ایک سپاہی سے سفارتکار تک: صاحبزادہ یعقوب خان کی غیر معمولی زندگی

پاکستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے شعبے میں بلکہ مختلف میدانوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ایسی ہی ایک اہم شخصیت صاحبزادہ یعقوب علی خان تھے، جن کی زندگی اعلیٰ ذہانت اور فوجی مہارت کا بہترین امتزاج تھی۔ وہ ایک کامیاب فوجی افسر، ماہر سفارتکار، دانشور اور کئی زبانوں کے ماہر تھے۔

صاحبزادہ یعقوب خان ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے جو برصغیر کے نوابوں میں شمار ہوتا تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ گئے۔ بعد ازاں انہوں نے دیہرہ دون کے فوجی ادارے اور انڈین ملٹری اکیڈمی میں تربیت حاصل کی، جہاں سے انہوں نے ایک پیشہ ور فوجی افسر کے طور پر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران انہوں نے برطانوی ہند فوج میں خدمات انجام دیں اور ایک کیولری رجمنٹ میں بطور افسر شامل رہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا اور پاک فوج میں شامل ہو گئے۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قیادت کی بدولت انہیں جلد ہی اہم ذمہ داریاں سونپی جانے لگیں۔

1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہیں مشرقی پاکستان میں فوج کے ایسٹرن کمانڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اس دوران حالات نہایت حساس تھے اور سیاسی و سماجی کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ 1969 میں انہیں مشرقی پاکستان کا گورنر بنایا گیا، تاہم بڑھتی ہوئی بدامنی اور سیاسی بحران کے باعث انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور واپس پاکستان آ گئے۔

پیشہ ور سفارتکار

فوج سے باعزت ریٹائرمنٹ لینے کے بعد انہوں نے 1972 میں بطور پیشہ ور سفارتکار خارجہ سروس میں شمولیت اختیار کی۔ ابتدا میں انہیں فرانس میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا، جہاں وہ 1973 تک خدمات انجام دیتے رہے۔

1973 میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا، اور وہ 1979 تک اس عہدے پر رہے۔ اس دوران پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کچھ سرد ہو رہے تھے، لیکن انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے عالمی سطح پر پہچان حاصل کی۔ 1977 میں واشنگٹن ڈی سی میں کچھ امریکی مسلمانوں نے تین سرکاری عمارتوں کا گھیراؤ کر لیا تھا، جسے ختم کروانے کے لیے انہوں نے مصر کے سفیر اشرف غوربال اور ایران کے سفیر اردشیر زاہدی کے ساتھ مل کر مذاکرات میں حصہ لیا اور صورتحال کو پرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔

1979 میں انہیں ماسکو بھیجا گیا جہاں وہ سوویت یونین میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔ وہاں انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کام کیا اور ایک تعلیمی معاہدہ بھی کیا۔ 1980 میں انہیں دوبارہ فرانس بھیج دیا گیا، جہاں وہ 1982 تک اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

وزیر خارجہ کے طور پر اہم کردار

صاحبزادہ یعقوب خان وزیر خارجہ کے عہدے پر بھی فائز ہوئے اور فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اہم ذمہ داریاں سرانجام دیں۔

وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے ایک سرگرم اور اسلامی دنیا کے حق میں پالیسی اختیار کی۔ انہوں نے امریکہ کی مدد سے چلنے والے خفیہ پروگرام کی حمایت کی، جس کے تحت افغان مجاہدین کو سوویت یونین کی حمایت یافتہ افغانستان کی حکومت کے خلاف اسلحہ فراہم کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے صدر ضیا الحق کو اہم معاملات پر مشورے دیے اور پاکستان کی

خارجہ پالیسی کو امریکہ کے قریب رکھا۔ اس دوران کئی معاملات براہ راست فوج کے ساتھ مل کر چلائے گئے۔ 1985 کے انتخابات کے بعد بھی وہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور میں وزیر خارجہ رہے۔

بین الاقوامی سطح پر انہوں نے پاکستان کے خفیہ جوہری پروگرام کی حمایت جاری رکھی اور اس بارے میں واضح مؤقف اختیار کرنے کے بجائے محتاط حکمت عملی اپنائی۔ 1984 میں واشنگٹن میں انہوں نے بیان دیا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان بھرپور جواب دے گا، اور امریکہ سے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو جوہری تحفظ فراہم کیا جائے، لیکن یہ تجویز قبول نہ کی گئی۔

1980 کی دہائی میں انہوں نے سوویت افغان جنگ کے حل کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔ انہوں نے سابق بادشاہ ظاہر شاہ کے تحت عبوری حکومت بنانے کی تجویز دی، لیکن صدر ضیا الحق نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ 1984 سے 1985 کے دوران انہوں نے چین، سعودی عرب، سوویت یونین، فرانس، امریکہ اور برطانیہ کے دورے کیے تاکہ جنیوا معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکے، جو 1988 میں طے پایا۔ اس دوران سوویت وزیر خارجہ ایڈورڈ شیورڈناڈزے نے انہیں خبردار بھی کیا کہ افغان مجاہدین کی حمایت کے نتائج سامنے آئیں گے۔

اسی دہائی میں انہوں نے ایران اور عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو بھی مضبوط رکھا، خاص طور پر ایران عراق جنگ کے دوران۔ 1988 کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے انہیں دوبارہ وزیر خارجہ مقرر کیا۔

1988 سے 1990 تک انہوں نے بے نظیر بھٹو کی مدد کی تاکہ بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ اسلحہ کم کرنے کا معاہدہ ہو سکے۔ 1990 میں انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ آئی کے گجرال سے ملاقات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کی جا سکے۔

1990 کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں تیسری بار وزیر خارجہ بنایا اور وہ 1991 تک اس عہدے پر رہے۔ اس دوران انہوں نے خلیجی جنگ میں امریکہ کی قیادت میں عراق کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔ بعد ازاں 26 فروری 1991 کو انہوں نے وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا۔

استعفے کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی اور 1992 میں مغربی صحارا کے لیے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے مقرر ہوئے، جہاں وہ 1995 تک خدمات انجام دیتے رہے۔ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کے دوران 1996 میں انہیں ایک بار پھر وزیر خارجہ بنایا گیا، لیکن یہ مدت زیادہ دیر نہ چل سکی کیونکہ اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی۔

1997 میں انہوں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کیا، مگر اس کے باوجود انہوں نے 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کی حمایت کی، اور فوجی حکومت نے انہیں امریکہ کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا جہاں انہوں نے فوجی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے کی کوشش کی۔

سماجی خدمات

1981 میں صاحبزادہ یعقوب خان کو آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا بانی چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ تقریباً بیس سال تک اس عہدے پر فائز رہے اور 2001 میں ریٹائر ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ امریکہ کے شہر نیو یارک میں قائم کارنیگی کمیشن برائے خطرناک تنازعات کی روک تھام کے رکن بھی رہے۔

ذاتی زندگی

یعقوب علی خان کی شادی بیگم طوبیٰ خلیلی سے ہوئی، جو کلکتہ کے ایرانی خلیلی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں، صمد اور نجیب۔

وہ 26 جنوری 2016 کو 95 سال کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ انہیں راولپنڈی کے ویسٹریج قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں اس وقت کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ایئر چیف مارشل سہیل امان، نیول چیف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ سمیت اعلیٰ سول اور فوجی حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

صاحبزادہ یعقوب خان کو ان کی طویل فوجی اور سفارتی خدمات کے دوران کئی اہم قومی اور بین الاقوامی اعزازات اور تمغے عطا کیے گئے۔ انہیں پاکستان کا اعلیٰ سول اعزاز ستارہ پاکستان دیا گیا، جو ملک کے لیے نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری جنگ عظیم میں خدمات کے صلے میں انہیں برطانوی دور کے فوجی اعزازات بھی ملے، جن میں 1939–1945 اسٹار، افریقہ اسٹار، اٹلی اسٹار اور وار میڈل 1939–45 شامل ہیں۔

مزید برآں انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا اور اردن کی جانب سے اسٹار آف جارڈن سے بھی نوازا گیا۔ یہ اعزازات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی فوجی اور سفارتی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

صاحبزادہ یعقوب علی خان کی کتاب
‘Strategy, Diplomacy, Humanity: Life and Work of Sahabzada Yaqub Khan’
انٹرنیشنل فورم، تکشلا ریسرچ یونیورسٹی، سین ڈیاگو نے 2005 میں شائع کی، جس میں ان کی فوجی و سفارتی زندگی اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے کیے گئے خطابات کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں: