نئی دہلی میں احتجاجوں کے لیے مشہور مقام ‘جنتر منتر’ آخر ہے کیا؟

جنتر منتر

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر انڈیا کے زیر انتظام علاقے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سونم وانگچُک اکیس روز سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان کے احتجاج کے دوران نوجوانوں کی تنظیم ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ بھی امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچے لیک ہونے اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ اسی مقام پر دھرنا دیے ہوئے ہے۔

وانگچُک کو حال ہی میں پولیس نے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا، تاہم ان کے حامیوں نے احتجاج جاری رکھا، جس کے بعد جنتر منتر ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن گیا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاجوں کے مشہور ‘جنتر منتر’ آخر ہے کیا؟

جنتر منتر دراصل اٹھارویں صدی کی ایک تاریخی فلکیاتی رصد گاہ ہے، جسے راجپوت حکمران مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم نے 1724 میں تعمیر کرایا تھا۔ اس کا مقصد سورج، چاند، ستاروں اور سیاروں کی حرکات کا مشاہدہ کرنا اور وقت و موسم سمیت مختلف فلکیاتی حسابات کرنا تھا۔ یہاں نصب دیوہیکل پتھریلے آلات اس دور کی سائنسی اور انجینئرنگ مہارت کا اہم نمونہ سمجھے جاتے ہیں۔

اگرچہ جنتر منتر کی اصل شناخت ایک سائنسی اور تاریخی یادگار ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ بھارت میں جمہوری احتجاج کی علامت بھی بن چکا ہے۔ آج جب بھارتی ذرائع ابلاغ میں ‘جنتر منتر’ کا نام لیا جاتا ہے تو اکثر اس سے مراد احتجاجی مقام ہوتا ہے، نہ کہ صرف تاریخی رصد گاہ۔

جنتر منتر نئی دہلی کے مرکزی علاقے کناٹ پلیس میں سنسد مارگ پر واقع ہے۔ یہ علاقہ نیو دہلی ضلع کا حصہ ہے اور اسے دارالحکومت کا انتظامی اور سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ جنتر منتر سے بھارتی پارلیمنٹ تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ جن پتھ، راشٹرپتی بھون، انڈیا گیٹ اور متعدد وفاقی وزارتیں بھی اسی علاقے میں موجود ہیں۔

احتجاج کے لیے جنتر منتر ہی کیوں؟

جنتر منتر نئی دہلی کے اس علاقے میں واقع ہے جہاں بھارتی پارلیمنٹ، متعدد وفاقی وزارتیں، اہم سرکاری دفاتر اور حکومتی ادارے موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والا احتجاج براہ راست حکومت، ارکان پارلیمنٹ اور پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ مقام بھارتی میڈیا کے دفاتر کے بھی قریب ہے، اس لیے یہاں ہونے والے مظاہرے فوری طور پر قومی خبروں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دہلی پولیس بھی کئی برسوں تک جنتر منتر کو باقاعدہ احتجاجی مقام کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتی رہی تاکہ شہر کے دیگر حساس علاقوں میں بار بار مظاہرے نہ ہوں۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں عدالتوں اور انتظامیہ نے شور، ٹریفک اور سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر یہاں احتجاج کے لیے مختلف شرائط بھی عائد کی ہیں۔

جنتر منتر سے پہلے احتجاج کہاں ہوتے تھے؟

آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک نئی دہلی میں بڑے سیاسی جلسوں اور عوامی مظاہروں کا مرکز پارلیمنٹ کے قریب بوٹ کلب کا وسیع سبزہ زار تھا، جو موجودہ کرتویہ پتھ کے قریب واقع ہے۔ انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں لاکھوں افراد پر مشتمل کئی تاریخی احتجاج وہیں ہوئے۔

بعد ازاں سکیورٹی خدشات اور بار بار ہونے والے بڑے اجتماعات کے باعث حکومت نے بوٹ کلب پر احتجاج محدود کر دیے، جس کے بعد جنتر منتر آہستہ آہستہ دارالحکومت کا مرکزی احتجاجی مقام بن گیا۔

جنتر منتر پر ہونے والے نمایاں احتجاج

انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک

2011 میں سماجی کارکن انا ہزارے نے مضبوط لوک پال قانون کے مطالبے کے لیے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کی۔ یہ احتجاج چند ہی دنوں میں ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ لاکھوں افراد نے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے اور یہی تحریک بعد میں بھارتی سیاست میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بنی، جس کے نتیجے میں عام آدمی پارٹی وجود میں آئی۔

نربھیا واقعے کے بعد احتجاج

2012 میں دہلی میں اجتماعی زیادتی کے دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ اگرچہ سب سے بڑے احتجاج انڈیا گیٹ اور رائسینا ہل کے اطراف ہوئے، تاہم جنتر منتر بھی متاثرہ خاتون کے لیے انصاف اور خواتین کے تحفظ کے مطالبات کا اہم مرکز رہا۔ اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں بھارت میں جنسی جرائم سے متعلق کئی قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔

تمل ناڈو کے کسانوں کا احتجاج

2017 میں خشک سالی سے متاثرہ تمل ناڈو کے کسان تقریباً چالیس روز تک جنتر منتر پر دھرنا دیتے رہے۔ وہ زرعی قرضوں کی معافی، مالی امداد اور پانی کی بہتر پالیسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس احتجاج نے اپنے منفرد انداز اور علامتی مظاہروں کی وجہ سے بین الاقوامی میڈیا کی بھی توجہ حاصل کی۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے

2019 اور 2020 میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران جنتر منتر بھی اہم احتجاجی مقامات میں شامل رہا۔ طلبہ، سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں نے یہاں اجتماعات کیے اور حکومت سے قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

بھارتی پہلوانوں کا دھرنا

2023 میں اولمپک اور عالمی سطح کے کئی بھارتی پہلوان جنتر منتر پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ریسلنگ فیڈریشن کے سربراہ کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ یہ احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا اور بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

سونم وانگچُک اور کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج

2026 میں جنتر منتر ایک مرتبہ پھر ملک کی سیاست اور عوامی مباحثے کا مرکز بن گیا، جہاں لداخ کے معروف ماہر تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچُک نے بھوک ہڑتال شروع کی۔ ان کے ساتھ نوجوانوں کی ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ اور دیگر طلبہ تنظیمیں امتحانی نظام میں اصلاحات، مبینہ پیپر لیکس کی تحقیقات اور حکومتی جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس احتجاج نے نوجوانوں، تعلیمی نظام اور اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی قومی بحث کو جنم دیا ہے۔

جمہوریت کی علامت یا احتجاج کا اسٹیج؟

جنتر منتر کی شناخت اب دو مختلف ادوار کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک طرف یہ تین سو سال پرانی فلکیاتی رصد گاہ ہے جو بھارت کی سائنسی تاریخ کی یادگار سمجھی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف یہ وہ مقام ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے کسان، طلبہ، خواتین، سرکاری ملازمین، سماجی کارکن اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لیے جمع ہوتی رہی ہیں۔

اسی لیے نئی دہلی میں جب بھی کوئی بڑا عوامی احتجاج شروع ہوتا ہے تو جنتر منتر کا نام ایک بار پھر بھارتی اور بین الاقوامی خبروں میں نمایاں ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں: