کامران خمیسو خواجہ
شیعہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے پچاسویں روحانی پیشوا، پرنس رحیم آغا خان، اپنے والد کے بعد امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 سے 26 مئی تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کی تصدیق ہفتے کے روز کمیونٹی ذرائع نے کی ہے۔
اس دورے کی خبر سے ملک بھر میں اسماعیلی کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور روحانی پیشوا کی آمد کے موقع پر مختلف تقریبات کے انعقاد کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ مستند ذرائع کے مطابق پرنس رحیم آغا خان اپنے ایک ہفتے کے قیام کے دوران حکومت پاکستان، خیبر پختونخوا حکومت اور گلگت بلتستان حکومت کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ وہ ملک کے شمالی علاقوں میں مقیم اپنے پیروکاروں سے بھی ملاقات کریں گے اور مذہبی اجتماعات میں شرکت کریں گے، جن کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پرنس رحیم آغا خان اس دورے کے دوران شمالی علاقوں میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے منصوبوں کا جائزہ بھی لیں گے۔
پرنس رحیم آغا خان کے آباؤ اجداد کا پاکستان کے ساتھ گہرا تاریخی تعلق رہا ہے۔ ان کے پردادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان نے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کی تحریک کی قیادت کی، اور بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا تاکہ مسلم طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ان کے دادا پرنس علی خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں اور اہم سفارتی مسائل کے حل میں ملک کی مدد کی۔ جبکہ ان کے والد، مرحوم پرنس کریم آغا خان، جو کمیونٹی کے انچاسویں روحانی پیشوا تھے، مشکل اوقات میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرنس رحیم آغا خان کو 2023 میں پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے خدمات کے اعتراف میں نشان پاکستان سے نوازا گیا تھا۔

