایہ کیوں؟’
بس، اسی تکرار سے شروع ہونے والا یہ جھگڑا روزانہ صبح کا معمول بن جائے گا۔ تو تو میں میں، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی ہماری سماجی نفسیات کا حصہ بن جائیں گے۔ یہی حال بازاروں اور سبزی منڈی کا ہوگا۔ گاؤں سے آلو اور پیاز لانے والا ٹرک ڈرائیور روز صبح نئے کرائے کا تقاضا کرے گا، آڑھتی اس بہانے اپنا منافع مزید بڑھائے گا اور شام تک عام صارف کی جیب پر ایک خاموش ڈاکا پڑ چکا ہوگا۔
جب قیمتیں روز صبح ایک نئے ہندسے کے ساتھ بیدار ہوں گی تو پورا معاشرہ ایک دائمی خلفشار کی لپیٹ میں رہے گا، جہاں بیوروکریسی ہمیشہ کی طرح ایک بے بس اور گونگی تماشائی بنی بیٹھی ہوگی۔

پیٹرول پمپوں کی بدمعاشیاں، ‘آج تیل ختم ہے’ کا نیا کھیل
اس نئے نظام نے پیٹرول پمپ مالکان اور آئل مافیا کے وارے نیارے کر دیے ہیں۔ اب ان کی بدمعاشیاں اور بلیک میلنگ اپنے عروج پر ہوں گی۔ پاکستان میں پہلے ہی ذخیرہ اندوزی ایک منافع بخش صنعت بن چکی ہے، روزانہ قیمتوں کا تعین اس میں مزید ایندھن ڈالے گا۔
روزانہ شام کو جیسے ہی سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلے گی کہ ‘کل صبح سے پیٹرول آٹھ روپے مہنگا ہو رہا ہے’، پمپ مالکان رات نو بجے ہی مشینوں پر ‘نو پیٹرول’ کے پلاسٹک کے بورڈ لٹکا کر سپلائی بند کر دیں گے کہ ‘پیچھے سے تیل ختم ہے۔’
غریب عوام، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہے، دو دو لیٹر پیٹرول کے لیے لائنوں میں خوار اور ذلیل ہوتی رہے گی۔ اور پھر رات کے بارہ بجتے ہی جادوئی طور پر پمپ دوبارہ چل پڑیں گے تاکہ وہی پرانا ذخیرہ نئی اور مہنگی قیمت پر بیچا جا سکے۔
اس کے برعکس، جس رات عالمی منڈی کے زیر اثر پیٹرول سستا ہونے کی باری آئے گی، پمپ مالکان رات دس بجے ہی مشینیں بند کر کے بیٹھ جائیں گے تاکہ انہیں سستا تیل نہ بیچنا پڑے۔ سواریاں پمپ عملے کی بدتمیزی اور بدمعاشی کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گی، اور ریاست کا کوئی ادارہ ان بلیک میلروں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا۔
چھوٹے پمپ مالکان کی معاشی دلدل اور کارپوریٹ اجارہ داری
تاہم اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو خود پیٹرول پمپ کے کاروبار سے جڑے درمیانے طبقے کے لیے ایک بھیانک خواب ہے۔ روزانہ قیمتیں بدلنے سے چھوٹے اور قدرے ایمان دار پمپ مالکان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ فرض کریں، اگر کسی پمپ مالک نے پچاس ہزار لیٹر پیٹرول مہنگے ریٹ پر خرید کر ذخیرہ کیا اور اگلے ہی دن قیمت دس روپے فی لیٹر گر گئی تو اسے راتوں رات لاکھوں روپے کا خالص نقصان اٹھانا پڑے گا۔
چھوٹے پمپوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر حساب کتاب کرنا، سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے نئے ریٹ پر کوٹا حاصل کرنا ایک لامتناہی انتظامی عذاب بن جائے گا۔ اس سرمایادارانہ کشمکش کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بڑی کارپوریٹ کمپنیاں تو یہ نقصان بآسانی برداشت کر جائیں گی، لیکن چھوٹے پمپ دیوالیہ ہو کر بند ہونے کے کنارے پر پہنچ جائیں گے۔
اس طرح مارکیٹ میں چند بڑی کمپنیوں کی کارپوریٹ اجارہ داری مزید مضبوط ہوگی، جو بالآخر عوام کا ہی خون چوسے گی۔
ایڈہاک ازم اور ترقی کی راہ میں کھڑی ریاست
روزانہ کی قیمتوں کے تعین کا یہ عاجلانہ فیصلہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہماری ریاست طویل مدتی اور ساختی اصلاحات سے خوف زدہ ہو کر بھاگ رہی ہے۔ پاکستان کے توانائی کے بحران کا اصل حل یہ تھا کہ دہائیوں پرانی ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جاتا، عالمی کمپنیوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے کیے جاتے، مقامی وسائل کی تلاش تیز کی جاتی اور درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جاتا۔
لیکن مشکل اور دیرپا فیصلوں کے بجائے حکومت نے ہمیشہ کی طرح شارٹ کٹ اپنایا اور اپنی نااہلی کا سارا بوجھ غریب عوام کے کندھوں پر منتقل کر دیا۔ جب تک ہم بحیثیت ریاست ‘آج کا دن گزر جائے، کل کی کل دیکھیں گے’ والی اس کھوکھلی اور عارضی سوچ سے باہر نہیں نکلیں گے، ہماری معیشت اسی طرح انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں سسکتی رہے گی۔
روزانہ قیمتیں بدلنے کا یہ نظام معاشی استحکام کی علامت ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ معاشی انارکی، سماجی بے چینی اور طبقاتی استحصال کی طرف اٹھایا گیا ایک اور سفاک قدم ہے، جس کی قیمت بالآخر اس ملک کے پسے ہوئے طبقے کو اپنے سکون اور دو وقت کی روٹی سے ادا کرنی پڑے گی۔

