روزمرہ عادات سے عمر کا اندازہ ممکن، اسٹینفورڈ تحقیق نے حیران کن سائنسی حقیقت آشکار کر دی

اسٹینفورڈ

امریکہ کی معروف جامعہ اسٹینفورڈ کی ایک نئی تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انسان کی روزمرہ کی عادات اور معمولات مستقبل میں اس کی عمر (lifespan) کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

بی بی سی سائنس فوکس میگزین کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صرف ایک دن کی سرگرمیوں کا تجزیہ بھی بڑھاپے کے عمل اور ممکنہ عمر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں سائنسدانوں نے افریقی فیروزی کِلی فِش (African turquoise killifish)  کی 81 مچھلیوں کو خصوصی کیمروں سے لیس ٹینکوں میں رکھا اور ان کی پوری زندگی، جو عموماً چار سے آٹھ ماہ پر مشتمل ہوتی ہے، کا مسلسل مشاہدہ کیا۔ اربوں ویڈیو فریمز کے تجزیے کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ روزمرہ کے رویوں کو کسی جاندار کی متوقع عمر سے جوڑا جا سکتا ہے۔

نیورو سائنسدان ڈاکٹر کلیئر بیڈبروک کا کہنا تھا کہ
‘اس تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ رویہ بڑھاپے کے عمل کو جانچنے کا ایک غیر مداخلتی (non-invasive) طریقہ ہے۔’

ان کے مطابق اگر ہم 24 گھنٹوں کے دوران سادہ چیزوں جیسے معمول کی سرگرمی اور نیند کو ٹریک کریں تو ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی شخص عمر کے کس مرحلے میں ہے اور اس کی متوقع عمر کیا ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ آج کل اسمارٹ واچز اور فٹنس ٹریکرز عام ہو چکے ہیں، اس لیے مستقبل میں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ان ڈیوائسز کے ذریعے کسی فرد کی زندگی کے سفر، یعنی جوانی سے بڑھاپے تک، عمر کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

تحقیق میں ایک حیران کن بات یہ بھی سامنے آئی کہ مچھلیوں کی زندگی کے ابتدائی درمیانی مرحلے (تقریباً 70 سے 100 دن) میں ہی یہ واضح ہونے لگا تھا کہ کون سی مچھلی زیادہ عرصہ زندہ رہے گی اور کون جلد مر جائے گی۔

تحقیق میں شریک نیورو سائنسدان اور جینیٹکس کے ماہر ڈاکٹر روی ناتھ نے کہا کہ
‘یہ بہت دلچسپ ہے کہ ہم نسبتاً کم عمر میں ہی کسی جاندار کے رویے کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ لمبی زندگی گزارے گا یا مختصر۔’

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے خاص طور پر نیند کے انداز میں فرق نوٹ کیا۔ جو مچھلیاں زیادہ عرصہ زندہ رہیں، وہ زیادہ تر رات کے وقت سوتی تھیں، جبکہ کم عمر والی مچھلیاں دن کے وقت زیادہ سونے لگتی تھیں۔

اسی طرح زیادہ متحرک مچھلیاں، جو دن کے وقت تیزی اور توانائی سے تیرتی تھیں، زیادہ عرصہ زندہ رہنے کا امکان رکھتی تھیں۔

رویے کے 100 مختلف انداز دریافت

محققین نے مچھلیوں کے رویے کے تقریباً 100 مختلف ‘مختصر حرکات’ کی نشاندہی کی، جو ان کے مجموعی طرزِ عمل کی بنیاد بنتی ہیں۔ ان میں سے کئی حرکات کو براہ راست عمر سے جوڑا گیا۔ جدید مشین لرننگ ماڈلز کی مدد سے سائنسدان صرف چند دنوں کے رویے کا ڈیٹا لے کر کسی مچھلی کی باقی زندگی کا کافی حد تک درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔

تحقیق میں ایک اور اہم انکشاف یہ ہوا کہ بڑھاپا ایک مسلسل عمل نہیں بلکہ مختلف مراحل میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کلیئر بیڈبروک کے مطابق
‘ہم نے پہلے سمجھا تھا کہ عمر بڑھنا ایک مسلسل عمل ہے، مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ طویل استحکام کے بعد اچانک تبدیلیاں آتی ہیں، جن میں جاندار تیزی سے اگلے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔’

یہ دریافت حالیہ انسانی تحقیق سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان بھی مختلف عمرانی مراحل سے گزرتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آئندہ تحقیق میں مچھلیوں کو زیادہ قدرتی ماحول میں رکھ کر ان کے سماجی رویوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا، تاکہ نتائج کو مزید بہتر اور حقیقت کے قریب بنایا جا سکے۔

یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مستقبل میں صرف ہماری روزمرہ کی عادات اور معلومات، جیسے نیند، حرکت اور سرگرمی، ہی ہماری متوقع عمر کے بارے میں حیران کن حد تک درست اندازہ فراہم کر سکتی ہیں، اور اس مقصد کے لیے اسمارٹ ڈیوائسز اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اسی بارے میں: