پھلوں، پھولوں کی جینیاتی تبدیلیی کرکے نئے اقسام کی موجد سندھ کی سائنس دان فرزانہ پنہور

کئی غیر ملکی ایوارڈ جیتنے والی سندھ کی سائنس دان، محقق اور زراعت، غذا، ماحول سمیت کئی موضوعات پر عالمی جرائد میں 100 سے زائد سائنسی مقالے لکھنے والی فرزانہ پہنور نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اپنے سانسدان شہور ایم ایچ پہنور کے ساتھ حیدرآباد اور دیگر اضالع میں تحقیق کرتے گزارے۔

فرزانہ پہنور سندھ میں آم کی متعدد اجناس، سوکھے ہوئے آم کے درختوں کو سائنسی طریقے سے دوبارہ پھل دار بنانے، نامیاتی کھاد سمیت کئی اقسام کی سائنسی ایجادات کرنے والے سائنس دان ایم ایچ پہنور کی اہلیہ تھیں۔

فرزانہ پہنور 15 ستمبر 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تھا جہاں علم اور مطالعے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے بائیو کیمسٹری میں بی ایس سی آنرز کی ڈگری 1980 میں حاصل کی اور پھر 1981 میں بائیو کیمسٹری ہی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے نیوٹریشن اور اینزائمولوجی میں تخصص حاصل کیا۔

فرزانہ پودوں اور جانوروں کی غذا یعنی نیوٹریشن اینزائمولاجی میں مہارت رکھتی تھی۔ انہوں نے اپنی سائنسی تحقیق کے ذریعے جینیاتی تبدیلیی سے چار درجن سے زائد ایسے منفرد پھول ایجاد کیے جو کہیں بھی نہیں پائے جاتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ان کے کام پر جتنی بات ہونی چاہیے تھی، اتنی کبھی نہ ہو سکی۔ وہ ان خواتین سائنس دانوں میں شامل تھیں جنہوں نے لیبارٹری سے نکل کر کھیتوں، باغوں، دیہی عورتوں، مٹی، فصلوں اور خوراک کے حقیقی مسائل پر کام کیا۔ انہوں نے صرف نظریاتی تحقیق نہیں کی بلکہ سندھ جیسے گرم خطے میں ایسے تجربات کیے جنہیں کئی ماہرین ناممکن سمجھتے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں خواتین کے لیے سائنسی تحقیق کا میدان انتہائی محدود سمجھا جاتا تھا۔ زیادہ تر خواتین تدریس یا میڈیکل کے شعبے تک محدود رہتی تھیں، مگر فرزانہ پہنور نے زرعی تحقیق، نامیاتی زراعت، مٹی کی کیمیا اور خوراک جیسے پیچیدہ شعبوں میں قدم رکھا۔

ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ معروف زرعی سائنس دان محمد حسین پہنور، المعروف ایم ایچ پہنور سے ملاقات تھی۔ ایم ایچ پہنور اس وقت سندھ میں باغبانی، زرعی تاریخ، آبپاشی، موسمیاتی تحقیق اور پھلوں کی نئی اقسام پر تجربات کے حوالے سے معروف ہو چکے تھے۔ دونوں کی دلچسپیاں ایک جیسی تھیں۔

ایک طرف تجربہ کار زرعی محقق تھے اور دوسری طرف نوجوان بائیو کیمسٹ فرزانہ، جنہیں مٹی، پودوں، غذائیت اور حیاتیاتی عمل میں دلچسپی تھی۔

1983 میں جب فرزانہ پہنور اور ایم ایچ پہنور نے شادی کی تو ان کی عمر میں 32 سال کا فرق تھا۔ اس وقت فرزانہ 26 سال اور ایم ایچ پہنور 58 سال کے تھے۔

1983 میں دونوں نے شادی کی۔ اس وقت فرزانہ کی عمر 26 سال اور ایم ایچ پہنور کی عمر 58 سال تھی۔ ان کی عمر میں کافی فرق تھا مگر انہیں جاننے والوں کے مطابق یہ تعلق محض ازدواجی نہیں بلکہ علمی اور تحقیقی شراکت داری پر مبنی تھا۔

ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق دونوں گھنٹوں کھیتوں، باغات اور تجربہ گاہوں میں تحقیق کرتے رہتے تھے۔ عمر میں بڑا فرق ہونے کے باوجود وہ ایک مثالی جوڑا تھا۔

کئی سال پہلے حیدرآباد کے لطیف آباد والے گھر میں سندھی اخبار کاوش کے لیے ایک انٹرویو کے دوران ایم ایچ پہنور نے ہنستے ہوئے مجھے کہا: ‘میری بیوی پورٹ ایبل ہے یعنی جہاں چاؤں آسانی سے لے جاؤں۔’

فرزانہ پہنور نے اپنی سائنسی زندگی کا آغاز روایتی لیبارٹری تحقیق سے نہیں بلکہ عملی زرعی تجربات سے کیا۔ انہوں نے مٹی کی کیمیا، میکرو اور مائیکرو نیوٹرینٹس، نامیاتی کھاد، کمپوسٹ، گروتھ ریگولیٹرز، سب ٹراپیکل پھلوں کی پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی، جانوروں کی خوراک، جھینگا فارمنگ، خرگوش فارمنگ اور زرعی فضلے سے بائیو گیس بنانے جیسے موضوعات پر کام کیا۔

ان کی تحقیق کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ مغربی تحقیق کو من و عن نقل کرنے کے بجائے اسے سندھ کے ماحول اور موسمی حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ پاکستان کی زراعت کے مسائل کا حل صرف بیرونی ماڈل اپنانے سے ممکن نہیں بلکہ مقامی ماحول، پانی، مٹی اور کسان کی معاشی حالت کو سمجھنا ضروری ہے۔

1980 اور 1990 کی دہائی میں انہوں نے سندھ میں نامیاتی اور پائیدار زراعت پر کام شروع کیا۔ آج جس آرگینک فارمنگ کو جدید رجحان سمجھا جاتا ہے، اس پر فرزانہ پہنور کئی دہائیاں پہلے تحقیق کر رہی تھیں۔ وہ کیمیائی کھادوں اور زرعی زہروں کے بے تحاشا استعمال کے خلاف خبردار کرتی تھیں۔

ان کے مطابق مٹی کی اصل طاقت اس کے حیاتیاتی توازن میں ہے، اور اگر مٹی میں نامیاتی مادہ، جرثومے اور قدرتی معدنیات ختم ہو جائیں تو زمین بظاہر زرخیز نظر آنے کے باوجود اندر سے مردہ ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مٹی کی دوبارہ معدنی بحالی پر اہم تجربات کیے۔ ان تجربات میں مختلف طریقوں سے مٹی میں معدنیات واپس شامل کی جاتی تھیں اور ملچ (مٹی کی اوپری سطح پر بچھائی جانے والی ایک حفاظتی تہہ ) استعمال کیا جاتا تھا تاکہ مٹی میں نمی، جرثومے اور غذائیت برقرار رہے۔ ان کے تحقیقی ریکارڈ کے مطابق اس طریقے سے چند برسوں میں پھلوں کی پیداوار دگنی تک ہو گئی تھی۔

فرزانہ پہنور اور ایم ایچ پہنور نے حیدرآباد کے قریب اپنے فارم پر کئی ایسی فصلوں اور پھلوں کے تجربات کیے جنہیں سندھ کے موسم کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان میں لیچی، لانگن، سیب، آڑو، انگور، گریپ فروٹ، اخروٹ، انجیر، انار اور بادام شامل تھے۔

انہوں نے مختلف اقسام، روٹ اسٹاکس، موسمی مطابقت اور باغبانی کے تجربات کے ذریعے ان پھلوں کو سندھ کے گرم موسم میں اگانے کی کوشش کی۔

عمر میں فرق کے باوجود فرزانہ پہنور اور ایم ایچ پہنور ایک مثالی جوڑا تھا۔

اس کام کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ سندھ میں روایتی طور پر چند مخصوص فصلوں اور پھلوں پر انحصار کیا جاتا تھا۔ فرزانہ پہنور کا ماننا تھا کہ اگر کسانوں کو متبادل باغبانی کی طرف لایا جائے تو نہ صرف ان کی آمدنی بڑھے گی بلکہ پانی کے استعمال اور موسمی خطرات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔

انہوں نے صرف پھلوں تک محدود رہنے کے بجائے جانوروں کی خوراک پر بھی تحقیق کی۔ انہوں نے پولٹری اور مویشیوں کی خوراک کے ایسے فارمولے تیار کرنے پر کام کیا جن میں مقامی اجزا استعمال کیے جا سکیں۔

جھینگا فارمنگ پر ان کا کام بھی غیر معمولی تھا۔ انہوں نے ساحلی علاقوں میں جھینگوں کی افزائش اور خوراک کے مختلف طریقوں پر تحقیق کی، مگر بعد میں ساحلی پانی زیادہ نمکین ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں مشکلات پیدا ہوئیں اور یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا۔

اسی طرح انہوں نے خرگوش فارمنگ پر بھی تجربات کیے۔ ان کے مطابق خرگوش پالنا معاشی اعتبار سے پولٹری سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا تھا، مگر پاکستان میں اس کی مارکیٹ محدود تھی اور عوامی قبولیت نہ ہونے کے باعث یہ شعبہ فروغ نہ پا سکا۔

فرزانہ پہنور نے بائیو گیس پر بھی اہم تحقیق کی۔ انہوں نے زرعی فضلے سے بائیو گیس بنانے کے منصوبوں پر کام کیا اور سندھ میں تقریباً 200 بائیو گیس پلانٹس کے تجربات کیے گئے۔ تاہم اس وقت دیہی علاقوں میں ان پلانٹس کی مناسب دیکھ بھال اور تکنیکی نگرانی ممکن نہ تھی، جس کے باعث یہ منصوبے زیادہ کامیاب نہ ہو سکے۔

ان کی دلچسپی صرف زرعی پیداوار تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر بھی کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے خشک پھول تیار کرنے کے ایک منفرد منصوبے پر تحقیق کی۔ اس مقصد کے لیے ایک خاص ڈھانچہ بنایا گیا جس کی دیواریں اور چھت سیاہ رنگ کی جاتی تھیں تاکہ سورج کی حرارت جذب ہو سکے، جبکہ رات کے وقت زرعی فضلے سے چلنے والی بھٹی استعمال کی جاتی تھی۔

یہ کام اس دور میں کیا جا رہا تھا جب پاکستان میں زرعی مصنوعات کی برآمدی ویلیو ایڈیشن تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ بعد میں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باعث یہ منصوبہ بند کر دیا گیا۔

فرزانہ پہنور نے زہریلے کیمیکلز کے انسانی صحت پر اثرات پر بھی تحقیق کی۔ انہوں نے گھریلو اور زرعی کیمیکلز اور سرطان کے تعلق پر مطالعات کیے۔ وہ اس بات پر زور دیتی تھیں کہ کھیتوں میں استعمال ہونے والے کئی زہریلے مادے خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر طویل المدتی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔

آج دنیا بھر میں جس ماحول دوست زراعت، فوڈ سیفٹی اور کیمیکل فری فارمنگ کی بات کی جاتی ہے، فرزانہ پہنور ان موضوعات پر اس وقت کام کر رہی تھیں جب پاکستان میں انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔

ان کی تحقیق ماحولیات، تعلیم، غذائیت، آلودگی، خاندانی منصوبہ بندی، پائیدار زراعت اور دیہی آبادی کی شہروں کی طرف منتقلی جیسے موضوعات تک پھیلی ہوئی تھی۔

انہوں نے درجنوں تحقیقی مضامین لکھے، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق ان کے مقالات کی تعداد 100 سے بھی زیادہ تھی۔ ان کے مضامین امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، ناروے، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، چین، بھارت اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک کے جرائد میں شائع ہوئے۔

ان کے مضامین کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف سائنسی اصطلاحات تک محدود نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں مقامی کسانوں کے مسائل، دیہی معیشت، ماحولیات اور انسانی صحت کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھا جاتا تھا۔

فرزانہ پہنور نے اپنے شوہر ایم ایچ پہنور کے ساتھ مل کر دو درجن سے زائد کتابوں پر کام کیا۔ ان کتابوں میں لیچی، لانگن، انگور، گریپ فروٹ، امرود، کم ٹھنڈک والے سیب، آڑو، انجیر اور انار جیسے پھلوں پر تحقیقی مواد شامل تھا۔

یہ کتابیں صرف باغبانی کے طریقوں تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان میں سندھ کے موسمی حالات، آبپاشی، بیماریوں، کھاد، مارکیٹنگ اور پیداوار کے مسائل پر بھی تفصیلی رہنمائی دی جاتی تھی۔

فرزانہ پہنور نے خواتین کے ساتھ بھی کام کیا۔ وہ سندھ رورل ویمن اپ لفٹ گروپ کی صدر رہیں۔ ان کی کوشش تھی کہ دیہی خواتین کو گھریلو باغبانی، چھوٹے زرعی منصوبوں اور غذائی تحفظ کے ذریعے معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکے۔

وہ متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں کی رکن بھی رہیں۔ ان میں ناروے کی انٹرنیشنل کونسل فار ڈسٹنس ایجوکیشن، اٹلی کی تھرڈ ورلڈ آرگنائزیشن فار ویمن اِن سائنس، لندن کا او ڈی آئی ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ ایکسٹینشن نیٹ ورک اور سوئٹزرلینڈ کی ویمنز ورلڈ سمٹ فاؤنڈیشن شامل تھیں۔

انہوں نے دنیا کے مختلف تحقیقی اداروں کا دورہ بھی کیا جہاں پھلوں، سبزیوں اور پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا تھا۔

ان کی سائنسی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1997 میں سوئٹزرلینڈ کی جانب سے رورل کریٹیویٹی ایوارڈ دیا گیا جبکہ 1998 میں امریکہ کی جانب سے گولڈ میڈل آف آنر سے نوازا گیا۔

فرزانہ پہنور اور ان کے شوہر ایم ایچ پہنور نے نے آم کی کئی نئی اقسام ایجاد کرنے، آم کی پیداوار، بیماریوں اور باغبانی پر کام کرنے کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی آم نہیں چکھا۔ کیوں کہ انہیں آم سے الرجی تھی۔

یہ ان لوگوں کے لیے حیران کن ہوتا تھا جو انہیں سندھ کے آموں پر تحقیق کرتے دیکھتے تھے۔

ان کے قریبی حلقوں کے مطابق فرزانہ پہنور اور ایم ایچ پہنور اکثر رات گئے تک تحقیق، مطالعے اور تحریر میں مصروف رہتے تھے۔ دونوں کی زندگی کا بڑا حصہ فارم، پودوں، کتابوں اور تجربات کے درمیان گزرا۔

2007 میں ایم ایچ پہنور کی وفات فرزانہ پہنور کے لیے ایک بڑا صدمہ ثابت ہوئی۔ ان کے قریبی افراد کے مطابق شوہر کی وفات کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ بعد میں انہیں کراچی کے کاروان حیات ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں بھی رکھا گیا۔

12 فروری 2020 کو فرزانہ پہنور کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین حیدرآباد کے قریب ان کے فارم میں کی گئی، وہی فارم جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی برس پودوں، تحقیق اور تجربات میں گزارے۔

پاکستان میں اکثر سائنس دانوں کو ان کی زندگی میں وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ فرزانہ پہنور بھی انہی شخصیات میں شامل تھیں۔ انہوں نے ایسے موضوعات پر تحقیق کی جن پر آج پوری دنیا بات کر رہی ہے، مثلاً نامیاتی زراعت، غذائی تحفظ، ماحول دوست کھاد، زرعی زہروں کے نقصانات، متبادل باغبانی اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق فصلوں کی تیاری۔

ان کی زندگی اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں کئی اہم سائنسی کام خاموشی سے ہوتے رہے، مگر ان کا مناسب ریکارڈ محفوظ نہیں کیا گیا۔ اگر فرزانہ پہنور جیسے سائنس دانوں کی تحقیق کو منظم انداز میں محفوظ اور فروغ دیا جاتا تو شاید آج پاکستان زرعی تحقیق اور ماحول دوست زراعت کے میدان میں کہیں زیادہ آگے ہوتا۔

وہ محض ایک سائنس دان نہیں تھیں بلکہ ایک ایسا تحقیقی ذہن تھیں جس نے سندھ کی زمین، مٹی، پانی اور موسم کو سمجھ کر کام کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر تحقیق مقامی حالات کے مطابق کی جائے تو ناممکن سمجھے جانے والے خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں۔