سان فرانسسکو، امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کا ایک تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی مرکز ہے۔ یہ شہر اپنی مخصوص جغرافیائی حیثیت، ساخت اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔
سان فرانسسکو کی تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے۔ اس شہر کی بنیاد 1776 میں ہسپانوی نوآبادکاروں نے رکھی۔ 1848 میں سونے کی دریافت کے بعد یہ شہر تیزی سے ترقی کرنے لگا اور دنیا بھر سے لوگ یہاں آ کر آباد ہوئے۔ 1906 کے زلزلے اور آگ نے اس شہر کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا تھا، مگر بعد میں اسے جدید انداز میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ 1960 کی دہائی میں یہ شہر ’ہپی‘ تحریک اور سماجی تبدیلیوں کا مرکز رہا۔
سان فرانسسکو کا جغرافیہ اسے دوسرے شہروں سے منفرد بناتا ہے۔ یہ شہر کیلیفورنیا کے ساحل پر ایک جزیرہ نما پر واقع ہے، جس کے ایک طرف بحرالکاہل اور دوسری طرف سان فرانسسکو بے ہے۔ یہ شہر اپنی بلند پہاڑی ٹکریوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں تقریباً 50 سے زیادہ ٹکریاں موجود ہیں۔ یہاں کا موسم معتدل رہتا ہے، مگر گرمیوں میں بھی اکثر گھنی دھند کی وجہ سے شہر ٹھنڈا رہتا ہے۔
سان فرانسسکو خود تو ایک شہری مرکز ہے، لیکن اس کے اردگرد کے علاقے پوری دنیا میں بہترین انگوروں کی پیداوار اور شراب سازی کے لیے مشہور ہیں۔ خاص طور پر شمالی کیلیفورنیا کا علاقہ اس صنعت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں سان فرانسسکو کے اطراف انگوروں کے باغات اور شراب کی پیداوار امریکہ کی دوسری ریاستوں کی نسبت زیادہ ہے۔
سان فرانسسکو سے گاڑی پر ایک سے دو گھنٹے کی مسافت پر مشہور وادی ’ناپا‘ واقع ہے، جو دنیا کے مشہور ترین شراب ساز خطوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں کی ’کیبرنے سووینیوں‘ سب سے زیادہ مشہور ہے۔
سونومیا کاؤنٹی، ناپا کے مقابلے میں زیادہ وسیع علاقہ ہے، جہاں مختلف اقسام کے انگور، جیسے ’پینو نوار‘ اور ’شارڈونے‘ بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔
رشن ریور ویلی میں ٹھنڈا موسم ہونے کی وجہ سے ایسے انگور پیدا ہوتے ہیں جن میں زیادہ تیزابیت اور خوشبو پائی جاتی ہے۔
آب و ہوا اور مٹی اس خطے کی کامیابی کا راز ہیں۔ یہاں کی منفرد جغرافیائی صورتحال، سمندر سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں اور دھند انگوروں کو دن کی گرمی کے بعد رات کے وقت ٹھنڈا رکھتی ہیں، جس سے ان کا ذائقہ برقرار رہتا ہے۔ یہاں کی مٹی آتش فشانی راکھ اور سمندری باقیات سے بنی ہوئی ہے، جو انگوروں کی مختلف اقسام کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہے۔
انگور عام طور پر اگست سے اکتوبر کے درمیان پکنے کے بعد ہاتھوں یا مشینوں کے ذریعے توڑے جاتے ہیں۔
پیسنے کے مرحلے میں انگوروں سے رس نکالا جاتا ہے۔ سفید شراب کے لیے صرف رس استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ سرخ شراب کے لیے انگوروں کے چھلکے بھی ساتھ رکھے جاتے ہیں۔
خمیر سازی کے مرحلے میں شکر کو الکحل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
پکانے کے عمل میں تیار شدہ شراب کو بلوط کی لکڑی سے بنے ہوئے پیپوں میں مہینوں یا برسوں تک رکھا جاتا ہے تاکہ اس میں مزید نفاست پیدا ہو۔
ہر سال لاکھوں لوگ سان فرانسسکو سے ان باغات کی سیر اور شراب چکھنے کے لیے آتے ہیں۔ یہاں تیار کی جانے والی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت ہوتی ہیں، جو کیلیفورنیا کی معیشت میں اربوں ڈالر کا حصہ ڈالتی ہیں۔
سان فرانسسکو کی آبادی تقریباً آٹھ سے نو لاکھ کے درمیان ہے، مگر یہ امریکہ کے گنجان آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مختلف نسلوں اور قومیتوں کے لوگ رہتے ہیں۔ خاص طور پر ایشیائی، خصوصاً چینی آبادی کی ایک بڑی تعداد یہاں مقیم ہے۔ یہ شہر اپنی لبرل سوچ اور مختلف ثقافتوں کے امتزاج کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
سان فرانسسکو دنیا کے امیر ترین اور اقتصادی طور پر مضبوط شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر مشہور سیلیکون ویلی کے بالکل قریب واقع ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں جیسے گوگل، فیس بک، میٹا اور ایپل یہاں گہرے اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایکس، اوبر اور ایئر بی این بی کے مرکزی دفاتر بھی یہیں موجود ہیں۔
اس شہر کو ’مغرب کا وال اسٹریٹ‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں متعدد بڑے بینک اور مالیاتی ادارے قائم ہیں۔
گولڈن گیٹ برج، الکاٹراز جزیرہ اور فشرمین وارف جیسے مقامات کی وجہ سے سیاحت یہاں کی معیشت کا بڑا حصہ ہے۔ بڑی معیشت ہونے کے باوجود یہاں رہائش کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور بے گھر افراد کا مسئلہ بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
سان فرانسسکو ایک ایسا شہر ہے جو اپنے شاندار ماضی، خوبصورت جغرافیے اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پوری دنیا کے لیے کشش کا مرکز ہے۔
میں نے 2017 میں ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے ’سانا‘ کنونشن میں شرکت کے بعد سان فرانسسکو شہر دیکھا تھا۔ سانا کنونشن ختم ہونے کے بعد علی حسن بھٹو کے ساتھ لاس اینجلس سے سان فرانسسکو روانہ ہوئے۔ اس سفر میں معروف وکیل ایاز تنیو، سراج چانڈیو اور ان کے صاحبزادے علی چانڈیو بھی ہمارے ساتھ تھے۔
لاس اینجلس سے علی حسن بھٹو کی گاڑی میں بحرالکاہل کے ساحل کے ساتھ ساتھ کوسٹل ہائی وے پر تقریباً بارہ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم سان فرانسسکو پہنچے۔ طویل سفر کی وجہ سے سب تھکے ہوئے تھے، اس لیے کھانا کھا کر جلد ہی ہوٹل کے کمروں میں جا کر آرام کرنے لگے۔
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ ہوٹل سے نکل کر تھوڑی واک اور آؤٹنگ کی جائے۔ چنانچہ میں ہوٹل سے نکل کر سروس روڈ کی طرف چل پڑا۔ ابھی تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ جینز پہنے ایک گوری نوجوان لڑکی میرے قریب آ کر سگریٹ مانگنے لگی۔ میں نے جواب دیا کہ میں سگریٹ نہیں پیتا۔ اس نے پھر پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کچھ سکے ہیں؟ میری جیب میں چند سینٹ موجود تھے، جو میں نے اسے دے دیے۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ ہمارے پاکستانی تو ہمیشہ ان امریکیوں کے سامنے کشکول اٹھائے پھرتے ہیں، مگر یہ کیا ماجرا ہے کہ یہ خود مانگنے والوں سے مانگ رہی ہے۔
میں واک کرتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ کچھ دور جا کر دیکھا کہ یہاں تو منظر ہی مختلف ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں، گورے اور کالے، سڑکوں کے کناروں پر کھلے عام نشہ استعمال کر رہے تھے۔ کچھ ایک دوسرے کو نشے کے انجیکشن لگا رہے تھے، جبکہ کچھ چرس اور کوکین سگریٹ میں بھر کر پی رہے تھے۔ وہ نشے میں بری طرح مدہوش تھے۔
کچھ نشئی جوڑوں کو سڑک کنارے ایک دوسرے کو گلے لگائے بوس و کنار کرتے بھی دیکھا۔ انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں تھا۔ مقامی پولیس کی گاڑیاں وہاں سے گزر رہی تھیں، مگر کوئی انہیں منع کرنے والا نہ تھا۔
میں نے سان فرانسسکو میں سیاہ فام افراد کی بڑی تعداد دیکھی۔ وہ ہمارے ہاں کے ہیروئن کے عادی افراد کی طرح سڑکوں سے کچرا جمع کر رہے تھے۔ نوجوان حسین لڑکیاں نشے کی حالت میں سڑکوں پر بیٹھی اور لیٹی ہوئی نظر آئیں۔ وہ آنے جانے والوں سے سگریٹ مانگتی تھیں یا قریب آ کر انگریزی میں کہتیں: ’کیا آپ میری مدد کریں گے؟‘
میری تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہاں بھی لیاری، لاڑکانہ اور حیدرآباد کے پاور ہاؤس جیسے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔
میں سوچنے لگا کہ افغان جہاد کے دوران جو نشہ ہمارے نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لیے ہماری طرف بھیجا گیا تھا، آج وہی نشہ اپنے سرپرستوں کے اپنے نوجوانوں کو بھی برباد کر رہا ہے۔

