سندھی زبان کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے عالمی نظاموں سے منسلک کرنے کے لیے قائم عبدالماجد بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کے بانی اور ڈائریکٹر امر فیاض بُرڑو نے علیحدگی کا اعلان کردیا۔
جمعرات کو اپنے ویریفائیڈ فیس بک پیج پر ایک گھنٹے سے زائد وقت تک لائیو اسٹریمنگ کے دوران انہوں نے ایسا اعلان کیا۔
امر فیاض بُرڑو ماہر لسانیات، مصنوعی ذہانت کے ماہرِ انجینئر، اور لغت نگار ہیں۔ انہوں نے عالمی ادارے سے استعفیٰ دے کر سندھی زبان کی ترقی کے لیے کام کا آغاز کیا اور 2019 میں ’عبدالماجد بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ‘ جسے ’اے ایم بی آئی ایل ای‘ بھی کہا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔
یہ ادارہ سندھی زبان کی تکنیکی ترقی کے لیے وقف ایک اہم سرکاری ادارہ ہے۔ یہ حکومت سندھ کے محکمہ ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ و آرکائیوز کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے اور حیدرآباد کے قاسم آباد میں واقع ہے۔ یہ ادارہ سندھی زبان کے لیے کمپیوٹیشنل لسانیات اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں سرگرم ہے۔
اس ادارے کا نام عبدالماجد بھرگڑی کے اعزاز میں رکھا گیا ہے، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ سندھی کمپیوٹنگ کے بانی ہیں۔ انہوں نے 1987 میں پہلی بار سندھی متن کو کمپیوٹر اسکرین پر پیش کیا۔

عبدالماجد بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ نے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں سندھی زبان کو ضم کرنے پر بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت سے سرٹیفیکیشن حاصل کیا، اور گلوبل انٹرسرٹیفیکیشن کی فہرست میں جگہ بنائی۔
دوسری بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسٹی ٹیوٹ نے اوپن اے آئی، مائیکروسافٹ کوپائلٹ، گوگل جیمنی اور ہارورڈ یونیورسٹی ڈیٹاورس جیسی عالمی تنظیموں کے ساتھ سندھی زبان کو مربوط کیا۔ اس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ نے بھٹائی پیڈیا جیسا جامع ڈیجیٹل انسائیکلوپیڈیا بھی تیار کیا ہے جو شاہ عبدالطیف بھٹائی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل ہے۔
اس انسٹی ٹیوٹ کا مشن جدید زبان انجینئرنگ کے حل تیار کرنا ہے جو سندھی زبان کو محفوظ، فروغ اور بہتر بنائیں، اور ڈیجیٹل دور میں اس کی مطابقت اور رسائی کو یقینی بنائیں۔ اس کا وژن تحقیق، جدت اور لسانی وسائل کی تخلیق میں قیادت کرنا ہے، تاکہ سندھی زبان کو ٹیکنالوجی، تعلیم اور مواصلات میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہو۔
اس کے علاوہ اس ادارے کے بنیادی فرائض میں شامل ہیں کہ کمپیوٹیشنل پروسیسنگ کو معیاری بنانا، خودکار آن لائن سندھی ترجمہ اور رسم الخط تبدیل کرنے کے نظام تیار کرنا، متن سے تقریر اور آوازی ترکیب کو بہتر بنانا، سندھی آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن ٹولز کو ترقی دینا، سندھی زبان کے لیے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو مقامی بنانا، سیمانٹک تجزیے کے لیے ’سندھی ورڈنیٹ‘ تیار کرنا، سندھی ادب کے لیے ڈیجیٹل ویب پورٹل بنانا، ایک جامع ڈیجیٹل لغت تیار کرنا، زبان انجینئرنگ میں پیشہ ور افراد کی تربیت کرنا، قومی اور بین الاقوامی شراکتیں قائم کرنا، اور تحقیقی مقالے شائع کرنا۔
اپنے قیام کے بعد سے ’اے ایم بی آئی ایل ای‘ نے متعدد اہم منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان میں سندھی زبان کو مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں ضم کرنے پر آئی ایس او سرٹیفیکیشن حاصل کرنا، ’سندھی ورڈنیٹ‘ منصوبہ بھی شامل ہے۔

