[rank_math_breadcrumb]

پیک ریلیف حکمت عملی: لوڈشیڈنگ کی اصل وجہ اور مستقبل

Noor Fatima (Bio Not Set)

پاکستان میں بجلی کی بندش کو لوڈشیڈنگ سمجھ کر رد کردیا گیا، لیکن پاور ڈویژن کے مطابق یہ دراصل پیک ریلیف سٹریٹجی ہے۔ حکومت شام پانچ بجے سے رات ایک بجے کے درمیان جان بوجھ کر بجلی بند کر رہی ہے تاکہ مہنگے ایندھن پر انحصار کم ہو اور بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کو روکا جا سکے۔ اگر یہ اقدام نہ کیا جاتا تو فی یونٹ بجلی پانچ سے چھ روپے مہنگی ہو جاتی، جبکہ اب اضافہ صرف ڈیڑھ روپے تک محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ جولائی سے فروری کے دوران اوسط ٹیرف میں71  پیسے فی یونٹ کمی آئی، جس سے صارفین کو چھیالیس ارب روپے کا ریلیف ملا۔ صورتحال خراب ہے مگر بے قابو نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شام پانچ سے رات ایک بجے تک بجلی کی طلب عروج پر ہوتی ہے، جبکہ پن بجلی کی پیداوار میں اچانک 1191 میگاواٹ کی کمی آگئی۔ قطر پر حملوں کے بعد ایل این جی کی درآمد بھی رک گئی، جس سے طلب اور سپلائی کے درمیان خلا چار ہزار پانچ سو میگاواٹ تک پہنچ گیا۔

صرف حیدرآباد اور کراچی اس لوڈ مینجمنٹ سے مستثنیٰ ہیں، جہاں سستے ذرائع سے بجلی دستیاب ہے۔ باقی پورے ملک میں طلب بائیس ہزار میگاواٹ ہے جبکہ سپلائی پندرہ ہزار چار سو میگاواٹ ہے، جس کی وجہ سے آٹھ سے سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ ملتان اور مظفر گڑھ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاور ڈویژن نے عوام سے پانی کی کمی پر معافی مانگی ہے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ جب تک طلب بڑھتی رہے گی، لوڈشیڈنگ بھی بڑھے گی۔

مالی علاقوں میں سستی ہوا اور شمسی توانائی موجود ہے مگر گرڈ ناکافی ہے۔ سی این جی سیکٹر مئی میں بند رہے گا اور اس کی گیس پاور سیکٹر کو دی جائے گی، جس سے بجلی تو آ سکتی ہے لیکن چولھے ٹھنڈے رہ جائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا لوڈشیڈنگ ختم ہو سکتی ہے؟ اس کا انحصار صرف حکومت پر نہیں بلکہ عوام پر بھی ہے۔ اگر شام پانچ بجے سے رات ایک بجے کے درمیان غیر ضروری بجلی کا استعمال کم کیا جائے تو شاید لوڈشیڈنگ میں کمی آ سکتی ہے۔ ورنہ یہ پیک ریلیف حکمت عملی کافی عرصے تک جاری رہے گی۔

ساگا ڈیجیٹل پیچیدہ موضوعات کو آسان کہانیوں میں پیش کرتا ہے۔ مزید دلچسپ کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

اسی بارے میں: