چولستان کے بے آب و گیاہ صحرا میں دور سے ایک عظیم دیوار ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ جیسے ریت کے سمندر میں کوئی دیو قامت سایہ کھڑا ہو۔ قریب جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض دیوار نہیں، بلکہ صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ایک خاموش گواہ ہے۔ یہ دراوڑ قلعہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قلعے کی بنیاد نویں صدی میں ایک ہندو راجپوت حکمران دیوراج نے رکھی تھی، اور ابتدا میں اسے دیو راول کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ نام بدل کر دراوڑ بن گیا۔ اس قلعے کی موجودہ شکل سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں عباسی حکمرانوں کے دور میں سامنے آئی، جب 1733 میں نواب صادق محمد خان اول نے اسے فتح کر کے ازسرنو تعمیر کروایا۔
دراوڑ قلعہ صرف ایک دفاعی عمارت نہیں تھا بلکہ ایک مکمل نظام تھا۔ اس کی چالیس بلند فصیلیں، جن کی اونچائی تقریباً تیس میٹر تک پہنچتی ہے، آج بھی صحرا میں ایک غیر معمولی منظر پیش کرتی ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک اہم تجارتی راستے پر واقع تھا، جہاں سے قدیم زمانے میں اونٹوں کے قافلے گزرتے تھے۔ اس لیے یہ قلعہ نہ صرف دشمنوں سے حفاظت بلکہ تجارت کی نگرانی کا مرکز بھی تھا۔
قلعے کے اندر کبھی محلات، رہائشی کمرے، پانی ذخیرہ کرنے کے حوض اور ایک مسجد موجود تھی۔ آج ان میں سے زیادہ تر حصے کھنڈر بن چکے ہیں، مگر ان کے آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں کبھی ایک مکمل زندگی آباد تھی۔ قلعے کے قریب عباسی خاندان کا شاہی قبرستان اور ایک خوبصورت مسجد آج بھی اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔
ایک اور کم معروف حقیقت یہ ہے کہ آج کا یہ خشک چولستان کبھی سرسبز تھا۔ یہاں ہاکڑو ندی بہتی تھی، جس کے کنارے بستیاں آباد تھیں۔ وقت کے ساتھ ندی خشک ہوئی اور یہ علاقہ صحرا میں تبدیل ہو گیا، مگر دراوڑ قلعہ اب بھی اسی زمین پر کھڑا ہے۔
موسموں کی سختی اور وقت کے اثرات نے اس قلعے کو نقصان ضرور پہنچایا، مگر حالیہ برسوں میں اس کی بحالی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ آج یہ قلعہ نہ صرف تاریخ دانوں بلکہ سیاحوں کے لیے بھی کشش کا مرکز ہے، خاص طور پر چولستان جیپ ریلی کے دوران، جب ویران صحرا زندگی سے بھر جاتا ہے۔
دراوڑ قلعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت صرف اینٹوں اور دیواروں میں نہیں، بلکہ ان کہانیوں میں ہوتی ہے جو صدیوں بعد بھی زندہ رہتی ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل
جہاں تاریخ صرف سنائی نہیں جاتی، زندہ کر دی جاتی ہے۔
