سویڈن کی عدالت نے اہلیہ کو تین برس تک 120 سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنے والے شوہر کو چار سال، پانچ ماہ قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے قید کی سزا کے ساتھ ملزم کو خاتون کو دو لاکھ کرونا، تقریباً 20 ہزار آٹھ سو امریکی ڈالر ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
شمالی سویڈن کے ایک 61 سالہ شخص پر الزام ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ کو تین برس تک 120 سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا اور اس عمل سے مالی فائدہ حاصل کرتا رہا۔ مقدمے کی سماعت مشرقی ساحلی شہر ہیرنوسانڈ کی عدالت میں ہوئی جہاں خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق استغاثہ کا موقف ہے کہ ملزم نے 2022 سے 2025 تک اپنی بیوی کو مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور نگرانی کے ذریعے قابو میں رکھا۔ خاتون کو ایک دور دراز فارم ہاؤس میں رکھا جاتا تھا جہاں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے مردوں سے ملاقاتوں کا انتظام کیا جاتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ خاتون اکتوبر 2025 میں پولیس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔
تحقیقاتی دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے گھر میں نگرانی کے متعدد کیمرے نصب کر رکھے تھے اور ان کے ذریعے خاتون کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جاتی تھی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ خاتون کو منشیات کے استعمال کا عادی بنا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان پر کنٹرول برقرار رکھنا آسان ہو گیا تھا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم نہ صرف ملاقاتوں کا انتظام کرتا تھا بلکہ آن لائن اشتہارات بھی جاری کرتا اور ممکنہ گاہکوں سے رابطے کے دوران کئی مرتبہ خود کو خاتون ظاہر کرکے گفتگو کرتا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق خاتون کو مختلف اوقات میں تشدد اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔ استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم اپنی بیوی کو خوفزدہ رکھتا تھا اور ان کی کمزور نفسیاتی اور جسمانی حالت کا فائدہ اٹھاتا تھا۔
مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ملزم نے خاتون کو آن لائن جنسی نوعیت کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا تاکہ مزید افراد کو راغب کیا جا سکے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ تحقیقات کے دوران 120 سے زیادہ ایسے مردوں کی نشاندہی ہوئی جنہوں نے مبینہ طور پر خاتون سے جنسی خدمات حاصل کیں۔ تاہم قانونی کارروائی کے لیے ابتدائی طور پر صرف چند درجن افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔
سویڈن کے قانون کے مطابق جنسی خدمات خریدنا جرم ہے جب کہ ایسی خدمات فراہم کرنے والے افراد کو اکثر استحصال کا شکار تصور کیا جاتا ہے۔
مقدمے کے دوران ملزم نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ اس کا کہنا تھا کہ تمام ملاقاتیں باہمی رضامندی سے ہوتی تھیں اور اس نے صرف انتظامی معاملات میں مدد فراہم کی تھی۔ تاہم استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون کی رضامندی آزادانہ نہیں تھی کیونکہ وہ مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور نگرانی کے ماحول میں زندگی گزار رہی تھیں۔
خاتون نے عدالت میں براہ راست پیش ہونے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اب اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر چکی ہیں اور نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ خاتون کئی برس تک شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا شکار رہیں اور اب انصاف کی منتظر ہیں۔
یہ مقدمہ فرانس کے مشہور پیلیکوٹ کیس سے بھی جوڑا جا رہا ہے جس میں ایک شخص پر اپنی بیوی کو منشیات دے کر متعدد افراد کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گھریلو تشدد اور جنسی استحصال بعض اوقات برسوں تک نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں۔
عدالت نے بعد ازاں ملزم کو سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے چار سال اور پانچ ماہ قید کی سزا سنائی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم نے اپنی اہلیہ کا بے رحمانہ استحصال کیا اور کئی برس تک ان کی آزادی اور خودمختاری کو محدود رکھا۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کے حق میں مالی ہرجانے کا حکم بھی دیا۔ مزید برآں جن مردوں پر جنسی خدمات خریدنے کے الزامات ثابت ہوئے ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی۔
سویڈن میں اس مقدمے کو حالیہ برسوں کے اہم ترین جنسی استحصال کے مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس نے گھریلو تشدد، خواتین کے استحصال اور آن لائن پلیٹ فارمز کے غلط استعمال سے متعلق کئی اہم سوالات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔

