دو مئی 2011 کی صبح جیسے ہی اٹھا تو حسبِ عادت فیس بک اور سوشل میڈیا چیک کیا۔ ہر طرف گزشتہ رات ایبٹ آباد کے آپریشن اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے مارے جانے کی خبریں تھیں۔ ٹی وی کھولا تو وہاں بھی ہر چینل پر یہی خبر تھی۔
سب خبروں میں ایک بات یکساں تھی کہ دنیا کا ‘موسٹ وانٹڈ’ دہشت گرد کئی برسوں سے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اپنی فیملی کے ساتھ مزے سے رہ رہا تھا، جس کو امریکہ نے ہلاک کرکے لاش نامعلوم مقام پر پھینک دی ہے۔
پہلی اور دوسری مئی کی درمیانی شب دو امریکی ہیلی کاپٹر افغانستان سے پاکستان میں بغیر کسی مزاحمت کے آئے، اور ان میں سے ایک ہیلی کاپٹر آپریشن کے دوران حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا، جب کہ دوسرے میں امریکی میرینز آپریشن مکمل کرکے اور اسامہ کی لاش لے کر باآسانی جہاں سے آئے تھے، یعنی افغانستان واپس چلے گئے۔ اسامہ کی لاش کسی نامعلوم مقام پر سمندر برد کی گئی۔
اس وقت کے امریکی صدر Barack Obama نے لائیو نشریات کے ذریعے اسامہ کے مارے جانے اور آپریشن کی کامیابی کا اعلان کیا، جو ہر پاکستانی چینل پر بھی دکھایا گیا۔ امریکی صدر کے مطابق اس نے ساری کارروائی کی خود نگرانی کی اور لائیو اپنے دفتر میں اپنے اعلیٰ افسران کے ساتھ بیٹھ کر اسکرین پر دیکھی۔

تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ اسامہ کے کمپاؤنڈ میں کچھ دن موجود رہا۔ کمپاؤنڈ اور پورے رہائشی علاقے کو پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھیرے میں لے لیا تھا اور میڈیا کو کمپاؤنڈ سے دور رکھا جا رہا تھا۔
مگر بعد میں کچھ غیر ملکی چینلز نے کمپاؤنڈ کی فوٹیج اور تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کی فوٹو جاری کی۔
اسامہ کا خاندان
کمپاؤنڈ کے اندر سے اسامہ کے خاندان کے زندہ بچ جانے والے افراد، جن میں اس کی تین بیویاں اور متعدد بچے، پوتے پوتیاں اور کمپاؤنڈ سے وابستہ دیگر افراد جو آپریشن کے دوران موجود تھے، کو پاکستانی حکام نے حراست میں لے لیا۔
اسامہ کی تینوں بیویاں اسلام آباد میں رکھی گئیں اور اپریل 2012 میں انہیں پاکستان میں غیر قانونی داخلے اور قیام پر 45 دن قید کی سزا سنائی گئی، جو انہوں نے ایک ولا، جو کہ ‘سب جیل’ قرار دیا گیا تھا، میں نظر بندی کی صورت میں پوری کی۔ سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں اور ان کے بچوں کو بیرون ملک بدر کر دیا گیا۔ مگر بعد میں وہ کمپاؤنڈ ہی ڈھا دیا گیا۔
تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ بھی بعد میں امریکہ کے حوالے کیا گیا۔
جسٹس جاوید اقبال کمیشن
آج 15 سال گزر چکے ہیں مگر امریکہ یا پاکستان کو ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ اسامہ بن لادن کیسے ایبٹ آباد میں آ کر بسے تھے۔ اس دوران پاکستان میں جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت پر سپریم کورٹ کا ایک جوڈیشل کمیشن بھی بنا، جس کی رپورٹ دیگر ایسی حساس کمیشنوں کی طرح کبھی جاری نہیں ہوئی۔

ایبٹ آباد آپریشن پر فلمیں
اس آپریشن سے متعلق کئی فلمیں امریکہ سے ریلیز ہوئیں۔ ان میں سے ایک Zero Dark Thirty جو 2012 میں ریلیز ہوئی، ایک ڈرامہ فلم تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح امریکہ نے اسامہ کا سراغ لگایا اور پھر اس کو ٹریس کرکے مار دیا۔
اس میں کچھ امریکی سرکاری ویڈیو فوٹیج بھی شامل تھیں۔ ایبٹ آباد کمپاؤنڈ کی فوٹیج اور اسامہ کو ٹی وی اور وی سی آر دیکھتے ہوئے کی فوٹیج بھی شامل تھیں۔
اور دوسری حال ہی میں ریلیز کی گئی ڈاکیومنٹری American Manhunt: The Hunt for Bin Laden بھی میں نے دیکھی تھی۔ ان دونوں فلموں میں دکھایا گیا تھا کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کو بھی اسامہ کی تلاش میں تقریباً 10 سال کا عرصہ لگا۔
ان فلموں میں بھی یہ نہیں دکھایا گیا کہ وہ کیسے ایبٹ آباد پہنچے۔ بس اتنا ذکر موجود ہے کہ افغانستان کی تورا بورا پہاڑیوں میں کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد امریکی فوجیوں کو اس کا کچھ بھی پتا نہیں چلا کہ وہ کہاں گیا۔ انہیں شک تھا کہ وہ انہی پہاڑیوں میں کہیں مر کھپ گیا ہوگا۔
2025والی فلم ایک نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری سیریز تھی جس میں سی آئی اے کے اندرونی افراد کے انٹرویوز اور نایاب ویڈیو مواد شامل ہیں، اور جو اسامہ بن لادن کی تلاش پر مبنی دس سالہ تفتیش اور آخری آپریشن کی تفصیلات پیش کرتی ہے۔

بن لادن تک رسائی کے لیے سی آئی اے کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی
ایبٹ آباد آپریشن کے ایک اور کردار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکی سی آئی اے کی مدد کے پاداش میں گرفتار کیا گیا اور انہیں سزا بھی ہو چکی ہے۔ مگر امریکہ جان توڑ کوششوں کے باوجود اسے رہا نہیں کروا سکا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں وہ اپنے ایک اور شہری Raymond Davis، جس نے 27 جنوری 2011 کو لاہور میں دو پاکستانیوں کو مارا تھا، آسانی سے چھڑا کر لے گئے۔
شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ اس نے ایک جعلی پولیو ویکسین مہم کے ذریعے اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ میں موجود بچوں کے خون کے ڈی این اے نمونے لینے میں سی آئی اے کی مدد کی، جس کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا کہ اس کمپاؤنڈ میں اسامہ اور اس کا پورا خاندان ہی قیام پذیر ہے۔
–

