تھر اور بیراج کے سنگم پر واقع، ‘ڈھورو نارو’ شہر سے محض تین کلومیٹر کے فاصلے پر، ‘کلانکر جھیل’ کے قریب ایک ٹیلے پر فطری حسن سے مالا مال گاؤں کھنبھرو آباد ہے۔ تالپور دور ہی سے، ‘ولھیٹ کے مدرسے’ کی طرح کھنبھرو کے مدرسے کی دھاک بھی تھر اور عمرکوٹ کے پورے علاقے میں بیٹھی ہوئی ہے۔ کھنبھرو کے اس مدرسے میں اپنے وقت کے درویش صفت عالم، میاں عبداللہ اکبری نے ایک بے مثال کتب خانہ (لائبریری) قائم کیا تھا، جس میں سندھ کے کئی نامور علماء کے نایاب قلمی نسخے (مخطوطات) موجود تھے۔ یہ قیمتی نسخے بعد میں یہاں سے منتقل ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ نامور محقق ڈراپٹر نبی بخش بلوچ بھی (تحقیقی مقاصد کے لیے) یہاں سے کتابوں کے بورے بھر کر لے گئے تھے۔ سندھ کے مایہ ناز عالم ڈاکٹر عمر بن داؤد پوتہ بھی کتابوں کے مطالعے کے لیے خصوصی طور پر اس کتب خانے میں آئے تھے۔
سندھ کے سما قبیلے سے تعلق رکھنے والا میاں عبداللہ اکبری کا یہ خاندان ٹنڈو الہ یار کے علاقے ‘ولہار’ سے ہجرت کر کے کھنبھرو میں آباد ہوا تھا، اسی مناسبت سے اس خاندان کو ‘ولہاری’ کہا جاتا ہے۔ اس خاندان کے بزرگوں کی علمی خدمات کی بدولت انہیں ‘میوں’ اور ‘میاں’ کا لقب ملا۔ یہ خاندان آج بھی اس خطے میں رواداری، سماجی ہم آہنگی اور روایتی قبائلی سیاست (راج نیتی) کو زندہ رکھنے میں اپنا متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
میاں خالد ولہاری کی اوطاق اور شخصیت
میں پہلی بار کھنبھرو اپنے دوست علی اکبر راہموں کے ہمراہ گیا تھا۔ ہم میاں خالد ولہاری صاحب کی اوطاق (مہمان خانہ) پر حاضر ہوئے، جہاں میاں خالد صاحب کے ساتھ کھنبھرو کے مدرسے کی تاریخ، ان کے بزرگوں کی دینی و علمی خدمات اور خطے کی سماجی و قبائلی روایات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد محترم ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب کے ساتھ بھی مختلف اوقات میں کھنبھرو جانا ہوا؛ کبھی کمبھاروں (کوزہ گروں/ مٹی کے برتن بنانے والوں) کے محلے میں سائیں عیدل اور اے ڈی کمبھار کے پاس، تو کبھی میاں خالد ولہاری صاحب کی اوطاق پر۔ ہر مرتبہ ہماری گفتگو کا محور کھنبھرو کا مدرسہ، کتب خانہ اور ولہاری خاندان کی خدمات ہی رہا۔
میاں خالد صاحب نارو اور تھر کے سنگم والے علاقے کے عوامی رہنما (راجوند)، ضلع عمرکوٹ کے وائس چیئرمین اور صوبائی وزیر تعلیم سائیں سردار شاہ کے قافلے کے ایک انتہائی اہم رکن ہیں۔ وہ ضلع عمرکوٹ میں وزیر تعلیم کے فوکل پرسن کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
پہلی ملاقات کے دوران میاں خالد ولہاری نے ہمیں ڈاکٹر احمد علی نہڑی سے ملوایا اور بتایا کہ ڈاکٹر صاحب اسی گاؤں کے اسکول کے پڑھے ہوئے ہیں، اسی لیے اپنے گاؤں کی خدمت کے جذبے کے تحت وہ ہر اتوار کو یہاں غریب مریضوں کا مفت معائنہ کرتے ہیں۔ میاں خالد صاحب نے بتایا:
"ہم نے بیس سال قبل گاؤں کے نوجوانوں کو متحد کر کے ‘ینگ ویلفیئر ایسوسی ایشن کھنبھرو’ کی بنیاد رکھی تھی۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے مختلف سماجی و معاشی ترقی کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ جب بھی کوئی غریب مریض ڈاکٹر صاحب کے پاس آتا ہے، تو اس کی دواؤں کے اخراجات یہ تنظیم برداشت کرتی ہے۔ یہ ایسوسی ایشن معمولی رقم (قرضِ حسنہ) فراہم کر کے گاؤں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتی رہی ہے۔”
اس اسکیم کی بدولت گاؤں کے کئی نوجوان اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ذاتی کاروبار کے مالک بن چکے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ یہ رقم تنظیم کو واپس لوٹا دیتے ہیں۔ اس وقت گاؤں والوں کی سہولت کے لیے تنظیم کی جانب سے ایک ‘آٹا چکی’ اور انتہائی کم منافع پر چلنے والا ‘یوٹیلیٹی اسٹور’ (کریانے کی دکان) بھی قائم کیا گیا ہے۔ میں یہ سب باتیں سن کر انتہائی متاثر ہو رہا تھا۔ میں نے اپنے دوست علی اکبر سے کہا کہ اس گاؤں کے معزز رہنما کا کردار اور اس تنظیم کا یہ ماڈل دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ ہم دونوں نے ڈاکٹر احمد علی کی ان مخلصانہ خدمات کو دل کھول کر سراہا۔
جب ‘سندھی لینگویج اتھارٹی’ کی جانب سے اپنے گاؤں، کاروباری مراکز اور زرعی زمینوں کے سائن بورڈز مادری زبان (سندھی) میں لکھنے کی مہم چلائی گئی، تو میاں خالد ولہاری نے سب سے پہلے اپنی زرعی زمین کا بورڈ سندھی میں لکھوایا۔
اسی طرح جب ڈھورو نارو میں کالج کے پلاٹ اور ہندو برادری کی ‘دھرم شالا’ کے پلاٹ کا تنازع کھڑا ہوا، تو میاں خالد صاحب نے اپنی ذاتی زمین سے دھرم شالا کے لیے پلاٹ تحفے میں دے کر اس دیرینہ مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کر دیا۔ انہوں نے اسی طرح کے کئی دوسرے علاقائی فیصلے بھی انتہائی دانشمندی سے نمٹائے ہیں اور نیکی کے کام انجام دیے ہیں۔
سائیں سردار شاہ کی ‘کھاروڑو’ والی اوطاق پر جب بھی جانا ہوتا ہے، میاں خالد ولہاری صاحب سے ملاقات ضرور ہوتی ہے۔ میاں صاحب نے ہمیشہ ہم جیسے فقیر منش لوگوں کو مسکراہٹ، محبت اور اپنائیت سے نوازا ہے۔ مجھے میاں خالد صاحب سے ملتے ہوئے شاھ صاحب کا شعر یاد آتا ہے جس میں سماج کے ان باکردار، سخی اور انسان دوست لوگوں کے لیے دعا کی گئی ہے جو دوسروں کا سہارا بنتے ہیں۔ ایسے انسانوں کو ایک ایسے چشمے یا کنویں سے تشبیہ دی گئی ہے جس کا فیض کبھی ختم نہیں ہوتا، اور جن کی محض مسکراہٹ اور دیدار ہی دکھی دلوں کے لیے سکون کا باعث بنتا ہے۔
> اَلا! جُنگَ جِيَنِ، جنِين اَجھي گھارِيان؛
> شالَ مَ سُڪي ويئَرِي، جِئان پِيَّ پِيَنِ؛
> مَرَڪَڻَ! اَکَڙِيَنِ، تو ڏِٺي مُون سُکُ ٿِئي.
*یا رب! وہ سخی اور بهادر مردِ سلامت رہیں، جن کے سائے میں، اپنی زندگی گزار رہا ہوں۔ شال! وہ کنواں کبھی نہ سوکھے، جس سے مسافر اور پیاسے پانی پی کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ اے مسکراتے چہرے والے شفیق انسان! تجھے دیکھ کر میری آنکھوں کو ٹھنڈک اور میرے دل کو سکون ملتا ہے۔*

