سیکڑوں سال قدیم رہڑکی دربار المعروف سچو سترام دھام، آج ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں صرف ایک گدی کا سوال نہیں بلکہ عقیدے، روایت، روحانی تسلسل اور لاکھوں مریدوں کے جذبات کا معاملہ بھی جڑا ہوا ہے۔ اس دربار کی گدی نشینی صرف ایک منصب نہیں بلکہ نسلوں سے عقیدت، خدمت، قبولیت اور روحانی نسبت سے جڑی ایک امانت ہے۔
سائیں سادھ رام کے پرلوک پدھارنے کے بعد گدی نشینی کے لیے ان کے بیٹے سائیں روہت کمار کی بطور گدی نشین مقرری کا ذکر نکلا تو سائیں کنہیا لال کے بیٹے وکرم لال، راجا سائیں، اپنے فرزند کو گدی نشین بنانا چاہتے تھے۔ مگر مریدوں کی اکثریت نے ‘سائیں روہت، سائیں روہت’ کے نعرے لگادیے۔ مرید، جو کئی سالوں سے سادھ رام کے ساتھ روہت کمار کو دیکھتے آرہے ہیں، انہوں نے واضح کردیا کہ ‘سائیں روہت کے علاوہ کسی اور کو گدی نشین قبول نہیں کریں گے۔’
یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ سائیں روہت سے مریدوں کی کئی سالوں سے وابستگی کے ساتھ عقیدے، محبت اور روحانیت کا رشتہ بھی رہا ہے۔ اس اختلاف کے باعث باضابطہ طور پر گدی نشینی کی تقریب نہ ہوسکی۔
دھام کے اندر پیدا ہونے والا یہ اختلاف اس لیے بھی اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ سچو سترام دھام صرف ایک مذہبی مقام نہیں بلکہ سندھ کی ہندو برادری کے بڑے روحانی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ جانشینی کے فیصلے کو عقیدت مند روحانی تسلسل اور روایت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں مریدین کا خیال ہے کہ چونکہ روہت سائیں کئی برسوں سے سائیں سادھ رام کے ساتھ انتظامی اور مذہبی سرگرمیوں میں شریک رہے، اس لیے انہیں ہی آٹھواں گدی نشین بنایا جانا چاہیے۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ سندھ کے کئی بڑے روحانی مراکز میں گدی نشینی ہمیشہ صرف خاندانی اصولوں پر نہیں بلکہ مرشد کی نامزدگی اور مریدوں کی قبولیت پر بھی منحصر سمجھی جاتی رہی ہے۔ سچو سترام دھام کے معاملے میں بھی یہی پہلو نمایاں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ سائیں کنہیا لال نے اپنی زندگی میں ہی روایتی خاندانی ترتیب سے ہٹ کر سائیں سادھ رام کو جانشین مقرر کیا تھا۔
اس اختلاف کی بازگشت سوشل میڈیا پر بھی سنائی دی۔ کچھ صارفین وکرم لال کے بیٹوں کی اے آئی سے بنی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے انہیں گدی نشین مقرر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، جبکہ اکثریت سائیں روہت کے حق میں پوسٹیں کررہی ہے۔
سچو سترام دھام رہڑکی شریف، ضلع گھوٹکی سندھ میں واقع برصغیر کے اہم ترین ہندو روحانی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دربار سنت شاہنشاہ سائیں سترام داس صاحب سے منسوب ہے، جن کی پیدائش 25 اکتوبر 1866 کو رہڑکی شریف میں ہوئی تھی۔ سائیں سترام داس نے سندھ میں انسان دوستی، مساوات، روحانیت، خدمت خلق اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام عام کیا۔ ان کے عقیدت مند صرف سندھ ہی نہیں بلکہ ہندوستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں بھی موجود ہیں۔
ابتدا میں یہ مقام ‘ڈیوڑی صاحب’ کے نام سے جانا جاتا تھا، بعد میں اسے ‘سنت سترام دھام’ کہا جانے لگا، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ‘سچو سترام دھام’ کے نام سے معروف ہوگیا۔ ‘سچو’ یعنی سچا، دراصل سائیں سترام داس کی تعلیمات اور ان کی روحانی شخصیت کی وجہ سے اس نام کا حصہ بنا۔ سائیں سترام داس کا انتقال 25 جنوری 1910 کو ہوا، جس کے بعد ان کے مزار کے گرد یہ مقام ایک بڑے روحانی مرکز کی شکل اختیار کرتا گیا۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ سچو سترام دھام صرف ایک مذہبی مقام نہیں بلکہ ایک سماجی اور فلاحی مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ دھام پر لنگر، غریبوں کی مدد، مذہبی تقریبات، رہائش اور زائرین کی خدمت کا وسیع نظام موجود ہے۔ ہر سال یہاں بڑی
تعداد میں یاتری اور عقیدت مند آتے ہیں، خاص طور پر سندھ کے مختلف شہروں کے علاوہ ہندوستان سے بھی عقیدت مند اس مقام کو روحانی عقیدت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سچو سترام دھام کے چھٹے گدی نشین سائیں کنہیا لال نے اپنی زندگی میں ہی جانشینی کا فیصلہ کردیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کے بجائے اپنے بھتیجے سائیں سادھ رام کو گدی کا جانشین مقرر کیا۔ سائیں سادھ رام اس وقت سرکاری ملازمت میں تھے اور 1991 تک سکھر میں اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ بعد میں انہیں رہڑکی شریف بلا کر باقاعدہ طور پر ساتواں گدی نشین مقرر کیا گیا۔
سائیں سادھ رام کے دور میں دھام میں کئی ترقیاتی اور انتظامی کام ہوئے۔ دھام کی توسیع، زائرین کے لیے سہولیات، رہائشی انتظامات اور مختلف تعمیراتی منصوبوں میں اضافہ کیا گیا۔ قومی شاہراہ سے دھام تک جانے والی سڑک کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی ان کے خاندان کا کردار نمایاں بتایا جاتا ہے۔ سائیں سادھ رام اکثر اپنے بیٹے روہت سائیں کو اپنے ساتھ رکھتے تھے اور مختلف مذہبی و انتظامی تقریبات میں بھی انہیں ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اسی وجہ سے دھام کے بہت سے عقیدت مند روہت سائیں کو مستقبل کی قیادت کے طور پر دیکھنے لگے تھے۔
تاحال روہت سائیں کو باضابطہ طور پر آٹھواں گدی نشین مقرر کرنے کی تقریب منعقد نہیں ہوئی، تاہم دھام کے قریبی حلقوں اور عقیدت مندوں کے مطابق مستقبل قریب میں باقاعدہ تقریب کے ذریعے انہیں گدی سونپنے کا امکان موجود ہے۔ دوسری جانب دھام کی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تفصیلی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
ایسی صورت حال میں سچو سترام دھام ایک فیصلے کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

