ٹھل کے گاؤں غازی خان چنہ میں پسند کی شادی کے بعد دو برادریوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی، جس کے نتیجے میں متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی جبکہ پورا علاقہ خوف و ہراس کی لپیٹ میں آ گیا۔
اطلاعات کے مطابق صدرہ چنہ اور محمد حسن برڑو نے پسند کی شادی کی، جس کے بعد لڑکی کے ورثاء اور چنہ برادری کے افراد نے مبینہ طور پر برڑو برادری کے گھروں پر حملہ کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں مسلح افراد نے حسن برڑو کے گاؤں محمد صدیق آرائیں میں داخل ہو کر گھروں کو آگ لگا دی، جس سے متعدد مکانات جل کر خاکستر ہو گئے۔
واقعے کے بعد برڑو برادری کے کئی خاندان اپنے گھر خالی کر کے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پسند کی شادی کے معاملے پر چنہ اور برڑو برادری کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پیش آئے۔
دوسری جانب صدرہ چنہ نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے محمد حسن برڑو کے ساتھ اپنی مرضی سے حیدرآباد کی عدالت میں شادی کی ہے۔ ان کے مطابق نہ انہیں اغوا کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
صدرہ چنہ کا کہنا تھا کہ ان کے ورثاء کی جانب سے کم عمری کا الزام بھی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بالغ ہیں اور گھر سے صرف ایک سوٹ پہن کر نکلی تھیں، کوئی سامان یا قیمتی چیز ساتھ نہیں لے گئیں، اس کے باوجود ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
پریمی جوڑے نے اعلیٰ حکام سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ان کے مطابق پسند کی شادی کی سزا پورے گاؤں کو دی گئی اور بے گناہ لوگوں کے گھر جلا دیے گئے۔
پولیس کے مطابق گاؤں جلانے کے واقعے کے خلاف چنہ برادری کے 30 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
