‘چیٹ جی پی ٹی ورک’: کیا دفاتر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا نیا دور شروع ہونے جارہا ہے؟

چیٹ جی پی ٹی

امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے مقبول چیٹ بوٹ کا نیا ورژن  ‘چیٹ جی پی ٹی ورک’ ChatGPT Work)) متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد دفتری اور پیشہ ورانہ کاموں کو پہلے سے زیادہ آسان اور تیز بنانا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام مختلف ایپلی کیشنز اور فائلوں کے درمیان کام کرتے ہوئے ایسے پیچیدہ کام انجام دے سکتا ہے جن کے لیے پہلے کسی ماہر پروگرامر یا مختلف سافٹ ویئرز کی ضرورت پڑتی تھی۔

اوپن اے آئی کے مطابق چیٹ جی پی ٹی ورک دراصل چیٹ جی پی ٹی اور کمپنی کے کوڈنگ ٹول ‘کوڈیکس’ کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی مدد سے صارف دستاویزات تیار کر سکتے ہیں، ویب سائٹس بنا سکتے ہیں، پریزنٹیشنز ترتیب دے سکتے ہیں، معلومات کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور کئی دوسرے دفتری کام ایک ہی جگہ پر انجام دے سکتے ہیں۔

کمپنی نے اس نئے نظام کو اپنی تازہ ترین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی جی پی ٹی 5.6 سے لیس کیا ہے.

اوپن اے آئی کے مطابق یہ ماڈل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز، بہتر اور کم لاگت پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے تین مختلف درجے متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ مختلف ضرورتوں کے مطابق صارفین انہیں استعمال کر سکیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔

خاص طور پر اوپن اے آئی اور حریف کمپنی اینتھروپک کے درمیان اداروں اور کاروباری صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ دونوں کمپنیاں ایسے اے آئی نظام تیار کر رہی ہیں جو انسانی مداخلت کم سے کم رکھتے ہوئے مختلف کام خود انجام دے سکیں۔

غیر پروگرامنگ جاننے والے افراد کو مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈنگ ٹولز کی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی ورک اور کلاڈ کو ورک دونوں تیار کیے گئے ہیں۔ یہ ٹول عام چیٹ بوٹس کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور بہتر صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے خصوصی معلومات اور مہارت درکار ہوتی ہے۔

اوپن اے آئی کے ایک عہدیدار ٹائی گیری نے روئٹرز کو بتایا کہ کمپنی کا نیا ماڈل مختلف صنعتوں میں موجود مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام نہ صرف تیز رفتار ہے بلکہ دوسرے مہنگے ماڈلز کے مقابلے میں کہیں کم لاگت پر بہتر نتائج فراہم کرتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ورک کا مقصد صرف پروگرامرز کی مدد کرنا نہیں بلکہ ایسے لاکھوں پیشہ ور افراد کو بھی فائدہ پہنچانا ہے جو روزانہ رپورٹیں، تجزیے، پریزنٹیشنز، ویب صفحات یا دیگر دفتری دستاویزات تیار کرتے ہیں۔ اس نظام کے ذریعے وہ بغیر تکنیکی مہارت کے بھی متعدد پیچیدہ کام انجام دے سکیں گے۔

روئٹرز کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ ایسے  اے آئی ایجنٹس پر دی جا رہی ہے جو صارف کی ہدایات سمجھ کر مختلف مراحل خود مکمل کر سکیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں یہی ٹیکنالوجی دفاتر کے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔

اوپن اے آئی نے اپنے نئے ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشن کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کے لیے ایسی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ویب سائٹس کی میزبانی بھی کر سکیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید فیچرز بھی شامل کیے جائیں گے تاکہ تمام ضروری دفتری کام ایک ہی پلیٹ فارم سے انجام دیے جا سکیں۔

ابتدائی مرحلے میں چیٹ جی پی ٹی ورک صرف پرو، انٹرپرائز اور تعلیمی اداروں کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، جبکہ بعد میں اسے مزید صارفین تک بھی توسیع دی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کمپنیاں ایسے نظاموں پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں جو ملازمین کا وقت بچائیں، اخراجات کم کریں اور کام کی رفتار میں اضافہ کریں۔ اسی وجہ سے اوپن اے آئی، اینتھروپک اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس شعبے میں مسلسل نئی مصنوعات متعارف کرا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی توقعات کے مطابق کامیاب ثابت ہوئی تو مستقبل میں دفاتر میں روزمرہ کے بہت سے کام مصنوعی ذہانت کی مدد سے انجام دیے جا سکیں گے، جبکہ انسان زیادہ توجہ تخلیقی، انتظامی اور فیصلہ سازی سے متعلق امور پر دے سکیں گے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ملازمتوں، رازداری، معلومات کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق سوالات بھی پہلے سے زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں: