بی ایم کُٹی: سرحدوں کی قید و بند سے آزاد صحافی، مزدور رہنما، جن کی ‘فطرت میں مستقل ایک جگہ ٹھہرنا نہیں تھا’

بی ایم کُٹی

پاکستان کی سیاسی، سماجی اور جمہوری تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے اقتدار سے زیادہ نظریات، اور شہرت سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دی۔ ان ہی شخصیات میں ایک نام بی ایم کُٹی کا بھی ہے۔ وہ سیاست دان بھی تھے، صحافی بھی، مزدور رہنما بھی، انسانی حقوق کے حامی بھی، اور پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکن بھی۔ ان کی زندگی تقریباً سات دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد کی کہانی ہے۔ 

بی ایم کُٹی کا اصل نام بیاتل محی الدین کُٹی تھا۔ وہ 15 جولائی 1930 کو برطانوی انڈیا کے علاقے مالابار، موجودہ کیرالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط طبقے کے مسلمان گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سیاسی طور پر مسلم لیگ کے حامی تھے، لیکن نوجوان کُٹی پر بائیں بازو کی سیاست اور سماجی انصاف کے نظریات کا گہرا اثر پڑا۔ طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے کمیونسٹ طلبہ تحریک میں دلچسپی لی اور سماجی مسائل کو قریب سے سمجھنا شروع کیا۔ 

انہوں نے مدراس کے محمدن کالج میں تعلیم حاصل کی، لیکن ان کی دلچسپی روایتی تعلیمی کامیابی سے زیادہ سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں تھی۔ وہ بعد میں لکھتے ہیں کہ کالج میں گزارا گیا وقت زیادہ تر والد کی خواہش پوری کرنے کے لیے تھا۔ 

’جون 1949 میں جب کالج گرمیوں کی تعطیلات کے لیے بند ہوا تو میں نے ایک فیصلہ کیا کہ میں اب واپس گھر ہرگز نہیں جاؤں گا،‘ کُٹی نے اپنی سوانحہ حیات میں لکھا۔ 

وہ بمبئی کی ٹرین میں سوار ہو ئے، مالابار کے ایک فیملی دوست اور بمبئی کی ایک برطانوی دھات ساز کمپنی میں ملازمت کرنے والے ٹی کے معین الدین کے گھر پہنچ گئے۔  معین الدین نے نوجوان کٹی کو بمبئی میں اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کو کہا۔ لیکن ان کے ارادے کچھ اور تھے۔ ’میں اپنے ایک ناقابلِ مزاحمت مستقبل کا خواہاں تھا۔ میں بہت عجلت میں بھی تھا۔ میں نے اپنے کالج کی اسناد کے لیے بھی مزید انتظار گوارا نہ کیا۔ اور میں نے کراچی روانگی کا فیصلہ کر لیا۔‘

انہوں نے اپنے اس فیصلے کو صرف ہجرت نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی اور سماجی تجربے کی تلاش قرار دیا۔

نیا ملک نئی کھوج

اگست 1949 میں، بی ایم کُٹی اور ان کے ایک ملیالی دوست نے بمبئی سینٹرل سے جودھ پور ریلوے اسٹیشن تک کے ٹکٹ خریدے۔ وہاں سے وہ انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر واقع قصبے کھوکھراپار کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔ راستے میں انہوں نے مناباؤ میں ایک رات قیام بھی کیا، جو اُس زمانے میں سرحدی ریلوے ٹرانزٹ پوائنٹ تھا۔

بی ایم کُٹی اپنی خود نوشت سوانح عمری جس کا اردو ترجمہ ’خود اختیار کردہ جلاوطنی، سیاسی جدوجہد کے 62 سال‘ کے  نام سے شائع ہوا ہے، میں لکھا ہے کہ وہ پاکستان کے قیام کے ٹھیک دو سال کے بعد 14 اگست کو کراچی پہنچے۔

کراچی میں انہیں ایک اور ملیالی شخص ملا جس نے ان کی مدد کی اور انہیں لارسن اینڈ ٹوبرو کمپنی میں ملازمت دلوا دی۔ وہاں تین ماہ کام کرنے کے بعد کٹی نے بغیر کسی کو بتائے لاہور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’صرف ایک ہی جگہ مستقلاً ٹھہرنا میری فطرت میں نہیں تھا۔‘

کُٹی نے لکھا ہے کہ پاکستان آنے کی وجہ مذہبی قطعی نہیں تھی، جیسا کہ تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان چھوڑنے والے لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ ان کے مطابق پاکستان آنے کے پیچھے جغرافیہ سے ان کی دلچسپی اور لاہور کی ثقافتی وراثت کو قریب سے دیکھنے کی خواہش تھی۔ خاص طور پر وہ جہانگیر، نور جہاں اور انارکلی کے مقبروں کی سیر کرنا چاہتے تھے۔

لاہور میں ان کی ملاقات ایک ملیالی ہندو، اے آر پلائی، سے ہوئی۔ پلئی نے ان کی مدد کی اور انہیں انڈین کافی ہاؤس میں اسسٹنٹ مینیجر کی ملازمت دلوا دی۔ وہ صرف چار ماہ ہی وہاں کام کرسکے، مگر اس دوران کافی ہاؤس میں آنے والے سیاست دانوں، صحافیوں اور ادیبوں سے ان کی ملاقاتیں رہیں۔ بعد میں ان کو برصغیر کی ایک بڑی تجارتی کمپنی میں مستقل ملازمت مل گئی۔ 

پہلی مرتبہ انہوں نے جم کر کسی کمپنی میں کام کیا۔ مگر صرف دو سال۔ یہاں پر ان کا پہلی بار ایک نرس سے عشق ہوا۔ ایک دفعہ بیماری کے باعث کمپنی نے کُٹی کو گنگا رام ہسپتال میں داخل کروادیا۔ وہاں فردوس نامی ایک نرس نے ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی۔ بس، وہ اس پنملازمتی نرس کو دل دے بیٹھے۔ 

بعد میں نرسوں کی انچارج جو کہ اتفاق سے ملیالم تھی، کُٹی کو مشورہ دیا کہ وہ کسی ایسی خاتون سے شادی نہ کرے جو اس کی زبان ہی نہیں سمجھتی۔کٹی بھی اردو صحیح طریقے سے نہیں بول سکتے تھے، سوائے انگریزی کے۔ بعد میں ان کو احساس ہوا کہ نرس فردوس بھی ان سے اکھڑ اکھڑ کر رہنے لگی۔ ہسپتال سے چھٹی کے وقت بھی اس نے کُٹی سے ملاقات گوارہ نہیں کی۔ 

بعد میں ان کی شادی ان کی دفتر کے چیف کیشیئر عبدالواحد کی بیٹی برجیس صدیقی سے 21 جنوری 1951 کو ہوئی۔ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے تھے۔ اپنی کتاب کے انتساب میں انہوں نے اپنی بیگم کا نام بھی شامل کیا ہے، لکھتے ہیں: ’اہلیہ برجیس- جنہوں نے 60 سال تک ہر سرد و گرم میں میرا ساتھ دیا اور مجھے فخر سے اپنا سر بلند کرنے اور یہ کتاب تحریر کرنے کا حوصلہ دیا۔‘ ان کی بیگم کا تعلق اردو بولنے والی یوپی کی فیملی سے تھا۔ ان کا ایک بیٹا جاوید اور دو بیٹیاں یاسمین اور شازیہ ہیں۔

کراچی واپسی اور سیاسی سفر کی شروعات

لاہور میں تقریباً پانچ سال قیام اور مختلف علاقوں میں کرائے کے مکانوں میں رہائش کے دوران کُٹی کی فیملی میں ایک بیٹے اور ایک بیٹی کا اضافہ ہوگیا۔ اس دوران انہوں نے کئی کمپنیاں میں ملازمتیں کی۔ آخر کار انہوں نے 30 ستمبر 1955 کو فیملی کے ہمراہ کراچی شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا۔ 

کراچی میں ان کی پہلی رہائش ناظم آباد نمبر 2 میں ایک کرائے کے مکان میں ہوئی۔ بہت جلد ان کو برہان انجنیئرنگ کمپنی میں ملازمت بھی مل گئی۔ کراچی میں ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔ ان کا رابطہ کراچی کے پروگریسو عناصر ہوا اور وہ کمیونسٹ پارٹی  اور ٹریڈ یونین تحریک میں متحرک ہوگئے۔ 

اپنے پرانے دوستوں سے مل کر انہوں نے کیرالہ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی، جس نے بہت جلد آل پاکستان عوامی لیگ سے الحاق ہوگیا۔ مگر کچھ ہی عرصے میں 30 ستمبر 1955 کو پاکستان میں ون یونٹ نافذ کردیا گیا، جس کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبے تحلیل کرکے ایک یونٹ بنادیے گئے، جب کہ ایسٹ بنگال کو ایسٹ پاکستان کا نام دیا گیا۔

سندھ اور بلوچستان میں ون یونٹ کے خلاف تحریک شروع ہوگئی اور نئے نئے سیاسی اتحاد بننے لگے۔ اسی دوران بائیں بازو کی ترقی پسند، کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں کے مل کر 1956 میں پاکستان نیشنل پارٹی تشکیل دی۔ کٹی کی کیرالہ عوامی لیگ نے بھی 22 جنوری 1957 کو پی این پی میں ضم ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ 

شروع میں ان کو نئی پارٹی میں متحرک ہونے کا موقع نہیں ملا اور پھر ان کا تبادلہ ایک مرتبہ پھر لاہور ہوگیا۔ 

ایوبی مارشل لا اور حوالات کی سختیاں

اکتوبر 1958 کو صدر اسکندر مرزا نے ملک میں مارشل لا لگا دیا۔ اور بہت جلد فوجی سربراہ چیف مارشل ایوب خان نے اقتدار پر مکمل کنٹرول کرکے ملک پر طویل آمریت مسلط کردی۔ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عاید کردی گئی اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری شروع ہوگئی۔ بی ایم کٹی کو بھی اپنی گرفتاری کا ڈر رہنے لگا۔ اس لیے انہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ اپنے آبائی علاقے یعنی کیرالہ واپس جانے کا فیصلہ کرلیا۔ تین ماہ کے قیام کے بعد وہ واپس لاہور پہنچے۔ 

مگر پاکستان پہنچتے ہی ان کے لیے برے وقت کا آغاز ہوا۔ ان کو دفتر کی جانب سے کراچی بلایا گیا۔ وہ جیسے ہی کراچی ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو پولیس نے ان کو گرفتار کرلیا۔ ان کی گرفتاری ایک ایسے مارشلائی قانون تحت عمل میں لائی گئی تھی جس کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا۔ 

تھانے میں دوران تفتیش ان کو بتایا گیا کہ ان پر الزام ہے کہ وہ انڈیا کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ انڈیا میں تین مہینے قیام کے دوران انہوں نے جاسوسی کی تربیت حاصل کی ہے۔ ان کو تفتیشی افسران نے کچھ فوٹوز اور انڈین لوگوں کے پتے اور فون نمبر دکھائے جن سے انہوں کی انڈیا میں ٹرین کے سفر کے دوران پہلی بار ملاقات ہوئی تھی اور اس انڈین فیملی کے ساتھ انہوں نے فوٹو بھی کھچوائے تھ

ے۔ کُٹی نے تمام الزامات کی تردید کی اور تفتیش کرنے والے افسران سے ان کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کی، جو کہ ان سنی کی گئی۔ 

تقریباً 6 ماہ لاک اپ میں غیر انسانی سلوک کے ساتھ رہتے ہوئے آخرکار انہوں نے بیزار ہوکر بھوک ہڑتال کا فیصلہ کرلیا۔ دو تین دن میں ان کی طبیعت خراب ہونے لگی تو تھانے کی انتظامیہ انہیں جناح ہسپتال میں چیک اپ کے لیے لے گئے۔ ڈاکٹرز نے پولیس کو ان کو قدرتی ہوا میں رکھنے کی تاکید کی۔ کٹی کو بہت جلد ہی کراچی سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا۔ 

جی ایم سید سے قربت

کراچی سینٹرل جیل میں بی ایم کٹی کو مارشل لا کے تحت گرفتار سیاسی کارکنوں کے ساتھ ایک ہی وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ دیگر سیاسی اسیروں کے ساتھ ساتھ ان کی ملاقات اسی وارڈ کے مقیم سابق مسلم لیگی اور سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید سے ہوئی۔ 

اپنی کتاب میں کٹی لکھتے ہیں کہ جیل کے ایک ہی وارڈ میں تین ماہ کے طویل رفاقت سے انہوں نے سائیں جی ایم سید کو بہت قریب سے جانا۔ ’جی ایم سید میں بے حد دل و دماغ کی صفات تھیں اور سب سے بڑھ کر یہ ہ وہ اعلیٰ انسان تھے۔‘

انہوں نے مزید لکھا: ’میں اپنا زیادہ وقت جی ایم سید صاحب کی صحبت میں گزارتا۔ ایک ایک منٹ جو میں نے ان کے ساتھ گزارا اُس میں میں نے اُن سے بے شمار فیض حاصل کیا۔ وہ علم کا ایک بحرِ بیکراں تھے، یہ حیرانی کی بات تھی، ایک شخص جس نے کبھی مروّجہ سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کی، اُس نے مسلم لیگ کو سندھ کے دیہاتوں میں متعارف کرایا۔ کیسے سندھ اسمبلی نے پہل کرتے ہوئے مطالبہ پاکستان کی توثیق کی، پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد کس خندہ پیشانی سے اس نے لاکھوں انڈیا سے ہجرت کر کے آئے ہوئے مہاجرین کو سندھ کی سرزمین میں خوش آمدید کہا، اور مقامی باشندوں کے دلوں میں ان کی آبادکاری کا جذبہ پیدا کر کے ان کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور یہ سب کچھ دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ کر چکنے کے بعد کس طرح قائدِ اعظم نے اس کو دھوکا دیا۔‘

رہائی کے بعد کُٹی کا جی ایم سید اور ان کے رفقا سے زندگی بھر رابطہ رہا۔ جیل سے ’پیرول‘ پر رہائی کے وقت جی ایم سید نے کٹی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے خاندان کا خیال رکھیں گے۔ شاہ صاحب نے کٹی سے کہا: ’میں تمہیں کبھی فراموش نہیں کر پاؤں گا۔ اگرچہ میں اپنے گاؤں میں نظر بند رہوں گا لیکن میں آپ کی بیوی سے رابطے کی کوشش کروں گا اور دیکھوں گا کہ ہم ان کی کس قدر معاونت کر سکتے ہیں۔‘ یہ محض رسمی الفاظ نہیں تھے۔ جی ایم سید نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ایک آدمی کو برجیس (بیوی) اور بچوں سے ملنے لاہور بھیجا۔ جب تک وہ زندہ رہے وہ مجھ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے رہے اور بہت محبت کا برتاؤ رکھا۔ شاہ محمد شاہ اس کی تصدیق کریں گے۔‘

اپنی کتاب میں آگے لکھتے ہیں کہ جیل سے رہائی کے بعد کراچی میں وہ جی ایم سید سے ملنے ان کے نشتر پارک کے قریب رہائش گاہ حیدر منزل میں ملنے جاتے تھے، جہاں جی ایم سید تاحیات نظر بند تھے۔ ’وہ مجھے اسی محبت اور خندہ پیشانی سے ملتے جیسے وہ جیل میں قید کے دوران ملا کرتے تھے۔‘

لاہور منتقلی اور رہائی

مسز کُٹی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے بی ایم کُٹی کو کراچی جیل سے لاہور ڈسٹرکٹ منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے اور وہ دسمبر 1960 کو اپنی فیملی کے قریب لاہور آگئے۔ بلآخر کٹی کو 21 اگست 1961 کو جیل سے رہائی ملی۔

کچھ عرصہ لاہور میں قیام کے بعد کُٹی 15 ستمبر 1961 کو واپس کراچی آگئے۔ کراچی میں مختلف اداروں میں نوکری کی اور ساتھ ساتھ انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔مگر مارشل لا کے باعث سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی آزادی نہیں تھی۔ ان کے روابط  کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے ہوئے۔ اس دوران انہوں نے ڈھاکا، ماسکو اور وارسا کے دورے بھی کیے۔ 

1970 کے انتخابات اور بلوچستان حکومت میں شمولیت

1970 کے عام انتخابات کے بعد اور 1971 بنگال میں پاکستان آرمی کے آپریشن اور پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں بنگلادیش وجود میں آیا۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت قائم کرلی۔ پنملازمت اور سندھ میں پی پی پی نے اکثریت، جبکہ  صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمیعت علما اسلام نے اکثریت حاصل کرلی تھی۔ 

6 مارچ 1972 کو پی پی پی، نیپ اور جے یو آئی کے مابین سہ فریقی معاہدہ طے پایا گیا۔ یوں بلوچستان اور صوبہ سرحد میں نیپ کی صوبائی حکومتیں تشکیل پائیں اور نیپ کے گورنرز مقرر ہوئے۔ 

بلوچستان میں سردار عطااللہ مینگل وزیراعلیٰ اور میر غوث بخش بزنجو گورنر بن گئے۔ بی ایم کٹی بزنجو کی انتخابی مہم کے دوران ان کی تقاریر لکھتے رہتے تھے، اس لیے گورنر بننے کے بعد انہوں نے کٹی کو کوئٹہ بلایا اور اپنا پولیٹیکل سیکریٹری مقرر کردیا۔ ان کا قیام بھی گورنر ہائوس میں تھا۔ ساڑھے نو مہینے گورنر ہائوس میں ملازمت کے دوران انہوں نے دیکھا کہ کچھ خفیہ ہاتھ نیپ اور پی پی پی کے رشتے کو مضبوط انداز میں پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے، تاکہ جمہوری اصول اور تعاون پروان نہ چڑھ سکے۔ 

مئی 1972 سے فروری 1973 تک کٹی  بلوچستان حکومت کا حصہ رہے۔ یہ صوبہ ان کے لیے سماجی، تہذیبی اور سیاسی اعتبار سے غیر مانوس تھا۔ ان کا بلوچستان سے تعلق محض میر غوث بخش بزنجو اور اُن کے سیاسی کامریڈز جیسے گل خان نصیر، سردار عطا اللہ مینگل اور نیشنل عوامی پارٹی کے دیگر رہنماؤں سے شناسائی کے باعث تھا۔

 اس نئے کردار نے کٹی کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ بلوچستان کے عوام کی محرومیوں اور درماندگی کا نزدیک سے گہرا جائزہ لے سکیں جب کہ صوبے میں بے شمار دولت، قدرتی ذرائع اور قبائلی اعلیٰ اقدار موجود تھیں جو انہیں اور یہاں کی خواتین کو معاشرے میں وقار فراہم کر سکتی تھیں۔ 

بلوچستان میں انقلابی اصلاحات

برسرِ اقتدار آنے کے ابتدائی چند ہفتوں میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت نے بلوچستان کے اُن دیرینہ مسائل کے حل اور اصلاحات کے ایک وسیع پروگرام کا اعلان کیا جنہیں طویل عرصے سے نظر انداز کیا جاتا رہا تھا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبے میں سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر ایسی تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں جو عوامی فلاح اور انتظامی بہتری کی بنیاد بن سکیں۔

اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب نواب خیر بخش مری نیپ کے صوبائی صدر منتخب ہوئے اور میر غوث بخش بزنجو نے گورنر کا منصب سنبھالا۔ اس دوران صوبائی اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کے لیے ایک قرارداد پیش کی گئی۔ وزیرِ اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل نے اس قرارداد کی مکمل حمایت کی۔

بحث اور ووٹنگ کے بعد قرارداد صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہو گئی، تاہم ایک آئینی اور انتظامی رکاوٹ موجود تھی۔ چونکہ برطانوی دور سے سرداری نظام کا انتظامی اختیار وفاقی حکومت کے پاس تھا، اس لیے صوبائی حکومت اپنے طور پر اس کے خاتمے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔ قرارداد کو سفارشات کے ساتھ مرکز کو ارسال کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسے جلد قانونی اور عملی شکل دی جائے، لیکن وفاقی حکومت نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

نیپ حکومت نے صرف سیاسی اصلاحات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ معاشی اور سماجی شعبوں میں بھی متعدد تجاویز پیش کیں۔ ان میں زرعی اصلاحات کا نفاذ، خانہ بدوش آبادیوں کی مستقل آبادکاری اور انہیں زمینوں کی فراہمی، معدنی وسائل کے حصول اور تقسیم کے لیے نئے ضوابط، کان کنی کے شعبے میں نجی اجارہ داری کے خاتمے اور صوبائی وسائل پر مقامی اختیار کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات شامل تھے۔

اسی طرح بارہ ایکڑ سے کم اراضی پر زرعی لگان ختم کرنے، چرواہی ٹیکس پر پابندی عائد کرنے اور مکران میں نافذ زرعی ٹیکس کو معطل کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔ حکومت نے صوبے کی ترقی کے ممکنہ ذرائع کی نشاندہی کے لیے ایک جامع سروے شروع کرنے کا اعلان کیا، جبکہ جیل اصلاحات کے تحت تمام قیدیوں کے لیے ہر سال دو ماہ کی سزا میں رعایت دینے اور اس رعایت کا اطلاق سابقہ مدتِ قید پر بھی کرنے کی تجویز منظور کی گئی۔ان اقدامات کے نتیجے میں بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

حکومت نے اظہارِ رائے کے میدان میں بھی اہم فیصلے کیے اور صوبے میں پریس پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دیں۔ نتیجتاً تقریباً نو ماہ تک بلوچستان میں صحافت کو غیر معمولی آزادی حاصل رہی، جسے بعض حلقے اُس وقت تک ملکی تاریخ کے منفرد تجربات میں شمار کرتے ہیں۔

انتظامی سطح پر اردو کو بلوچستان کی سرکاری زبان قرار دیا گیا۔ اس دور کو بعض سیاسی مبصرین نسبتاً آزاد سیاسی ماحول کا دور قرار دیتے ہیں، جہاں حکومت خود کو سیاسی امتیاز اور انتظامی ناانصافی سے دور رکھنے کی کوشش کرتی رہی۔

تاہم یہ سیاسی تجربہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

گورنر میر غوث بخش بزنجو اسلام آباد کے دورے پر تھے کہ 14 فروری 1973 کو انہیں صدر کی جانب سے طلب کیا گیا۔ واپسی پر انہوں نے قریبی حلقوں کو اپنی ممکنہ برطرفی کے آثار سے آگاہ کیا، اور اسی رات انہیں باضابطہ احکامات موصول ہو گئے۔

یوں بلوچستان کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا گیا اور نواب اکبر بگٹی کو جوڑ توڑ کے ذریعے صوبے کا نیا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کی حکومت اور وہاں کے گورنر نے بھی استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ملکی سیاست میں ایک نئے بحران نے جنم لیا۔

لاہور ایئرپورٹ پر گرفتاری

بلوچستان حکومت کی برطرفی کے بعد بی ایم کٹی میر غوث بخش بزنجو کے ہمراہ 17 فروری 1973 کو کوئٹہ سے اسلام آباد براستہ لاہور جا رہے تھے۔ کہ لاہور ایئرپورٹ پر ان کو گرفتار کیا گیا۔ مگر گرفتاری کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ گرفتاری کے بعد کٹی کو کراچی بذریعہ ہوائی جہاز لایا گیا۔ کراچی سے حیدرآباد کے ایک تھانے کے لاک اپ میں رکھا گیا۔ ان کو تو پہلے بتایا گیا تھا کہ ان کی نیپ سے وابستگی کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے، مگر بعد میں حیدرآباد کی ایک عدالت میں پیشی کے دوران ان پر انکشاف ہوا کہ وہ اسلحے کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔ 

اپنے خلاف کیس کی پیشی کے سلسلے میں وہ کراچی اور حیدرآباد کی عدالتوں میں لائے جاتے رہے۔ بلآخر ان کو 25 اپریل 1973 کو کراچی جیل سے رہا کیا گیا۔ 

پراسرار جاسوس

انڈیا سے تعلق کے باعث کُٹی کو کئی بار والدین اور اپنی فیملی سے ملنے کے لیے جانا پڑتا تھا، خاص طور پر جب ان کے والدین بیمار ہوتے تھے۔ واپسی پر وہ پاکستانی ایجنسیوں کے نرغے میں رہتے تھے، جو ان سے انڈیا کے بارے میں کچھ نہ کچھ اگلوانا چاہتی تھیں۔ ہر بار وہ ان کو بتاتے تھے کہ ان کی ساری فیملی سائوتھ انڈیا میں رہتی ہے۔ ان اکیلے کے علاوہ کسی نے بھی ہجرت نہیں کی اس لیے مجبوری میں ان کو وہاں جانا پڑتا ہے۔

مگر ان کی پاکستانی شہریت کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔ پاکستان کی ایجنسیاں ان کے بارے میں اس لیے بھی شک میں رہتی تھیں کیوں کہ کیرالا میں تو حالات قدرے بہتر تھے اور بہت کم لوگوں نے وہاں سے ہجرت کی۔ 

کُٹی اپنی سوانحہ حیات میں لکھتے ہیں: ’ایک دفعہ صدر پاکستان (ذوالفقار علی بھٹو) کی جانب سے گورنر کو ایک خط موصول ہوا جس کے مطابق میاں انور علی، ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو نے رپورٹ کیا تھا کہ گورنر کا پولیٹیکل سیکریٹری، بی۔ ایم۔ کُٹی کراچی میں روس کے قونصلیٹ سے خفیہ روابط قائم کیے ہوئے ہے۔‘

میر غوث بخش بزنجو نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا۔ کُٹی نے بتایا کہ روس میں ان کا بیٹا پڑھتا ہے۔گرم کپڑے اور جوتے وغیرہ وہاں بہت مہنگے ہیں۔ بیٹے کو وہاں قلیل سا وظیفہ ملتا ہے جس پر وہ بمشکل گزارا کرتا ہے۔ لہذا وہ کوئٹہ سے اس کے لیے کچھ اونی کپڑے، سویٹرز اور جرابیں وغیرہ خرید کر اپنے پارٹی کے رفیق کار امیر فیصل درانی کے حوالے کر دی تھیں تاکہ وہ قونصلیٹ میں پہنچا دے اور وہ اس تھیلے کو اپنے ذریعے ماسکو روانہ کر دیں۔

میر صاحب نے کُٹی کو یہ ساری صورت حال ایک خط میں تحریر کرنے کو کہا اور ساتھ ہی تاکید کی کہ گورنر کی جانب سے یہ جملہ بھی لکھ دیں کہ "صدر صاحب! آپ کو مجھ پر مکمل اعتماد ہے اور اسی وجہ سے میں گورنر ہوں۔ اسی طرح میرا پولیٹیکل سیکریٹری بھی قابلِ بھروسہ شخص ہے اور وہ اس وقت تک اس پوسٹ پر رہے گا جب تک اس پر میرا اعتماد قائم ہے۔” انہوں نے یہ خط صدر پاکستان کو گورنر کی دستخط سے ارسال کر دیا۔ بعد ازاں صدر نے اس بارے میں میر صاحب سے کوئی بات نہیں کی۔

بعد میں بھی ریاست پاکستان کی جانب سے بی ایم کٹی کو پراسرار بناکر پیش کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے ملاقات کے دوران پوچھا: ’آپ پاکستان کیوں آئے؟‘ اپنی خفگی مٹانے کے لیے انہوں نے کہا ’بہاری، یوپی اور دہلی والوں کے برعکس آپ کو اپنی جنت کیرالہ کو چھوڑنے کا کوئی جبر نہیں تھا۔ وہاں کی سیاست بھی آپ کی اپنی پسند کی سیاست تھی۔ پھر آپ یہ سب کچھ ترک کر کے یہاں کیوں آئے؟‘ 

کُٹی لکھتے ہیں کہ وہ یہ سوالات سن کر سکتے میں آ گئے۔  کچھ دیر رک کر انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے کالج کے کلاس فیلو کے ساتھ یہاں کی سیر کر کے واپس جانے کے لیے آیا تھا لیکن لاہور اچھا لگا اور میں رک گیا۔

بھٹو سے کئی ملاقاتیں

سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو، بی ایم کُٹی کو ایک سیاسی کارکن کے طور پر پہلے ہی سے جانتے تھے۔ بلوچستان میں گورنر ہاؤس کے عملے سے وابستگی کے باعث کُٹی کی وزیرِ اعظم ہاؤس میں بھی وقتاً فوقتاً آمد و رفت اور ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔

تاہم بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی یہ رابطہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔ میر غوث بخش بزنجو کے قریبی ساتھی ہونے کے باعث بعض مواقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے بی ایم کُٹی کو وزیرِ اعظم ہاؤس طلب کیا اور ان کے ذریعے میر بزنجو تک اپنے پیغامات پہنچانے کی کوشش کی۔

خصوصاً 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھٹو کی خواہش تھی کہ جیل میں قید نیپ اور اپوزیشن کے رہنماؤں کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا جائے، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا ایک مثبت اور جمہوری تشخص پیش کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے بی ایم کُٹی کے ذریعے میر غوث بخش بزنجو کو پیغام بھجوایا، تاہم سابق گورنر بلوچستان نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

بعد ازاں 1975 میں حیدرآباد سازش کیس کی سماعت کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے بی ایم کُٹی کو حیدرآباد سرکٹ ہاؤس طلب کیا اور ان سے کہا کہ وہ سینٹرل جیل جا کر میر بزنجو کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ ان سے ذاتی ملاقات کریں تاکہ مفاہمت کی کوئی راہ نکالی جا سکے۔

بی ایم کُٹی ایک ہی دن میں دو مرتبہ حیدرآباد سینٹرل جیل جا کر میر بزنجو سے ملے، تاہم وہ کسی صورت بھٹو سے علیحدہ ملاقات پر آمادہ نہ ہوئے۔ دونوں مرتبہ کُٹی کو تنہا سرکٹ ہاؤس واپس آنا پڑا۔

اس وقت حیدرآباد سازش کیس کے تحت قائم خصوصی ٹریبونل کے مقدمے میں تقریباً 50 نیپ رہنما گرفتار ہو کر حیدرآباد جیل میں قید تھے۔ ان میں نمایاں سیاسی رہنماؤں میں خان عبدالولی خان، میر غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری اور دیگر شامل تھے۔

ٹریڈ یونین رہنماؤں سے روابط اور نئی رفاقتیں

اپنی سوانحِ حیات میں بی ایم کُٹی لکھتے ہیں کہ حیدرآباد میں قید کے دوران انہیں مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے کراچی میں سندھ ہائی کورٹ لایا جاتا تھا۔ انہی دنوں ایک موقع پر ان کی ملاقات دو ٹریڈ یونین رہنماؤں، عثمان بلوچ اور کرامت علی سے ہوئی۔ کرامت علی سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔

بعد میں لاہور میں دونوں کی دوبارہ ملاقات ہوئی، جو وقت کے ساتھ ایک گہری اور دیرپا دوستی میں بدل گئی۔ یہ رفاقت زندگی کے آخری دنوں تک قائم رہی۔

اُس زمانے میں کرامت علی سیاسی طور پر جلاوطنی کے بعد نیدرلینڈز میں مقیم تھے، جہاں وہ دی ہیگ میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز میں ایم اے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کی انڈین اہلیہ امرتا سنگھ اور بیٹا سوربھ علی بھی وہیں رہتے تھے۔ یورپ کے ایک دورے کے دوران بی ایم کُٹی تقریباً ایک ہفتے تک ان کے گھر قیام پذیر رہے۔

کرامت علی اور بی ایم کُٹی کی دوستی محض ذاتی تعلق تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سیاسی اور فکری اشتراک میں بھی ڈھل گئی۔ 1979 میں پاکستان نیشنل پارٹی کے قیام کے بعد دونوں میر غوث بخش بزنجو کی قیادت میں مشترکہ طور پر سرگرم ہوئے اور وقت کے ساتھ ان کے تعلقات مزید مضبوط ہوتے گئے۔

اپنی یادداشتوں میں کُٹی لکھتے ہیں: ’یہ حقیقت ہے کہ کرامت بائیں بازو کی چین نواز پالیسی کا پیروکار تھا اور میں روسی کیمپ کا حامی، لیکن یہ نظریاتی تفاوت ہماری دوستی میں کبھی آڑے نہیں آیا۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ پارٹی کے قیام کے ابتدائی تین برسوں میں میر صاحب مختلف مارکسی گروہوں سے وابستہ افراد کو پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل کرنے میں کامیاب رہے۔

1982 میں چند دانشوروں اور ٹریڈ یونین کارکنوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) قائم کیا، جس کا مقصد محنت کش طبقے کی فلاح، تربیت اور شعور کی ترقی تھا۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ برصغیر میں مزدوروں کی تعلیم و تربیت کا ایک منفرد ادارہ تھا اور کرامت علی اس کے روحِ رواں سمجھے جاتے تھے۔

1989 میں کرامت علی نے بی ایم کُٹی کو پائلر کے ساتھ عملی طور پر کام کرنے پر آمادہ کیا۔ لکھنے، تحقیق اور ترجمے میں مہارت رکھنے والے کُٹی نے ادارے کی ورکشاپس، تحقیقی دستاویزات اور دیگر مواد کی تدوین اور ترجمے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

پائلر سے وابستگی نے بی ایم کُٹی کو پاکستان کی سول سوسائٹی کی کئی نمایاں شخصیات کے ساتھ کام کرنے اور انہیں قریب سے جاننے کا موقع فراہم کیا۔ ان میں ڈاکٹر خواجہ ذکی حسن، تسنیم صدیقی، عبداللہ میمن اور دیگر اہم نام شامل تھے۔

اسی طرح ان کی ملاقات اور تعلق اُن شخصیات سے بھی رہا جو اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی تھیں، جن میں مزدور حقوق کے کارکن نبی احمد، بے باک ٹریڈ یونین رہنما عثمان بلوچ، ماہرِ اقتصادیات قیصر بنگالی، اکبر زیدی، اسعد سعید، حارث گزدر، جوہری ہتھیاروں کے مخالف اور انسان دوست ماہرِ طبیعیات اے ایچ نیر، ماہرِ تعلیم پرویز ہود بھائی، شہری منصوبہ ساز اور سماجی سائنس دان عارف حسن، انسانی حقوق کے وکیل جسٹس رشید رضوی، ماہرِ تعلیم انیتا غلام علی، ڈاکٹر ٹیپو سلطان، غلام کبریا، ایم بی نقوی اور دیگر ممتاز شخصیات شامل تھیں۔

بی ایم کُٹی کو جنوبی ایشیا میں امن، علاقائی تعاون اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق متعدد کانفرنسوں، سیمینارز اور مباحثوں میں شرکت کا موقع ملا۔ ان سرگرمیوں میں جنوبی ایشیا کی کثیر القومی کمپنیوں کی ٹریڈ یونینز کو مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں، جنوبی ایشیا لیبر فورم، 21-PP (پیپلز پلان برائے اکیسویں صدی) اور عوامی سارک جیسے اقدامات شامل تھے۔

 کُٹی نے پاکستان پیس کولیشن کے قیام میں مشترکہ کردار ادا کیا اور اس کے جنرل سیکریٹری رہے، اور وہ پاکستان–انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی سے بھی وابستہ تھے۔ وہ 2014 کو قائم شدہ سوسائٹی فار سیکولر پاکستان کے سرگرم اور پرعزم رکن تھے۔

بی ایم  کُٹی صحافی بھی رہے۔ کراچی میں انہوں نے ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میگزین میں کام کیا اور ایک ملیالی زبان کے اخبار ’ماتھرو بھومی‘ کے لیے بطور صحافی پاکستان سے رپورٹنگ کی۔انہوں نے کئی کتابوں کا ترجمہ کیا اور ریسرچ رپورٹس مرتب کیں۔

کرامت علی کے ساتھ پچیس سال سے زائد رفاقت کے دوران بی ایم کُٹی نے پوری سنجیدگی سے یہ کوشش جاری رکھی کہ پائلر کو ایک عوام دوست، مزدور نواز، امن پسند اور جنگ مخالف ادارے کے طور پر مضبوط بنایا جائے۔ بیماری سے پہلے ان کا قیام پائلر سینٹر کے ہاسٹل کے ایک کمرے میں تھی۔

سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی مادری زبان ملیالم سے بھی غیر معمولی وابستگی تھی۔ پاکستان میں قیام کے باوجود وہ ملیالم ادب، اخبارات اور علمی سرگرمیوں سے مسلسل جڑے رہے۔

زندگی کے آخری برسوں میں انہیں فالج کا شدید حملہ ہوا۔ بھارت میں موجود دوستوں کے مشورے پر انہیں کیرالا کے ایک آیورویدک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دو ماہ علاج کے بعد ان کی جسمانی حرکت اور بولنے کی صلاحیت میں کچھ بہتری آئی، تاہم ویزا کی مدت ختم ہونے کے باعث انہیں علاج مکمل کیے بغیر پاکستان واپس آنا پڑا۔

بیماری نے اگرچہ انہیں جسمانی طور پر کمزور کر دیا، لیکن سیاسی اور سماجی معاملات میں ان کی دلچسپی آخر وقت تک برقرار رہی۔ وہ پائلر کی مختلف تقریبات میں وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے شرکت کیا کرتے تھے۔

25 اگست 2019 کو کراچی میں بی ایم کُٹی انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔ ان کی وفات پر سیاسی کارکنوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور قریبی حلقوں نے انہیں ایک ایسے انسان کے طور پر یاد کیا جس نے زندگی بھر اقتدار کے بجائے اصولوں، مکالمے اور عوامی جدوجہد کو ترجیح دی۔

ان کی وفات کے بعد منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماعات میں مقررین نے کہا کہ بی ایم کُٹی کی زندگی جذبے، ثابت قدمی اور تبدیلی کی خواہش سے عبارت تھی۔ معروف دانشوروں کے مطابق ان کی جدوجہد صرف ایک سیاسی کارکن کی نہیں بلکہ پاکستان کی جمہوری تاریخ کا حصہ تھی۔

ان کی وفات پر کیرالہ کے وزیرِ اعلیٰ پنارائی وجین نے فیس بک پر پوسٹ میں لکھا کہ مسٹر کُٹی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کی۔

بھارتی سیاست دان، مصنف، سابق سفارت کار اور عوامی دانشور ششی تھرور نے لکھا: پاکستان کے لیے کیرالہ کا تحفہ، کمیونسٹ سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکن بی ایم کُٹی، 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

بی ایم کُٹی کی زندگی کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ سرحدیں انسان کی شناخت کا ایک حصہ ضرور ہوتی ہیں، لیکن خیالات، اصول اور انسان دوستی ان سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک ملک چھوڑا، دوسرے کو اپنا وطن بنایا، مگر اپنی پوری زندگی انصاف، مکالمے اور انسانی وقار کے لیے وقف رکھی۔ یہی ان کی اصل پہچان اور وراثت ہے۔

اسی بارے میں: