[rank_math_breadcrumb]

جے ڈی وینس: غربت اور محرومی سے نائب صدارت تک کا دلچسپ سفر

ان کا بچپن انتہائی کرب اور غربت میں گزرا۔ وہ بہت چھوٹے تھے کہ والد چھوڑ گئے، ماں نشے کی عادی تھی اور کئی مردوں سے تعلقات تھے۔ یہ بچہ ذہنی انتشار کا شکار رہنے لگا۔

پرورش نانا اور نانی نے کی۔ انتہائی مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تعلیم جاری رکھی، سیاست میں قدم رکھا اور انتہائی کم وقت میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئے۔

یہ وقت کی سپر پاور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی کہانی ہے۔

جے ڈی وینس 1984 میں امریکی ریاست اوہائیو کے صنعتی شہر مڈل ٹاؤن میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام جیمز ڈیوڈ بوومن تھا، تاہم بعد میں انہوں نے اپنے نانا نانی کے خاندانی نام ‘وینس’ کو اپنایا۔

انہوں نے 2003 میں گریجویشن کرنے کے بعد امریکی میرین کور میں شمولیت اختیار کی۔ دورانِ سروس انہیں عراق جنگ میں تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنی فوجی خدمات انجام دیں۔

فوجی ملازمت کے بعد انہوں نے اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے 2009 میں پولیٹیکل سائنس اور فلسفہ میں بیچلر ڈگری حاصل کی، اور 2013 میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔

ان کی یادداشتوں کا مجموعہ Hillbilly Elegy میں شائع ہوا، جو سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں شامل رہا۔ اس کتاب پر بعد میں فلم بھی بنائی گئی۔

41 سالہ وینس کا شمار امریکہ کی تاریخ کے کم عمر ترین نائب صدور میں ہوتا ہے۔

وہ ایک زمانے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے شدید ناقد سمجھے جاتے تھے۔ جے ڈی وینس 2023 میں سینیٹر منتخب ہوئے اور 2025 میں امریکی نائب صدر بنے۔

انہیں امریکہ کے اگلے صدر کے لیے ممکنہ طور پر ری پبلکن پارٹی کا امیدوار بھی سمجھا جاتا ہے۔

1963 میں جان ایف کینیڈی کے قتل کے بعد نائب صدارت کا عہدہ زیادہ نمایاں ہو گیا، جب نائب صدر لنڈن بی جانسن نے حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ایئر فورس ون میں صدارتی حلف اٹھایا۔ اس نوعیت کی عوامی اور عالمی سطح پر فوری منتقلی اقتدار کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

امریکی آئین کے مطابق، صدر کی وفات، استعفیٰ یا ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذوری کی صورت میں نائب صدر صدارت سنبھالتا ہے۔ اگر نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت صدر کو نااہل قرار دے تو بھی وہ عہدہ سنبھال سکتا ہے۔

آئین کے تحت نائب صدر سینیٹ کا صدر بھی ہوتا ہے اور ووٹ برابر ہونے کی صورت میں فیصلہ کن ووٹ دیتا ہے۔

آئینی پابندیوں کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ 2028 میں دوبارہ صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے، جس کے باعث ریپبلکن پارٹی میں نئے امیدواروں کی دوڑ متوقع ہے۔ تاہم نائب صدر ہونے کی وجہ سے وینس کو نمایاں برتری حاصل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدا میں وہ ٹرمپ کے ناقد تھے۔ 2016 میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کو ‘برداشت نہیں کر سکتے’ اور ممکنہ طور پر ہیلری کلنٹن کو ووٹ دینے پر غور کر سکتے ہیں۔

تاہم بعد میں ان کا مؤقف تبدیل ہوا اور 2022 میں وہ اوہائیو سے ریپبلکن سینیٹر منتخب ہوئے، جس کے بعد ان کا سیاسی سفر تیزی سے آگے بڑھا۔

اسی بارے میں: