کیا محبت کے اظہار کا یہ خوبصورت انداز واقعی آپ کو پتلا کر سکتا ہے؟ یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے کہ کیا جم جانے یا سخت غذا کے بغیر صرف بوسہ لینے سے وزن کم کیا جا سکتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، اس سوال میں کچھ سچائی تو ہے، لیکن یہ اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔
بوسہ لینے کا وزن کم کرنے میں براہِ راست تو کوئی خاص کردار نہیں، لیکن بالواسطہ طور پر یہ آپ کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ جب آپ کسی پرجوش بوسے میں ملوث ہوتے ہیں تو آپ کے چہرے کے تقریباً چوالیس پٹھے متحرک ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل چہرے کی ورزش کا کام کرتا ہے، جس سے جِلد کی لچک برقرار رہتی ہے اور بڑھتی عمر کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ اسے قدرتی فیشل بھی کہا جا سکتا ہے۔
کیلوریز کے حساب سے، ایک منٹ کے گہرے بوسے کے دوران صرف دو سے چھ کیلوریز جلتی ہیں۔ اگر آپ ایک سموسہ (جس میں تقریباً ڈھائی سو کیلوریز ہوتی ہیں) کو ختم کرنا چاہیں تو آپ کو تقریباً پچاس منٹ تک مسلسل بوسہ لینا ہو گا۔ اسی طرح گول گپوں کی ایک پلیٹ کی کیلوریز ختم کرنے کے لیے تیس منٹ درکار ہوں گے۔
اس لیے یہ سمجھنا کہ بوسہ لینا برگر یا بھاری کھانوں کا متبادل ہو سکتا ہے، ایک خام خیالی ہے۔
ماہرین کے مطابق، بوسہ لینے سے جسم میں خوشی کے ہارمونز جاری ہوتے ہیں جو تناؤ اور ذہنی دباؤ کو کم کرتے ہیں۔ جب انسان کا ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے تو اسے بے وقت کی بھوک کم لگتی ہے، جس سے بالواسطہ طور پر وزن کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ عمل آپ کو خوش رکھتا ہے اور آپ کے مزاج کو بہتر بناتا ہے، جو صحت مند زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔
کم معروف حقائق
بوسہ لینے کے دوران آپ کے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، جس سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ یہ عمل آپ کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، بوسہ لینے کے دوران آپ کے منہ میں موجود بیکٹیریا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔
مگر یاد رکھیں!
بوسہ لینے کو ورزش کا متبادل نہ سمجھا جائے۔ آپ اپنی جم کی رکنیت برقرار رکھیں۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ سب کچھ گھر کی چار دیواری میں اپنی شریک حیات کے ساتھ ہی کرنا چاہیے۔ عوامی مقامات پر ایسا کرنا نہ صرف سماجی طور پر غلط ہے بلکہ اس سے آپ کو قانونی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
