موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی بچوں کی جنس پر اثر کررہی ہے؟ سائنسدانوں کی حیران کن دریافت

شدید گرمی

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر ہونے والی بحث عموماً بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، سیلابوں اور خشک سالی تک محدود رہتی ہے، لیکن سائنسدان اب ایک ایسے پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جو انسانی زندگی کے آغاز سے جڑا ہوا ہے۔ بعض تحقیقات یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا شدید گرمی اور غیر معمولی موسمی حالات بچوں کی پیدائش کے تناسب پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
دنیا بھر میں قدرتی طور پر ہر سو لڑکیوں کے مقابلے میں تقریباً 105 لڑکے پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین آبادیات اس تناسب کو ایک حیاتیاتی معمول قرار دیتے ہیں جو مختلف معاشروں اور خطوں میں معمولی فرق کے ساتھ تقریباً یکساں رہتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بعض سائنسدانوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ شدید موسمی واقعات، قدرتی آفات اور غیر معمولی ماحولیاتی دباؤ کے بعد اس تناسب میں معمولی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔
متعدد بین الاقوامی مطالعات میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ حمل کے ابتدائی مراحل میں ماحولیاتی دباؤ انسانی جسم پر اثر ڈال سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق مرد جنین حمل کے دوران بعض جسمانی اور ماحولیاتی دباؤ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ حساس ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے شدید گرمی، غذائی قلت، ذہنی تناؤ یا دیگر غیر معمولی حالات کے دوران حمل ضائع ہونے کے امکانات میں معمولی فرق پیدا ہو سکتا ہے، جو بعد ازاں پیدائش کے مجموعی تناسب پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اس حوالے سے صرف گرمی ہی موضوعِ تحقیق نہیں رہی۔ 1995 میں شائع ہونے والی ایک معروف تحقیق میں جاپان کے شہر کوبے میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے تناسب کا جائزہ لیا گیا تھا۔ محققین نے پایا کہ زلزلے کے بعد بعض ادوار میں لڑکوں کی پیدائش کی شرح میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح امریکہ اور آسٹریلیا میں بھی قدرتی آفات اور شدید موسمی واقعات کے بعد ایسے رجحانات پر تحقیق کی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض ماہرین نے جنگوں، معاشی بحرانوں اور قحط جیسے حالات کے بعد بھی پیدائش کے تناسب میں تبدیلیوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اگرچہ نتائج ہر جگہ یکساں نہیں رہے، لیکن کئی مطالعات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بڑے پیمانے پر انسانی یا ماحولیاتی دباؤ آبادی کے بعض حیاتیاتی اشاریوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
شدید گرمی کے اثرات صرف جنین تک محدود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور مختلف طبی ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ گرمی کی شدید لہریں حاملہ خواتین کے لیے اضافی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ پانی کی کمی، بلند فشار خون، جسمانی تھکن، قبل از وقت پیدائش اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات شدید گرمی کے دوران بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہوں۔
محققین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس موضوع پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ سائنسدانوں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق موجود نہیں کہ شدید گرمی براہِ راست لڑکیوں کی زیادہ پیدائش کا سبب بنتی ہے۔ تاہم مختلف ممالک سے سامنے آنے والے شواہد یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ غیر معمولی موسمی حالات انسانی تولیدی صحت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
آج جب دنیا ریکارڈ توڑ ہیٹ ویوز، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی بے یقینی کا سامنا کر رہی ہے، تو یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی سے کہیں آگے جا کر انسانی صحت اور آبادیاتی رجحانات کو کس حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اب موسمیاتی تبدیلی کو صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور حیاتیاتی مسئلہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں: