دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی پہلی کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کون ہیں؟

انیتا آنند

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند پچھلے دنوں اپنے پہلے سرکاری دور پاکستان کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ 20 جولائی 2026 میں اسلام آباد پہنچنے والی انیتا آنند تقریباً دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی پہلی کینیڈین وزیر خارجہ ہیں۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، عوامی روابط اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ کینیڈا نے اس دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

انیتا آنند، انڈین نژاد کینیڈین سیاست دان

انیتا آنند کینیڈا کی ان سیاست دان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں ملک کی اہم ترین وزارتوں کی ذمہ داری سنبھالی۔ وہ نہ صرف ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں بلکہ قانون کی پروفیسر، محقق اور انتظامی امور کی ماہر بھی رہی ہیں۔ ان کی شناخت ایک ایسی رہنما کے طور پر کی جاتی ہے جو مشکل حالات میں اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انیتا آنند کا تعلق ایک انڈین نژاد خاندان سے ہے۔ ان کی پیدائش 20 مئی 1967 کو کینیڈا کے صوبہ نووا اسکاٹیا کے شہر کینٹ ویل میں ہوئی۔ ان کے والد ایس وی آنند کا تعلق انڈین ریاست تامل ناڈو سے تھا جبکہ والدہ سروج ڈی رام کا تعلق پنجاب سے تھا۔ دونوں ڈاکٹر تھے اور بہتر پیشہ ورانہ مواقع کی تلاش میں کینیڈا منتقل ہوئے تھے۔ اسی ماحول میں انیتا آنند کی پرورش ہوئی جہاں تعلیم، محنت اور عوامی خدمت کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔

اگرچہ ان کا خاندان انڈین نژاد تھا لیکن انیتا آنند کی پوری تعلیم اور عملی زندگی کینیڈا میں گزری۔ وہ خود کو کینیڈا کے کثیر الثقافتی معاشرے کی نمائندہ قرار دیتی ہیں اور اکثر کہتی ہیں کہ مختلف ثقافتوں میں پرورش پانے سے انہیں دنیا کو وسیع نظر سے دیکھنے کا موقع ملا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کینیڈا کی معروف یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے سیاسیات، قانون اور عدالتی نظام کا گہرا مطالعہ کیا۔ بعد ازاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کئی برس تک مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس سے وابستہ رہیں۔ خاص طور پر کارپوریٹ قانون، سرمایہ کاری، کاروباری ضابطوں اور حکومتی نظم و نسق پر ان کی تحقیق کو خاص اہمیت حاصل رہی۔

سیاست میں آنے سے پہلے انیتا آنند ایک معروف قانون دان اور پروفیسر کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو، ییل یونیورسٹی اور دیگر اداروں میں تحقیق اور تدریس کے فرائض انجام دیے۔ ان کے تحقیقی مضامین اور کتابوں میں کمپنیوں کے قوانین، شفافیت، سرمایہ کاروں کے حقوق اور بہتر حکمرانی جیسے موضوعات شامل رہے۔

انیتا آنند نے عملی سیاست میں نسبتاً دیر سے قدم رکھا۔ 2019 کے وفاقی انتخابات میں وہ لبرل پارٹی کے امیدوار کے طور پر صوبہ اونٹاریو کے حلقے اوک ویل سے پہلی مرتبہ کینیڈا کی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔ ان کی صلاحیتوں کو جلد ہی وزیر اعظم کی توجہ حاصل ہوئی اور انہیں وفاقی کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔

پارلیمنٹ میں آنے کے بعد انہیں سب سے پہلے عوامی خدمات اور خریداری کی وزیر بنایا گیا۔ اس دوران دنیا کورونا وبا سے گزر رہی تھی۔ انیتا آنند نے ویکسین، طبی سامان اور حفاظتی آلات کی خریداری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ کینیڈا کے لیے بروقت ویکسین اور ضروری طبی سامان کا انتظام کیا جائے۔ اس دور میں ان کی کارکردگی کو کافی سراہا گیا۔

بعد ازاں انہیں کینیڈا کی وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔ یہ ذمہ داری اس وقت انہیں ملی جب کینیڈا کی مسلح افواج کو کئی انتظامی اور اخلاقی مسائل کا سامنا تھا۔ انہوں نے فوج کے اندر احتساب، شفافیت اور اصلاحات پر زور دیا۔ خواتین کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے بھی کئی اقدامات کیے۔

اس کے بعد انیتا آنند کو ٹریژری بورڈ کی صدر بنایا گیا جہاں انہوں نے وفاقی اخراجات، سرکاری اصلاحات اور جدید طرز حکمرانی پر کام کیا۔ بعد میں وزیر اعظم مارک کارنی نے انہیں کینیڈا کا وزیر خارجہ مقرر کیا، جس کے بعد وہ عالمی سطح پر کینیڈا کی نمائندگی کرنے لگیں۔

بطور وزیر خارجہ انیتا آنند کی ترجیحات میں ہند و بحرالکاہل کے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا، عالمی تجارت کو فروغ دینا، جمہوری اقدار کی حمایت اور بین الاقوامی تنازعات کے سفارتی حل تلاش کرنا شامل ہے۔ انہوں نے ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے دورے کیے ہیں تاکہ کینیڈا کے سفارتی اور معاشی تعلقات کو وسعت دی جا سکے۔

ذاتی زندگی میں انیتا آنند کی شادی کینیڈا کے کاروباری وکیل جان نولز سے ہوئی۔ ان کے چار بچے ہیں۔ مصروف سیاسی زندگی کے باوجود وہ اپنے خاندان کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں اور مختلف مواقع پر خاندان کی حمایت کو اپنی کامیابی کا اہم سبب قرار دیتی ہیں۔

انیتا آنند اپنی متوازن گفتگو، قانون سے گہری واقفیت اور انتظامی مہارت کی وجہ سے کینیڈا کی بااثر سیاسی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کا سیاسی سفر اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی میدان سے وابستہ ایک ماہر بھی عوامی خدمت کے ذریعے ملکی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

پاکستان کا دورہ

کینیڈا کی وزیر خارجہ کی حیثیت سے ان کا پاکستان کا حالیہ دورہ کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زرعی شعبے، تعلیم اور عوامی روابط پر خصوصی توجہ دی گئی۔ کینیڈا میں تین لاکھ سے زیادہ پاکستانی نژاد افراد آباد ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں کینیڈا سے پاکستان کو کینولا کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

پاکستان کے دورے نے نہ صرف دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں نئی سرگرمی پیدا کی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ کینیڈا جنوبی ایشیا کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انیتا آنند کے اس دورے کو مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دورے کے اختتام پر مشترکہ بیان میں توانائی کے تحفظ اور توانائی کے ذرائع میں تنوع کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے، خصوصاً شمسی، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اور بیٹری ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔

دونوں وزراء نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کینیڈا کی کمپنی جے سی ایم پاور کی جانب سے 240 میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کے لیے، جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے قائم کیا جا رہا ہے، کامیاب بولی کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری مل چکی ہے۔ یہ بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں اہم اضافہ کرے گی۔

دونوں وزرا  خارجہ نے زراعت کے شعبے میں دوطرفہ تجارت بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی، جس میں کینولا، تیل دار بیج، دالیں، سویابین، اناج، چاول، مصالحہ جات اور پھل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی غذائی سپلائی چین، زرعی ٹیکنالوجی، خوراک کے تحفظ، نباتاتی و حیوانی صحت سے متعلق معیارات اور ضوابط پر بھی خصوصی توجہ دینے پر زور دیا گیا۔

اسی جذبے کے تحت دونوں وزراء نے ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کیے، جس کے ذریعے کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی صحت سے متعلق واضح اور قابلِ پیش گوئی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈا کی فوڈ انسپیکشن ایجنسی تکنیکی تعاون اور صلاحیت بڑھانے کے مواقع بھی تلاش کریں گی۔

انیتا آنند نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوام متحدہ، انٹرپول اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مختلف منصوبوں کے تحت پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔

موسمیاتی تبدیلی اور غربت جیسے عالمی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر خارجہ انیتا آنند نے تعلیم، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے اور صحت کے شعبوں میں ترقیاتی معاونت کے نئے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔

اسی بارے میں: