بارود سے پہلے جھوٹ: ٹرمپ، نیتن یاہو اور دنیا کی خطرناک ‘انفارمیشن وار’

انفارمیشن وار

دنیا اس وقت صرف جنگ کے دھوئیں میں نہیں، بلکہ جھوٹ، خوف اور پروپیگنڈہ کے ایک ایسے طوفان میں گھری ہوئی ہے جہاں سچ کی پہچان ہی سب سے بڑی جنگ بن چکی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس وقت دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں گولیوں سے زیادہ خبریں مار کر رہی ہیں۔

دنیا کے نقشے پر آج بارود کے دھوئیں کے ساتھ ساتھ جھوٹ کے تاریک طوفان نے تمام حقائق کو چھپا کر بے معنی بنا دیا ہے۔ یہ محض بارود کی بو نہیں، بلکہ طاقت، سچ اور جھوٹ کے ایک ایسے ٹکراؤ کی علامت ہے جس میں واقعات، نقصانات، اقوام کے حقوق پر ڈاکے اور حقیقتیں سب دھندلا گئی ہیں۔

جنگ اب صرف میدانوں میں نہیں لڑی جا رہی، بلکہ ذہنوں، اسکرینوں اور احساسات میں بھی جاری ہے، جہاں ہر تصویر، ہر خبر اور ہر آواز اپنے اندر کوئی نہ کوئی حکمتِ عملی چھپائے ہوئے ہے۔ جہاں ہر ٹویٹ، ہر ویڈیو اور ہر تصویر ایک ہتھیار ہے، اور ہر جھوٹ ایک میزائل سے زیادہ خطرناک بن چکا ہے۔

ایسے دور میں، جہاں ایک ٹویٹ تیل کی قیمتوں کو ہلا کر رکھ دے اور اسٹاک ایکسچینج کو تباہ کر سکے، اور ایک ویڈیو قوموں کی رائے بدل دے، وہاں سچ کو پہچاننا مشکل ترین کام بن گیا ہے۔ بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کی بازی کو آگے بڑھاتے ہوئے دنیا کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ معلومات، پروپیگنڈہ اور ٹیکنالوجی سے لڑی جا رہی ہے، اور اس کے اثرات پوری انسانیت پر چھائے ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اب صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ‘عالمی طاقت کے توازن’ کی جنگ بن چکی ہے۔ امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جنگ نے امریکہ کو ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا ہے جہاں سے اس کا نکلنا محال ہے۔ یہ جنگ اب ‘خطے کی ایک وسیع جنگ’ بن گئی ہے۔

عرب ماہرین کے مطابق اسرائیل نے جدید ٹیکنالوجی اور سی آئی اے کی مدد سے ایک دہائی قبل ایران کے علاقائی جنگجو گروہوں کے نیٹ ورک کو تباہ کر دیا تھا اور ایران کی ایٹمی و فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کارروائی کی تھی، لیکن موجودہ جنگ میں یہ ثابت ہو گیا کہ ایران نے اپنے علاقائی مسلح گروہوں کو وقت کے ساتھ دوبارہ منظم کر لیا ہے، جو اب پھر سے اسرائیل کو کمزور کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین نے جھوٹی معلومات کو پروپیگنڈہ وار میں استعمال کر کے عالمی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ معاشی ماہرین تنقید کرتے ہیں کہ بڑی طاقتیں اپنی انا کی جنگ میں عالمی معیشت کو تباہ کر رہی ہیں، جس کا سب سے بڑا نقصان غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ہو رہا ہے۔

بڑے ممالک اس پروپیگنڈہ کے ہتھیار کو اپنی ذاتی انا اور کاروبار کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے دنیا کی جنگوں کے نقشے ہی بدل گئے ہیں اور ممالک کے درمیان بے اعتمادی کی وجہ سے نئے بلاک آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ اس جنگ میں جب صبح کوئی خبر وائرل ہوتی ہے تو شام تک اس کا رخ ہی کچھ اور ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی الجھن کا شکار ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی بوٹس اور فیک نیوز کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ایسی ‘پروپیگنڈہ وار’ کو بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، جس کے لیے نئے ضوابط کا نفاذ انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔

پروپیگنڈہ صرف جھوٹ نہیں، بلکہ ایک حکمتِ عملی ہے

پروپیگنڈہ ایک ایسا منظم مواصلاتی عمل ہے جس کے ذریعے ایک ریاست یا غیر ریاستی فریق دوسری ریاستوں کے عوام، حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کی رائے، جذبات اور رویے کو متاثر کرتا ہے تاکہ اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کر سکے۔ اس کے تین عالمی اصول ہیں۔

سب سے پہلے، قومی مفاد کے نام پر کوئی بھی ریاست خود کو ‘مظلوم’ ثابت کرنے کے لیے پروپیگنڈہ کا استعمال کرتی ہے۔

دوسرا، جب کوئی ملک دوسرے ملک پر چڑھائی کرتا ہے، تو وہ اسے ‘حملہ’ نہیں بلکہ ‘خصوصی فوجی آپریشن’ یا ‘امن کی بحالی’ قرار دیتا ہے۔

تیسرا، عالمی ماہر جوزف نائی کے نظریے کے مطابق، کامیاب ریاستیں صرف فوجی طاقت نہیں، بلکہ پروپیگنڈہ یعنی ‘سافٹ پاور’ کے ذریعے اپنی ثقافت، اقدار اور نظریے کو دوسرے ممالک میں مقبول بناتی ہیں تاکہ دوسرے ممالک ان کی حمایت کریں۔

پروپیگنڈہ کو نفسیاتی جنگ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پروپیگنڈہ اور پبلک ڈپلومیسی میں واضح فرق ہے۔ ڈپلومیسی شفاف ہوتی ہے جبکہ پروپیگنڈہ جھوٹے بیانات پر بھی مبنی ہو سکتا ہے، جیسے سرد جنگ کے دور میں ‘سرمایہ داری اور کمیونزم’ کی تشہیر کی گئی۔ اس وقت بوٹس اور فیک نیوز اس کی جدید شکل ہے، جسے امریکی صدر ٹرمپ باقاعدہ منظم طریقے سے استعمال کر کے دنیا کو حیران و پریشان کر رہے ہیں۔

پروپیگنڈہ انسانی تاریخ کا ایک قدیم اور موثر ہتھیار رہا ہے۔ نازی جرمنی کی پروپیگنڈہ مشینری اس کی عروج کی مثال ہے۔ تاریخ کا سب سے منظم اور خطرناک پروپیگنڈہ جوزف گوئبلز کا ہے، جو ہٹلر کا وزیرِ پروپیگنڈہ تھا۔ اس نے ریڈیو، فلموں، پوسٹروں اور اخبارات کو استعمال کر کے جرمن عوام کو یقین دلایا کہ وہ ایک ‘اعلیٰ نسل’ ہیں اور پوری دنیا ان کے خلاف سازش کر رہی ہے؛ یوں اس نے عوام کو جنگ کے لیے تیار کیا جس کے نتیجے میں لاکھوں یہودیوں کا قتل عام ہوا۔

سرد جنگ میں امریکہ اور روس نے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے اس کا بھرپور استعمال کیا۔ ہالی ووڈ فلموں اور ‘وائس آف امریکہ’ کے ذریعے ‘امریکی خواب’ کو بہترین نظام کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ سوویت یونین نے سوشلزم کو مزدوروں کے حقوق کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ آج کے دور میں چین ‘سافٹ پاور’ کا جدید طریقہ استعمال کر رہا ہے، لیکن یاد رہے کہ تاریخ میں جب بھی پروپیگنڈہ حقائق سے دور ہوا ہے، اس کے نتیجے میں قوموں کو بڑی اخلاقی اور سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بوٹس کیا ہیں اور کیسے کام کرتے ہیں؟

اگرچہ اس وقت بڑے پیمانے پر زمینی جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی، لیکن پروپیگنڈہ اور سائبر حملے جاری رہیں گے۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی بدحالی بڑھے گی۔ یہ جنگ دنیا کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر دے گی: ایک طرف امریکہ، یورپ اور اسرائیل، تو دوسری طرف چین، روس اور ایران کا اتحاد مضبوط ہوگا۔

آج کی جنگ میں سوشل میڈیا بوٹس اور مصنوعی ذہانت یعنی ‘اے آئی’ ایسے ہتھیار ہیں جو گولی سے زیادہ تیز اثر کرتے ہیں۔ بوٹس دراصل کمپیوٹر پروگرام ہیں جو سوشل میڈیا مثلاً ایکس، فیس بک، انسٹاگرام پر انسانوں کی طرح اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔ یہ ایک ہی وقت میں ہزاروں اکاؤنٹس سے ایک ہی پیغام یا ہیش ٹیگ شیئر کرتے ہیں۔ جب ہزاروں بوٹس کسی خاص موضوع پر پوسٹ کرتے ہیں، تو وہ ‘ٹرینڈ’ بن جاتا ہے۔ عام لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید پوری دنیا ایسا ہی سوچ رہی ہے۔

یہ بوٹس مخصوص لوگوں کی پوسٹس کو ری ٹویٹ اور لائیک کرتے ہیں جس سے ایک خاص نظریے کو تقویت ملتی ہے اور مخالف رائے کو دبا دیا جاتا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ میں اس جنگ کے حامی جھوٹی اور پرانی ویڈیوز دکھا کر خوف پھیلا رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے پاس ‘ڈیٹا اینالیٹکس’ کی برتری ہے، وہ بوٹس کے ذریعے ایران کو عالمی سطح پر ایک ‘دہشت گرد ریاست’ کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

دوسری طرف ایران نے عربی، فارسی اور دیگر زبانوں میں خود کو مظلوم پیش کر کے اسرائیل کے خلاف نفسیاتی جنگ میں برتری حاصل کر لی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگ ایران کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اب انسان سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو رہا ہے۔ یہ بوٹس صرف خبریں نہیں پھیلاتے بلکہ اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ جنگ صرف بارود کی نہیں بلکہ ‘انفارمیشن وار فیئر’ یا ہائبرڈ وار فیئر کی ایک بڑی مثال ہے۔ اس میں امریکہ اور اسرائیل کو برتری حاصل ہے۔ وہ سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون فوٹیج کے ذریعے دنیا کو دکھاتے ہیں کہ ان کا حملہ کتنا درست تھا۔ اسرائیل کے ‘آئرن ڈوم’ یا ‘ڈیوڈز سلنگ’ کو اس طرح دکھایا جاتا ہے جیسے ایران کے تمام میزائل ناکام ہو گئے ہوں، لیکن حقیقت میں نقصان اسرائیل کا بھی بہت ہو رہا ہے۔

ایران کے پاس اس سطح کا پروپیگنڈہ ہتھیار نہیں، لیکن وہ خود کو اسرائیل کے خلاف واحد ‘اسلامی عالمی طاقت’ کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس کی وجہ سے مسلم دنیا کے عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ ایکس، ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے ذریعے اسرائیلی شہروں میں خوف کا ماحول ہے، پھر بھی ذرائع ابلاغ مثلاً گوگل، فیس بک اور بڑے نیوز چینلز پر گرفت کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کو سبقت حاصل ہے۔

موجودہ جنگی صورتحال میں پہلے آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا، اب حوثی باغی میدان میں آ گئے ہیں جنہوں نے بحیرہ احمر میں حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور آئل ٹینکرز کی ‘وار رسک انشورنس’ میں تین سو سے چار سو فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ہوائی راستے بند ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائنز کے شیئرز گر رہے ہیں۔

دنیا ایک ایسے خطرناک راستے پر کھڑی ہے جہاں بارود سے زیادہ خطرناک ‘جھوٹ’ بن چکا ہے۔ اگر اس ‘انفارمیشن وار’ کو نہ روکا گیا، تو آئندہ جنگیں شاید ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں، بلکہ دماغوں، ڈیٹا اور ڈیجیٹل جھوٹ سے لڑی جائیں گی۔

اسی بارے میں: