جب ہم گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں تو عام طور پر اسے پوری دنیا کا یکساں مسئلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جاپانی سائنس دانوں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انوائرمنٹل اسٹڈیز کے ڈاکٹر ہجی اوکا یاسوآکی کی تازہ تحقیق ایک مختلف حقیقت سامنے لاتی ہے۔ ان کے مطابق ایشیا میں درجہ حرارت اور موسمی بگاڑ کی رفتار عالمی اوسط سے تقریباً دگنی ہے۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایشیا کے مخصوص جغرافیے کا نتیجہ ہے، جس کے اثرات سب سے زیادہ برصغیر، خصوصاً پاکستان، پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ایشیا ایک قدرتی ہیٹ انجن کیوں بن رہا ہے؟
ڈاکٹر یاسوآکی کے مطابق ایشیا کا زمینی رقبہ انتہائی وسیع ہے اور اس کے اندرونی علاقے سمندروں سے بہت دور واقع ہیں۔ سمندر عام طور پر درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن جب سمندری ہوائیں ایشیا کے اندرونی حصوں تک پہنچتی ہیں تو ان کا ٹھنڈا اثر بہت حد تک ختم ہو چکا ہوتا ہے۔
اس کے نتیجے میں زمین سمندر کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ یوں ایشیا کا اندرونی حصہ ایک قدرتی ہیٹ انجن کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو نہ صرف زمینی درجہ حرارت بڑھاتا ہے بلکہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے پانی کو بھی غیر معمولی طور پر گرم کر دیتا ہے۔ جب زمین اور سمندر دونوں ایک دوسرے کی گرمی میں اضافہ کرنے لگیں تو درجہ حرارت عالمی اوسط سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان پر اس کے اثرات
اگر اس سائنسی ماڈل کو برصغیر پر لاگو کیا جائے تو پاکستان اس بحران کے مرکز میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقے قطبین کے بعد دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز کے ذخیرے پر مشتمل ہیں، جنہیں دنیا کا ‘تیسرا قطب’ بھی کہا جاتا ہے۔
درجہ حرارت میں اضافے سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اچانک سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری طرف بحیرہ عرب کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت مونسون کے نظام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ زیادہ گرم سمندر اور زیادہ گرم زمین شدید بارشوں کے بڑے بادل تشکیل دیتے ہیں، جو چند دنوں میں پورے موسم کی بارش برسا دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں آنے والی تباہ کن بارشیں اور سیلاب اسی رجحان کی مثال ہیں۔
یہ صرف موسمی مسئلہ نہیں
یہ صورت حال اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ پاکستان کی معیشت اور قومی بقا سے جڑا معاملہ بن چکی ہے۔ ملک کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، جبکہ زراعت براہ راست موسم پر منحصر ہے۔
بدقسمتی سے طویل المدتی سائنسی منصوبہ بندی کا فقدان، ادارہ جاتی کمزوریاں، ناقص منصوبہ بندی اور ہنگامی تیاریوں کی کمی موسمی آفات کے نقصانات میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔
عوامی سطح پر بھی موسمیاتی تبدیلی کو اکثر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ جنگلات کی کٹائی، آبی گزرگاہوں پر تجاوزات اور بڑھتی ہوئی آلودگی ایسے عوامل ہیں جو اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
جاپانی ماہرین کی تحقیق پاکستان، خصوصاً سندھ، کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر ایشیا عالمی اوسط سے دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے تو پاکستان کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔ ماحولیات اور موسمیاتی موافقت کو بھی قومی سلامتی اور دفاع کی طرح اہمیت دینا ہوگی۔
جنگلات کی بحالی، پانی کے ذخائر کا جدید انتظام، گرمی کی لہروں سے نمٹنے کی منصوبہ بندی اور سائنسی بنیادوں پر موسمیاتی پالیسی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو آنے والے برسوں میں اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایشیا کا یہ دہکتا جغرافیہ پاکستان کے لیے مزید سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔

