ڈیپ فیک کے خلاف یوٹیوب کا نیا ہتھیار، اب ہر بالغ صارف اپنی جعلی اے آئی ویڈیوز پکڑ سکے گا

ڈیپ فیک

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے ساتھ ایک نئی تشویش بھی سامنے آئی ہے، جسے عام طور پر ’ڈیپ فیک‘ کہا جاتا ہے۔ ڈیپ فیک ایسی تصاویر یا ویڈیوز ہوتی ہیں جن میں کسی شخص کے چہرے یا شکل کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس انداز میں تبدیل یا نقل کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والا اسے حقیقی سمجھ بیٹھے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے یوٹیوب نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ’اے آئی لائیکنیس ڈیٹیکشن ٹول‘ کو اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام صارفین کے لیے متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

اس نئی سہولت کے ذریعے اب صرف مشہور شخصیات، سیاست دان یا بڑے کریئیٹرز ہی نہیں بلکہ عام صارفین بھی یہ جان سکیں گے کہ کہیں ان کے چہرے یا شناخت کو استعمال کرتے ہوئے کوئی جعلی ویڈیو تو تیار نہیں کی گئی۔

یہ نیا نظام ایک خاص طریقے سے کام کرتا ہے۔ صارف کو ابتدا میں اپنی ایک مختصر سیلفی طرز کی ویڈیو یا چہرے کا اسکین فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے بعد یوٹیوب کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہونے والی نئی ویڈیوز کو مسلسل جانچتا رہے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کسی نے صارف کے چہرے سے ملتی جلتی یا مصنوعی طور پر تیار کی گئی ویڈیو تو استعمال نہیں کی۔

اگر نظام کو کسی ویڈیو میں مشابہت نظر آتی ہے تو یوٹیوب فوری طور پر متعلقہ صارف کو اطلاع دے گا۔ اس کے بعد صارف ویڈیو کا جائزہ لے کر فیصلہ کر سکے گا کہ آیا وہ اس مواد کو ہٹانے کی درخواست دینا چاہتا ہے یا نہیں۔

یوٹیوب کے مطابق یہ نظام کسی بھی ویڈیو کو خودکار طور پر حذف نہیں کرے گا۔ ویڈیو ہٹانے کی درخواست یوٹیوب کی پرائیویسی پالیسی کے تحت جانچی جائے گی۔ کمپنی مختلف عوامل کو مدنظر رکھے گی، جن میں یہ شامل ہے کہ ویڈیو کتنی حقیقت سے قریب ہے، آیا اسے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا گیا ہے یا نہیں، اور کیا متعلقہ شخص کو واضح طور پر پہچانا جا سکتا ہے۔

البتہ اس پالیسی میں کچھ استثنیٰ بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر طنز، مزاح یا عوامی مفاد کے تحت بنائے گئے بعض مواد کو فوری طور پر حذف نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ ٹول فی الحال صرف چہرے کی شناخت تک محدود ہے اور آواز یا دیگر ذاتی شناختی خصوصیات کو شامل نہیں کرتا۔

یوٹیوب نے اس فیچر کی آزمائش پہلے مواد تخلیق کرنے والوں کے ساتھ شروع کی تھی۔ بعد میں اسے سرکاری حکام، سیاست دانوں، صحافیوں اور تفریحی صنعت سے وابستہ افراد تک وسعت دی گئی۔ اب پہلی مرتبہ عام بالغ صارفین کو بھی یہی سطح کا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

یوٹیوب کے ترجمان جیک میلون کے مطابق اس اقدام کا مقصد تمام صارفین کو برابر کا تحفظ دینا ہے، چاہے وہ برسوں سے ویڈیوز بنا رہے ہوں یا ابھی آغاز کر رہے ہوں۔ ان کے مطابق اس فیچر کے استعمال کے لیے کسی خاص تعداد میں سبسکرائبرز ہونا ضروری نہیں۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اکثر مشہور شخصیات اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بناتی رہی ہے، لیکن اب یہ خطرہ عام لوگوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں نوجوانوں کی جعلی ویڈیوز بنائی گئیں، بعض افراد کو آن لائن ہراساں کیا گیا اور سائبر فراڈ کے لیے جعلی شناختیں استعمال کی گئیں۔

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا مقصد صارفین کو اپنی شناخت پر زیادہ کنٹرول دینا اور آن لائن تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

تاہم کمپنی نے صارفین کو ایک احتیاطی تنبیہ بھی دی ہے۔ چونکہ مصنوعی ذہانت ابھی مکمل طور پر درست نہیں، اس لیے بعض اوقات یہ نظام اصل اور حقیقی ویڈیوز کو بھی مشتبہ قرار دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے آپ کی پرانی خاندانی ویڈیو یا عوامی انٹرویو اپ لوڈ کیا ہو تو نظام اسے بھی شناخت کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ویڈیو صرف ڈیپ فیک پالیسی کے تحت نہیں ہٹائی جائے گی بلکہ عام پرائیویسی اور منصفانہ استعمال کے قواعد لاگو ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے اور مستقبل میں دیگر پلیٹ فارمز بھی اسی طرز کے حفاظتی نظام متعارف کرا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں: