کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز حادثے کی ممکنہ وجہ کیا تھی؟

کے ٹو ایئرویز

کے ٹو ایئرویز کی پرواز 1732 کے حادثے کی ابتدائی وجوہات پر فضائی امور کے ماہر عمران اسلم خان نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق سب سے زیادہ امکان یہ ہے کہ طیارے کے انرشیل ریفرنس یونٹ (آئی آر یو) میں خرابی پیدا ہوئی، جس کے باعث پائلٹ سمت کا درست اندازہ نہ لگا سکے اور طیارہ قابو سے باہر ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق 7 جولائی 2026 کو شارجہ سے کراچی آنے والی بوئنگ 737-400 طیارے کی فیری پرواز کے دوران رات نو بج کر 18 منٹ پر عملے نے فضائی ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی کہ جہاز کے نیوی گیشن نظام میں خرابی آ گئی ہے اور انہوں نے سمت معلوم کرنے کے لیے مدد طلب کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ طیارہ روانگی سے پہلے شارجہ میں مرمت کے عمل سے گزرا تھا۔ اس کے تقریباً تین منٹ بعد طیارہ اچانک تیزی سے نیچے گرنے لگا۔ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق ایک موقع پر طیارہ 22 ہزار 400 فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آیا، جو معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار پانچوں عملہ ارکان جاں بحق ہو گئے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ کپتان محمد رضوان ادریس نے اپنے کیریئر کا زیادہ تر حصہ ہیلی کاپٹر اڑانے میں گزارا، جبکہ فرسٹ آفیسر فیصل جتوئی ایئرلائن کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں تھے۔

عمران اسلم خان نے حادثے کی چار ممکنہ وجوہات بیان کی ہیں۔

ان کے مطابق پہلی اور سب سے مضبوط وجہ آئی آر یو کی خرابی اور پائلٹ کا سمت کا احساس کھو دینا ہو سکتی ہے۔ آئی آر یو ایسا اہم نظام ہے جو طیارے کی سمت، زاویے، رفتار اور مقام سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ نظام خراب ہو جائے تو پائلٹ اور آٹو پائلٹ کو غلط معلومات مل سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق طیارہ پہلے تقریباً پانچ ہزار فٹ نیچے آیا، پھر چھ ہزار فٹ اوپر گیا، اس کے بعد رفتار کم ہوئی اور طیارہ گھومتے ہوئے نیچے گرنے لگا۔ ماہر کے مطابق یہ صورتحال آئی آر یو کی خرابی اور پائلٹ کے سمت کا درست اندازہ نہ لگا سکنے کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حادثے سے پہلے اسی فضائی راستے پر 20 سے زائد طیاروں نے جی پی ایس اسپوفنگ کی شکایات بھی کی تھیں۔ مزید کہا گیا کہ پرواز ایسے علاقے کے قریب سے گزر رہی تھی جہاں اسی روز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی، اس لیے ممکنہ برقی یا عسکری مداخلت کو بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں۔

دوسری ممکنہ وجہ کے طور پر دورانِ پرواز طیارے کے ڈھانچے کے ٹوٹنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں طیارے کی حرکت سے لگتا ہے کہ وہ اس وقت تک مکمل طور پر سلامت تھا، اس لیے یہ امکان نسبتاً کمزور دکھائی دیتا ہے۔

تیسری ممکنہ وجہ فلائٹ کنٹرول یا ٹرم سسٹم میں خرابی بتائی گئی ہے، لیکن مصنف کے مطابق ایسی صورتحال میں عموماً پائلٹوں کے پاس مسئلہ حل کرنے کے لیے کچھ وقت موجود ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی کم امکان قرار دیا گیا ہے۔

چوتھی ممکنہ وجہ وزن کے توازن میں اچانک تبدیلی کو قرار دیا گیا، مگر چونکہ یہ ایک فیری پرواز تھی جس میں نہ مسافر تھے اور نہ ہی کارگو، اس لیے اس امکان کو تقریباً مسترد کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی کچھ مماثلت 2007 میں انڈونیشیا میں پیش آنے والے ایڈم ایئر فلائٹ 574 کے حادثے سے بھی ملتی ہے۔ اس حادثے میں بھی بوئنگ 737-400 طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا اور تحقیقات میں آئی آر یو کی خرابی کو اہم وجہ قرار دیا گیا تھا۔

ماہر کے مطابق ایڈم ایئر کے حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے ٹو ایئرویز کے حادثے کی تحقیقات میں بھی اہم رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ موجودہ معلومات کی بنیاد پر کسی ایک وجہ کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا اور اصل سبب کا تعین صرف سرکاری تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

(یہ خبر فضائی امور کے ماہر عمران اسلم خان کے تجزیے پر مبنی ہے۔ حادثے کی سرکاری تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی وجہ کا اعلان متعلقہ تحقیقاتی ادارے کریں گے۔)

اسی بارے میں: