[rank_math_breadcrumb]

امر گُرڑو ایکسپلینس: کیا واقعی پاکستان کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں؟

پاکستان کے تمام گلیشیئر ختم ہو رہے ہیں۔ پانی کم ہو رہا ہے۔ مستقبل خطرے میں ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو اب ہماری اجتماعی سوچ کا حصہ بن چکا ہے۔ ہم اسے سنتے ہیں، مانتے ہیں، اور آگے بڑھا دیتے ہیں۔

میں پچھلے پچیس برسوں سے ماحولیات کی رپورٹنگ کر رہا ہوں۔ میں نے دریا کو دیکھا ہے، اس کے بہاؤ کو بدلتے دیکھا ہے، میں نے سندھ کے ڈیلٹا میں وہ زمین دیکھی ہے جہاں کبھی پانی تھا اور اب نہیں ہے۔ اور میں ان پہاڑوں تک بھی گیا ہوں جہاں سے یہ پانی آتا ہے۔ اور ایک بات میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں: مسئلہ صرف پانی کا نہیں ہے، مسئلہ ہماری سمجھ کا ہے۔ ہم ایک پیچیدہ نظام کو ایک سادہ جملے میں قید کر دیتے ہیں۔ اور جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو ہم حقیقت کو نہیں، ایک کہانی کو سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

چلیں، ابتدا ایک بڑی تصویر سے کرتے ہیں۔ زمین پر پانی کہاں ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ دریا، جھیلیں، اور بارش ہی پانی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا زیادہ تر پانی سمندروں میں ہے، جو ہمارے لیے قابل استعمال نہیں۔ میٹھے پانی کے بڑے ذخائر کہاں ہیں؟ برف میں۔ نارتھ پول میں اور پہاڑوں میں۔ ان پہاڑوں کو دنیا ’تھرڈ پول‘ کہتی ہے۔

یہ وہ خطہ ہے جہاں ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم جیسے عظیم پہاڑی سلسلے موجود ہیں۔ اور یہاں ایک حقیقت جو ہمیں سمجھنی چاہیے: پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں یہ تینوں سلسلے ایک ساتھ موجود ہیں۔ یعنی ہم دنیا کے سب سے بڑے برفانی نظام کے اندر رہتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں برسوں تک بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً سات ہزار گلیشیئر ہیں۔ پھر اچانک یہ تعداد تیرہ ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ یہ سن کر عام آدمی کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ کہ شاید گلیشیئر بڑھ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ گلیشیئر نہیں بڑھے، ہماری گنتی بہتر ہو گئی ہے۔ ہماری نظر تیز ہو گئی ہے۔ پہلے ہم صرف بڑے گلیشیئر دیکھتے تھے، اب ہم چھوٹے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یعنی یہاں بھی مسئلہ حقیقت کا نہیں، سمجھ کا ہے۔

اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف: کیا پاکستان کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں؟ ا

گر ہم اس سوال کا سیدھا جواب چاہتے ہیں، تو ہم غلطی کریں گے۔ کیونکہ سائنس سیدھے جواب نہیں دیتی، وہ ہمیں پیچیدہ تصویر دکھاتی ہے۔ پاکستان میں تین بڑے پہاڑی سلسلے ہیں: ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم۔ اور ان تینوں میں گلیشیئرز کا رویہ ایک جیسا نہیں ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے، اس لیے اسے دوبارہ سن لیں: ایک جیسا نہیں ہے۔

ہمالیہ اور ہندوکش کے کئی حصوں میں گلیشیئر سکڑ رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے، اور اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ لیکن قراقرم میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں ایک رجحان دیکھا گیا ہے جسے سائنسدان ’قراقرم اینوملی‘ کہتے ہیں۔ یعنی یہاں کے بہت سے گلیشیئر یا تو مستحکم ہیں، یا بہت آہستہ تبدیل ہو رہے ہیں، اور کچھ جگہوں پر معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔ اب ذرا رک کر سوچیں: ایک ہی ملک میں، ایک ہی وقت میں، کچھ گلیشیئر کم ہو رہے ہیں، کچھ ویسے ہی ہیں، اور کچھ مختلف انداز میں برتاؤ کر رہے ہیں۔ تو پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سب تیزی سے پگھل رہے ہیں؟

گلیشیئرز کی تعداد کے لحاظ سے

قراقرم میں 46 فیصد، ہمالیہ میں 33 فیصد، اور ہندوکش میں 21 فیصد گلیشیئر موجود ہیں۔ جبکہ برف کے حجم (آئس ریزرو) کے لحاظ سے قراقرم میں 87 فیصد، ہندوکش میں دس فیصد، اور ہمالیہ میں صرف تین فیصد برف ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ تر برف قراقرم میں ہے، اور وہاں کے گلیشیئر نسبتاً مستحکم ہیں۔ اگر مجموعی تصویر کو دیکھیں، تو اندازہ یہ بنتا ہے کہ تقریباً پچاس سے ستر فیصد گلیشیئر کسی نہ کسی سطح پر کم ہو رہے ہیں، جبکہ تیس سے پچاس فیصد کے قریب گلیشیئر مستحکم یا مختلف رویہ دکھا رہے ہیں۔ یعنی کہانی یک طرفہ نہیں ہے۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہماری سمجھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ ہم ایک جملہ سنتے ہیں، اور اسے پورا سچ مان لیتے ہیں۔

اب ایک اور بنیادی بات سمجھیں۔ ہم گلیشیئر کو صرف پگھلنے کے عمل سے دیکھتے ہیں۔ لیکن گلیشیئر صرف پگھلتے نہیں، وہ بنتے بھی ہیں۔ برف گرتی ہے، جمع ہوتی ہے، دباؤ میں آتی ہے، اور پھر گلیشیئر بنتا ہے۔ اگر برف زیادہ گرے، تو گلیشیئر بڑھ سکتا ہے۔ اگر درجہ حرارت زیادہ ہو، تو وہ سکڑ سکتا ہے۔ یہ ایک مسلسل توازن ہے۔ یعنی گلیشیئر ایک زندہ نظام کی طرح ہے، نہ کہ ایک جامد چیز جو صرف ختم ہو رہی ہے۔

اب ایک اور سوال: جب گلیشیئر پگھلتا ہے، تو کیا سارا پانی فوراً دریا میں آ جاتا ہے؟ نہیں۔ بہت سی جگہوں پر یہ پانی اوپر ہی رک جاتا ہے، جھیلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ان جھیلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ جھیلیں پانی کو روکتی بھی ہیں، اور کبھی اچانک چھوڑتی بھی ہیں۔ یعنی پانی کا بہاؤ مسلسل نہیں، بلکہ ٹوٹا ہوا ہے۔

اب ہم واپس آتے ہیں اپنے سب سے اہم سوال کی طرف: اگر گلیشیئر پگھل رہے ہیں، تو پانی کہاں جا رہا ہے؟

 تقریباً سو برس پہلے، جب بڑے بند اور بیراج نہیں تھے، دریائے سندھ کا قدرتی سالانہ بہاؤ ایک سو چالیس سے ایک سو اسی ملین ایکڑ فٹ (تقریباً ایک سو پچہتر کیوبک کلومیٹر) تھا۔ 1976 سے 1998 کے درمیانی عرصے میں اوسط بہاؤ ایک سو پینتیس اعشاریہ چھ ملین ایکڑ فٹ رہا۔ اور 1999 سے 2022 تک یہ اوسط گھٹ کر ایک سو بیس اعشاریہ آٹھ ملین ایکڑ فٹ رہ گیا۔ یعنی پانی کم ہوا ہے، لیکن یہ کمی گلیشیئر کے پگھلنے سے زیادہ پیچیدہ عوامل کا نتیجہ ہے۔

اور یہاں میں آپ کو ایک ایسی حقیقت کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو ہم سب جانتے ہیں: پاکستان میں پانی پر جھگڑے ہو رہے ہیں۔ صوبے ایک دوسرے سے شکوہ کر رہے ہیں۔ سندھ کہتا ہے ہمیں پانی نہیں مل رہا، اوپر والے کہتے ہیں پانی کم ہے۔ تو سوال یہ ہے: اگر واقعی پانی بڑھ رہا ہے، تو جھگڑا کیوں ہو رہا ہے؟ یہ سوال آسان نہیں ہے، لیکن ضروری ہے۔

اب یہاں ہمیں ایک اور بنیادی حقیقت سمجھنی ہوگی۔ پاکستان کا اصل انحصار کس دریا پر ہے؟ دریائے سندھ۔ ہاں، جہلم اور چناب بھی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نظام دریائے سندھ کے گرد گھومتا ہے۔ اور سندھ کو پانی کہاں سے ملتا ہے؟ بڑی حد تک قراقرم کے گلیشیئرز سے۔ اب ذرا اس بات کو جوڑیں: اگر قراقرم کے گلیشیئر تیزی سے ختم نہیں ہو رہے، بلکہ نسبتاً مستحکم ہیں، تو پھر یہ کہنا کہ پاکستان فوری طور پر گلیشیئر کے پگھلنے کی وجہ سے پانی سے محروم ہو جائے گا، ایک ادھورا بیان ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے، لیکن یہ کہنا کہ سب کچھ تیزی سے ختم ہو رہا ہے، حقیقت کو سادہ بنا دینا ہے۔

اصل مسئلہ شاید کہیں اور ہے۔ ہم پانی کو صرف ایک ذریعے سے دیکھتے ہیں: گلیشیئر سے۔ لیکن پانی ایک نظام ہے۔ اس میں وقت ہے، موسم ہے، تقسیم ہے، اور استعمال ہے۔ گلیشیئر ہمیں پانی دیتے ہیں، مگر یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ وہ پانی کس تک پہنچے گا۔ یہ ہم طے کرتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمارا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ ہم ایک پیچیدہ مسئلے کو ایک سادہ جملے میں بدل دیتے ہیں، اور پھر اسی جملے پر بحث کرتے رہتے ہیں۔

میں نے اپنے کیریئر میں یہ دیکھا ہے کہ بعض اوقات مسئلہ پانی کی کمی نہیں ہوتا، بلکہ سمجھ کی کمی ہوتی ہے۔ ہم حقیقت کو نہیں، اس کی ایک آسان شکل کو سمجھتے ہیں، اور پھر ہم اسی آسان شکل کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان کے گلیشیئر نہ مکمل طور پر محفوظ ہیں، نہ مکمل طور پر ختم ہو رہے ہیں۔ وہ بدل رہے ہیں۔ اور ہمیں بھی اپنی سمجھ بدلنی ہوگی۔ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ گلیشیئر پگھل رہے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس پورے نظام کو سمجھ رہے ہیں؟ اور اگر ہم نے اسے غلط سمجھا، تو ہم غلط فیصلے کریں گے۔ اور شاید یہی وہ خطرہ ہے جسے ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

یہ گفتگو یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یہ صرف آغاز ہے۔ ایک ایسی گفتگو کا آغاز، جس میں ہم ماحولیات کو نعروں سے نکال کر حقیقت کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ کبھی کبھی سب سے بڑا بحران پانی کا نہیں ہوتا، بلکہ فہم کا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: