خلیج فارس میں بارود کی بو، مٹتی ہوئی سفارت کاری اور توانائی کا ابھرتا ہوا عالمی بحران

خلیج فارس

بین الاقوامی تعلقات، تاریخ اور سیاسی تمدن کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جب ہم مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں اٹھنے والا بارود کا یہ طوفان محض دو ممالک کی روایتی مخاصمت نہیں ہے، بلکہ یہ بیسویں صدی کے اواخر میں قائم ہونے والے امریکی یک قطبی عالمی نظام اور ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے مابین ایک فیصلہ کن تزویراتی ٹکراؤ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص جارحانہ مزاج کے مطابق ایک بار پھر مذاکرات کو مؤخر کر کے جس جنگ کا میدان سجایا ہے، اس نے جنیوا، اسلام آباد اور دوحہ میں مہینوں سے جاری پس پردہ سفارت کاری پر پانی پھیر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ اب باقاعدہ طور پر قصہ پارینہ بن چکا ہے اور دونوں ممالک کے مابین شدید فضائی اور میزائل حملوں کا ایک ایسا خوفناک سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو اگر نہ رکا تو پوری دنیا کو ایک ہمہ گیر تیسری عالمی جنگ کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔

عسکری تصادم کی سنگینی، فضائی بمباری اور جوابی میزائلوں کا حملہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران عارضی مفاہمت کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے خطے میں نئی عسکری صف بندی کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں اور بین الاقوامی سمندری حدود میں جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنے کے جواب میں کی گئی ہے۔

عسکری ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین جنگ کے نقصانات اور اہداف درج ذیل ہیں۔

امریکی فضائی حملے اور نقصانات

امریکی فضائیہ نے جنوبی ایران کی ساحلی پٹی پر 90 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات اور پاسداران انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی عسکری کشتیاں تباہ کی گئی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بمباری کی زد میں بوشہر، بندر عباس، قشم جزیرہ اور سرک کے ساحلی علاقے آئے ہیں۔

ایران کا ہولناک جوابی وار

ایران کے پاسداران انقلاب نے ان حملوں کا ‘ابتدائی جواب’ دیتے ہوئے خطے میں موجود 85 امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی افواج نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے مرکز، پورٹ سلمان، کویت میں واقع علی السالم فضائی اڈے اور کیمپ عریفجان پر براہ راست میزائل داغے ہیں۔ حملوں کے دوران کویت اور بحرین میں رات بھر فضائی حملوں کے سائرن بجتے رہے، جس نے خلیجی ممالک کی شہری آبادیوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

یہ سنگین تصادم ایک ایسے نازک وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تقریبات چل رہی ہیں، جس کے باعث ایرانی عسکری قیادت پر اندرونی عوامی اور تزویراتی دباؤ انتہا پر ہے۔

علاقائی طاقتوں کا اضطراب، پاکستان، ترکی اور عرب ممالک کی سیکیورٹی الجھن

خلیج فارس میں ہونے والی اس پے در پے کارروائیوں پر پاکستان، ترکی اور خلیجی عرب ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ اس بحران کا اثر براہ راست ان ممالک کی قومی سلامتی پر پڑ رہا ہے۔

پاکستان کا اصولی موقف

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے سرکاری بیان میں واضح کیا ہے کہ ‘ایک نئی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے’ اور پائیدار امن کے لیے مسلسل روابط، بات چیت اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اسلام آباد نے دونوں ممالک پر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان اس بحران کے آغاز سے ہی قطر کے ساتھ مل کر پس پردہ ایک اہم ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ترکی کا سخت سفارتی ردعمل

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے نیٹو اجلاس کے موقع پر امریکی یکطرفہ عسکری مہم جوئی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انقرہ نے ایران کے شہری اور معاشی ڈھانچے پر ہونے والی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اسے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تجارتی راستوں کو بند کرنے سے عالمی معیشت خطرے میں پڑ جائے گی۔ ترکی اس وقت پاکستان اور مصر کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کے تحت کشیدگی کو کم کرنے کی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

عرب ممالک کا خوف اور دباؤ

خلیجی ممالک، سعودی عرب، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات اس وقت عسکری تصادم کی وجہ سے شدید دباؤ کی زد میں ہیں، کیونکہ ایرانی جوابی حملے براہ راست ان کی سرزمین پر واقع امریکی اڈوں پر ہوئے ہیں۔ کویت اور بحرین نے اپنے ہاں ہونے والے میزائل حملوں کو قومی سلامتی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔

قطر نے اپنی گیس سپلائی لے جانے والے جہاز پر آبنائے ہرمز کے قریب حملے پر ایرانی سفیر کو طلب کر کے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کو بلا تعطل برقرار رکھنے کے لیے ایرانی مہم جوئی پر قابو پایا جائے۔

چین اور روس کا پس پردہ تزویراتی کردار، امریکہ کے خلاف نیا بلاک

تاریخ کا گہرا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب بھی کوئی بڑی عالمی طاقت زوال کی طرف بڑھتی ہے تو متبادل طاقتیں اس کے حریفوں کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ اس بحران میں چین اور روس کا پس پردہ تزویراتی کردار عالمی نظام کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چین کی خفیہ انٹیلی جنس اور سفارتی ڈھال

چین اس بحران میں ایران کا سب سے بڑا معاشی اور اب تزویراتی شراکت دار بن کر سامنے آیا ہے۔ بیجنگ نے براہ راست عسکری تصادم میں شامل ہوئے بغیر ایران کو اپنے جدید ترین مواصلاتی اور سیٹلائٹ نظام، جیسے ‘بے ڈو نیویگیشن’ تک رسائی فراہم کی ہے۔ اس انٹیلی جنس شیئرنگ کی بدولت ایرانی دفاعی نظام آبنائے ہرمز میں امریکی فضائی حملوں کا پہلے سے پتا لگانے کے قابل ہوا ہے۔

مزید برآں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین واشنگٹن کی جانب سے ایران پر نئی عالمی پابندیاں عائد کرنے کی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین چونکہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس لیے وہ ایران کی مکمل تجارتی ناکہ بندی کو اپنی معاشی سلامتی پر حملہ تصور کرتا ہے۔

روس کا عسکری محاذ

روس اس بحران کو یوکرین اور یورپ میں جاری جنگ کے تناظر میں دیکھ رہا ہے اور وہ ایران کی عسکری مدد کو امریکہ کے خلاف ایک سنہری موقع سمجھتا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق روس نے بحیرہ کاسپین کے راستے ایران کو اپنے جدید ترین ایس چار سو دفاعی نظام کے پرزے اور جیمنگ ٹیکنالوجی فراہم کرنا شروع کر دی ہے تاکہ امریکی فضائی بمباری کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ ماسکو شام اور بحیرہ احمر میں سرگرم ایران نواز گروہوں، جیسے حوثی اور عراقی ملیشیا، کو امریکی بحریہ کے خلاف استعمال کرنے کے لیے خفیہ عسکری تعاون فراہم کر رہا ہے تاکہ امریکہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

عالمی نظام کی تبدیلی کا نقطۂ آغاز

‘پروکسی نیٹ ورک’ اور ہمہ گیر علاقائی جنگ کا خطرہ

عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔ ایران کا دفاعی نظریہ صرف اس کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ اپنے حلیف غیر ریاستی عناصر کے ذریعے کثیر الجہتی محاذ کھولنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

حزب اللہ، لبنان

لبنان میں موجود عسکری گروہ حزب اللہ نے ایران پر حملوں کے فوراً بعد شمالی اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ داغ کر باقاعدہ طور پر اس جنگ میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس سے ایک نیا ہولناک محاذ کھل چکا ہے۔

حوثی باغی، یمن

یمن کے حوثی جنگجو بحیرہ احمر اور باب المندب میں امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس نے بین الاقوامی تجارتی راستوں کو مفلوج کر دیا ہے۔

عراقی تنظیمیں

عراق اور شام میں سرگرم ایران نواز ملیشیا گروہ وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں پر مسلسل ڈرون اور راکٹ حملے کر رہے ہیں۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ امریکی صدر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کو ‘ایٹمی صلاحیت سے محروم’ کرنے کے لیے اس کی ایٹمی تنصیبات، بشمول خارگ جزیرے کے تیل کے ذخائر، کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ خطہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی اور عسکری دھماکے سے دوچار ہو جائے گا۔

عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹوں پر پڑنے والے طویل المدتی اثرات

دنیا کی 20 فیصد سے زائد خام تیل اور مائع گیس کی سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ پر اپنے قوانین نافذ کرنے کی کوشش اور عسکری بندش کے بعد دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران پیدا ہوا ہے، جس کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر واضح نظر آ رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اچھال

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور جنگ بندی کے خاتمے کی خبروں کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت تین فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ قیمت جلد ہی 120 ڈالر کی حد کو عبور کر سکتی ہے۔ متبادل سپلائی راستے، جیسے افریقہ کے گرد گھوم کر جانا، بحری مال برداری کے اخراجات کو تین گنا بڑھا دیں گے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔

وال اسٹریٹ اور یورپی مارکیٹوں میں گراوٹ

نیویارک کا ڈاؤ جونز، ایس اینڈ پی 500 اور لندن کا ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس شدید مندی اور غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو کر یکدم گر چکے ہیں۔ سرمایہ کار اپنے اثاثے خطرے والے شعبوں، جیسے ہوابازی اور صنعت، سے نکال رہے ہیں۔

محفوظ پناہ گاہوں کی طرف منتقلی

عالمی سطح پر مالیاتی غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنے سرمائے کو محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ اس بحران میں صرف عسکری سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کی داخلی توانائی کی سیکیورٹی حکمت عملی، ایک بڑا چیلنج

پاکستان اپنی ضرورت کا قریباً 70 فیصد سے زائد خام تیل اور مائع قدرتی گیس خلیج فارس کے راستے ہی درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بحران پاکستان کی قومی سلامتی اور معیشت کے لیے براہ راست خطرہ بن چکا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد نے درج ذیل ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں۔

اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کا استعمال

حکومت نے ملک بھر میں موجود پٹرولیم کے تزویراتی ذخائر کی نگرانی سخت کر دی ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس اوسطاً 21 سے 25 دن کا پٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے۔ وزارت توانائی نے ریفائنریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت کو انتہائی حد تک بڑھا کر رکھیں۔

درآمدی راستوں کی متبادل حکمت عملی

چونکہ آبنائے ہرمز میں قطر اور سعودی عرب سے آنے والی مائع قدرتی گیس کی کھیپوں کے پھنسنے کا خطرہ ہے، اس لیے پاکستان کثیر الجہتی پالیسی کے تحت روس اور وسطی ایشیائی ممالک سے زمینی یا متبادل بحری راستوں کے ذریعے خام تیل کی سپلائی کے لیے مذاکرات تیز کر رہا ہے تاکہ خلیج پر انحصار کم کیا جا سکے۔

توانائی کی بچت اور معاشی دباؤ

اگر یہ بحران مزید طویل ہوا تو پاکستان کو اپنے درآمدی بل پر قابو پانے کے لیے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل اور گیس کی بچت کی خاطر ملک گیر سطح پر توانائی بچت منصوبے، مثلاً بازار جلد بند کرنے کی پالیسی، کو سختی سے نافذ کیا جا سکتا ہے، جو ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈالے گا۔

متبادل سفارت کاری اور ثالثی کی آخری امیدیں

اگرچہ عسکری میدان میں جاری بمباری کے باعث ‘جنگ بندی’ کا معاہدہ ٹوٹ چکا ہے، لیکن سوئٹزرلینڈ، اسلام آباد اور دوحہ کے پرانے رابطے مکمل طور پر مسدود نہیں ہوئے۔ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں پس پردہ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ تنازع کو کھلی ایٹمی یا ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

قطر کا متبادل اور تزویراتی کردار

قطر کا کردار روایتی ثالثوں سے ہٹ کر زیادہ عملی اور مالیاتی ہے۔ ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور منجمد فنڈز کی منتقلی قطر کے بینکوں کے ذریعے ہی ہوئی تھی۔ قطر اس وقت پاکستان کے ساتھ مل کر اسی پرانے مالیاتی فارمولے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت ایران کو خلیج میں بحری جہازوں پر حملے روکنے کے بدلے واشنگٹن کی جانب سے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی دی جا سکے۔ چونکہ قطر کے اپنے گیس سپلائی ٹینکر بھی متاثر ہوئے ہیں، اس لیے دوحہ تہران کو اس بات پر قائل کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش سے خود ایران کے حلیف ممالک بھی اس کے خلاف ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور عمان کا فارمولا

پاکستان، قطر اور عمان کے وزرائے خارجہ اس وقت ہنگامی بنیادوں پر فعال ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر واشنگٹن کی جانب سے عائد پابندیوں میں عارضی چھوٹ اور آبنائے ہرمز کی جزوی بحالی کے نئے فارمولے کے تحت مذاکرات کی باقاعدہ میز پر واپس لایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے اگرچہ عارضی جنگ بندی ختم کی ہے، لیکن اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کا دروازہ مکمل بند نہیں کر رہے اور عسکری دباؤ بڑھا کر ایران کو اپنی شرائط پر نئی ‘ڈیل’ کے لیے مجبور کرنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ڈیڈ لاک

سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کی جانب سے ایک ہنگامی قرارداد کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کا واحد مقصد ‘آبنائے ہرمز میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی’ ہے، لیکن کونسل کی اندرونی سیاسی تقسیم، امریکہ بمقابلہ چین و روس، کی وجہ سے یہ پلیٹ فارم فی الحال مفلوج نظر آتا ہے۔

اگر سلامتی کونسل ویٹو کی وجہ سے ناکام ہوتی ہے تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اپنے خصوصی اختیارات آرٹیکل 99 کا استعمال کرتے ہوئے ایک مشترکہ ‘عالمی امن کمیشن’ تشکیل دے سکتے ہیں، جس میں پاکستان، قطر اور عمان کو باقاعدہ طور پر ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔

سیکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق یہ پس پردہ سفارت کاری کسی فوری ‘بڑے مستقل امن معاہدے’ میں تو شاید کامیاب نہ ہو سکے، لیکن یہ تنازع کی شدت کو کم کرنے میں ضرور کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ سب سے پہلا ہدف یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو مزید بڑے حملوں، جیسے ایران کی جوہری تنصیبات یا خلیجی ملکوں کے تیل کے ذخائر پر حملوں، سے روکا جائے۔

اگر پاکستان، ترکی، قطر اور عمان مل کر فریقین کو ‘آبنائے ہرمز کی جزوی بحالی اور محفوظ بحری گزرگاہ’ کے عارضی فارمولے پر بھی راضی کر لیتے ہیں تو اسے عالمی معیشت، پٹرولیم سپلائی کے تحفظ اور خطے کے امن کے لیے ایک بہت بڑی تاریخی اور سفارتی کامیابی مانا جائے گا۔ فیصلہ اب واشنگٹن اور تہران کی نئی عسکری قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دنیا کو امن کی طرف لے جاتے ہیں یا راکھ کے ڈھیر کی طرف۔

اسی بارے میں: