[rank_math_breadcrumb]

پیٹرول کبھی زندہ تھا، کروڑوں سال پرانی سمندری زندگی آج انسان کی رفتار کیسے بنی؟

ہر سیکنڈ دنیا تقریباً 47 ہزار لیٹر پیٹرول جلا رہی ہے۔ یہ اتنا ایندھن ہے کہ چند لمحوں میں دو بڑے آئل ٹینکر بھر جائیں۔ آج انسان جس پیٹرول پر اپنی گاڑیاں، ہوائی جہاز، صنعتیں اور پوری معیشت چلا رہا ہے، وہ دراصل زمین کے اندر دفن ایک قدیم زندہ دنیا کا تبدیل شدہ روپ ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ خام تیل صرف ڈائنوسارز سے بنا، لیکن سائنسدانوں کے مطابق حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ دنیا کے بیشتر تیل کے ذخائر دراصل سمندروں میں رہنے والے انتہائی ننھے جانداروں، پلانکٹن، الجی اور خوردبینی آبی حیات سے وجود میں آئے۔

قدیم سمندر اور زندگی کا آغاز

تقریباً 50 کروڑ سال پہلے زمین کے سمندر زندگی سے بھرنے لگے۔ ان سمندروں میں کھربوں ننھے جاندار تیرتے تھے، جو سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرتے، زندہ رہتے اور پھر مر جاتے تھے۔

مرنے کے بعد ان کے جسم سمندر کی تہہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ وقت کے ساتھ ان پر مٹی، ریت اور پتھروں کی نئی تہیں جمتی گئیں۔ یہ عمل چند سال یا صدیوں تک نہیں بلکہ کروڑوں سال تک جاری رہا۔

سائنسدانوں کے مطابق کئی مقامات پر یہ نامیاتی مادہ زمین کے اندر دو سے چار کلومیٹر گہرائی تک دفن ہوگیا، جہاں شدید دباؤ اور 60 سے 120 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت نے ایک غیر معمولی تبدیلی شروع کی۔

کیروجن سے خام تیل تک کا سفر

زمین کے اندر دفن یہ مردہ جاندار آہستہ آہستہ ایک مومی مادے، یعنی ‘کیروجن’ میں تبدیل ہوئے۔ کروڑوں سال بعد یہی کیروجن خام تیل، یعنی کروڈ آئل بن گیا۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ خام تیل بننے کے لیے درجہ حرارت کی ایک مخصوص حد ضروری ہوتی ہے۔ اگر حرارت کم ہو تو تیل نہیں بنتا، اور اگر زیادہ بڑھ جائے تو یہی مادہ قدرتی گیس میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین اس مخصوص مرحلے کو ‘آئل ونڈو’ کہتے ہیں۔

یعنی زمین کے اندر تیل بننے کے لیے نہ صرف وقت بلکہ انتہائی مخصوص قدرتی حالات درکار تھے۔

زمین کے نیچے خفیہ ذخائر کیسے بنتے ہیں؟

خام تیل بننے کے بعد بھی اس کا سفر ختم نہیں ہوتا۔ یہ زمین کے اندر چٹانوں کے درمیان آہستہ آہستہ حرکت کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ کہیں سخت پتھروں کی تہہ اس کا راستہ روک دیتی ہے۔ یوں زیرزمین آئل ریزروائرز یا ذخائر وجود میں آتے ہیں۔

سعودی عرب، روس، امریکا، وینزویلا اور خلیجی ممالک کے بڑے تیل کے ذخائر اسی طویل قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں بھی سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی بڑے سمندروں کے نیچے آج بھی نئے ذخائر موجود ہوسکتے ہیں، لیکن ان کی تشکیل کا عمل انتہائی سست ہے، یعنی جو تیل آج جل رہا ہے، وہ اس دور میں بننا شروع ہوا تھا جب انسان کا وجود بھی نہیں تھا۔

پہلا جدید آئل ویل اور بدلتی دنیا

انیسویں صدی میں انسان نے پہلی بار بڑے پیمانے پر تیل نکالنا شروع کیا۔ 1859 میں امریکی انجینئر ایڈون ڈریک نے دنیا کا پہلا کامیاب جدید آئل ویل کھودا، جسے جدید پیٹرولیم انڈسٹری کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔

اسی لمحے سے دنیا تیزی سے بدلنے لگی۔ گھوڑوں کی جگہ گاڑیوں نے لے لی، کوئلے کی جگہ پیٹرولیم مصنوعات بڑھنے لگیں، اور انسان نے کروڑوں سال میں بننے والا ایندھن صرف چند صدیوں میں جلانا شروع کردیا۔

زمین نے یہ تیل بنانے میں تقریباً 50 کروڑ سال لگائے، لیکن انسان اسے صرف 200 سال میں ختم کرنے کی رفتار پر پہنچ چکا ہے۔

خام تیل سے بننے والی حیران کن چیزیں

زمین سے نکلنے والا خام تیل براہ راست گاڑی میں نہیں ڈالا جاتا۔ اسے ریفائنری میں لے جایا جاتا ہے، جہاں شدید حرارت کے ذریعے مختلف حصے الگ کیے جاتے ہیں۔ اس عمل کو ‘فریکشنل ڈسٹلیشن’ کہا جاتا ہے۔

اسی خام تیل سے پیٹرول، ڈیزل، جیٹ فیول، پلاسٹک، تارکول، موم، مصنوعی ربڑ، پالئیسٹر، پینٹ، شیمپو، لپ اسٹک، میک اپ، ٹوتھ برش، جوتوں کے سول، کھاد، دواؤں کے بعض کیمیکل، کریڈٹ کارڈز، پانی کی پائپیں اور ہزاروں روزمرہ مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یعنی صبح اٹھنے سے رات سونے تک انسان درجنوں ایسی چیزیں استعمال کرتا ہے، جن کا تعلق کسی نہ کسی شکل میں خام تیل سے ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور مستقبل کا سوال

سائنسدان خبردار کرتے ہیں کہ فوسل فیول جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

اسی وجہ سے دنیا اب الیکٹرک گاڑیوں، سولر انرجی اور متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف بڑھ رہی ہے، تاہم آج بھی جدید دنیا کی بڑی معیشتیں خام تیل پر کھڑی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان جس پیٹرول کو روزمرہ زندگی کا ایک عام حصہ سمجھتا ہے، وہ دراصل ایک قدیم زندہ دنیا کی باقیات ہیں۔ قدیم سمندروں میں تیرنے والے ننھے جاندار آج انسان کی رفتار، صنعت اور معیشت بن چکے ہیں۔

اور شاید یہی زمین کی سب سے حیران کن کہانیوں میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں: