عالمی یومِ یوگا: مودی کی تجویز پر شروع ہونے والا یہ عالمی دن کیوں منایا جاتا ہے؟

یوگا

دنیا بھر میں ہر سال 21 جون کو عالمی یومِ یوگا منایا جاتا ہے۔ اس سال اس دن کا موضوع ‘صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا’ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ یوگا ہر عمر کے افراد، خصوصاً بزرگوں، کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

عالمی یومِ یوگا پہلی مرتبہ 21 جون 2015 کو منایا گیا تھا۔ اس دن کے عالمی سطح پر انعقاد کا فیصلہ دسمبر 2014 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے کیا تھا۔ یہ تجویز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پیش کی تھی جسے ریکارڈ 175 رکن ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ اقوام متحدہ نے 11 دسمبر 2014 کو قرارداد نمبر 69/131 منظور کرتے ہوئے 21 جون کو عالمی یومِ یوگا قرار دیا۔

21 جون کی تاریخ کا انتخاب بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ ایک تو یہ سال کا سب سے بڑا دن ہوتا ہے اور قدیم یوگی روایات میں اس دن کو روحانی اور جسمانی ترقی کے حوالے سے خاص مقام حاصل ہے۔

یوگا ایک قدیم جسمانی، ذہنی اور روحانی مشق ہے جس کی ابتدا ہزاروں سال قبل بھارت میں ہوئی۔ ‘یوگا’ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ‘جڑنا’ یا ‘اتحاد پیدا کرنا’۔ اس تصور کے مطابق یوگا جسم، ذہن اور شعور کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یوگا دنیا کے مختلف ممالک میں مقبول ہوتا گیا۔ آج کروڑوں افراد مختلف انداز میں یوگا کی مشق کرتے ہیں۔ کئی ممالک میں پارکوں، تعلیمی اداروں، کمیونٹی مراکز اور صحت کے اداروں میں یوگا کی باقاعدہ کلاسیں منعقد کی جاتی ہیں۔

پاکستان میں بھی ’دی ونڈرفل کلب پاکستان‘ کراچی سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں صبح کے اوقات میں یوگا سکھانے کا اہتمام کرتا ہے، جہاں یوگا انسٹرکٹرز مفت میں یوگا سکھاتے اور اس کی پریکٹس کرتے ہیں۔ اس سال محرم عاشورہ کی وجہ سے پاکستان میں یہ دن سادگی سے منایا جارہا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق اس سال کا موضوع "صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا” موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ دنیا بھر میں اوسط عمر بڑھ رہی ہے اور بزرگ آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور لوگوں کو زیادہ عرصے تک فعال اور خودمختار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

یوگا اس حوالے سے ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں نرم جسمانی حرکات، کھنچاؤ کی مشقیں، سانس کی ورزشیں اور ذہنی یکسوئی شامل ہوتی ہے۔ یہ تمام عناصر مل کر جسمانی توازن، لچک، طاقت اور حرکت کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یوگا ذہنی دباؤ کم کرنے، بہتر نیند لانے اور جذباتی سکون فراہم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کے جسم میں توازن اور لچک کم ہونے لگتی ہے جس سے گرنے اور چوٹ لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یوگا کی باقاعدہ مشق ان خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بزرگ افراد کے لیے خصوصی یوگا پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔ ادارے کے مطابق جسمانی غیرفعالیت دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور یہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس، کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اپنے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کو صحت مند طرز زندگی اپنانے اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔

ماہرین کے مطابق یوگا کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے مختلف عمروں، جسمانی صلاحیتوں اور صحت کی حالتوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ افراد بھی اپنی ضرورت کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بہت سی ایسی مشقیں موجود ہیں جو کرسی پر بیٹھ کر یا محدود جسمانی حرکت کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہیں۔

یوگا صرف جسمانی ورزش تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کے بارے میں متوازن سوچ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ معروف یوگا ماہر بی کے ایس آئینگر کے مطابق یوگا انسان کو روزمرہ زندگی میں متوازن رویہ اختیار کرنا سکھاتا ہے اور اپنے کام بہتر انداز میں انجام دینے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی یومِ یوگا کا مقصد دنیا بھر میں یوگا کے فوائد کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ بہتر صحت صرف علاج سے نہیں بلکہ صحت مند عادات، متوازن طرز زندگی اور باقاعدہ جسمانی سرگرمیوں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

عالمی یومِ یوگا 2026 کا موضوع اس پیغام کو مزید مضبوط بناتا ہے کہ عمر بڑھنا زندگی کا فطری حصہ ہے، لیکن مناسب ورزش، متوازن غذا اور ذہنی سکون کے ذریعے بڑھاپے کو زیادہ صحت مند، فعال اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ یوگا اسی مقصد کے حصول کے لیے ایک سادہ، کم خرچ اور مؤثر ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اسی بارے میں: