وکٹر جارا: گٹار کی لے میں بغاوت، گیتوں میں انقلاب اور ایک آواز جو آج بھی زندہ ہے

دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد، جب سرمایہ دار قوتوں نے اپنی نوآبادیات (Colonies) کو آزاد کرنا شروع کیا تو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک برطانیہ، فرانس، اسپین، پرتگال اور دیگر ممالک کے ظلم و جبر سے آزاد ہوئے۔ ان ممالک میں عوامی جمہوری اور سوشلسٹ تحریکوں نے جنم لیا، جنہوں نے آگے چل کر عوامی جدوجہد کے ذریعے لوگوں میں شعور بیدار کیا اور ان نوآبادیاتی نظام کے زیرِ اثر ممالک میں انقلاب کی کوششیں تیز ہونے لگیں۔

ان تحریکوں کی مدد کے لیے سوویت یونین کی صورت میں عوامی فلاح و بہبود کا ایک سوشلسٹ ماڈل موجود تھا، جس سے پسے ہوئے طبقات کی تحریکوں کو بہت حوصلہ ملا۔

جس وقت یہ تحریکیں چل رہی تھیں، سرمایہ دار قوتوں کو یہ فکر لاحق ہو گئی کہ اگر انہیں ختم نہ کیا گیا تو یہ آگے چل کر سرمایہ دارانہ نظام کا بستر گول کر دیں گی۔ چنانچہ انہوں نے ان عوامی جمہوری اور بالخصوص سوشلسٹ تحریکوں کو کچلنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کیے اور کئی ممالک میں عوامی جدوجہد کو مستحکم ہونے سے پہلے ہی ناکام بنانے کی کوششیں کیں۔ اپنے سرمائے اور نیٹ ورک کے بل بوتے پر وہ کئی جگہوں پر کامیاب بھی رہے۔

لاطینی امریکہ کا ملک چلی بھی انہی میں سے ایک تھا۔

1960 کی دہائی سے ہی امریکہ کی نظریں چلی کے معدنی وسائل پر جمی ہوئی تھیں۔ وہاں تانبے (Copper) اور لیتھیم (Lithium) کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن پر قبضہ کرنے کے لیے امریکہ نے بڑی کوششیں کیں اور وہاں کے ہر صدارتی انتخاب پر اثر انداز ہوتا رہا۔ چلی کی سرکاری زبان ہسپانوی (Spanish) ہے، جسے ‘چلیائی ہسپانوی’ کہا جاتا ہے اور وہاں کے 99.3 فیصد لوگ یہی زبان بولتے ہیں۔ چلی کو ‘شاعروں کا ملک’ بھی کہا جاتا ہے۔

وکٹر جارا 1932 میں چلی کے دارالحکومت ‘سنٹیاگو’ سے پچاس میل دور شمالی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ گاؤں ایک بڑے جاگیردار کی ملکیت تھا، جہاں وکٹر کے والدین ہاری (مزارع) تھے اور کئی کئی گھنٹے سخت مشقت کرتے تھے۔ جب ان کی ماں کام سے فارغ ہوتی تو وکٹر کو گٹار پر وطن کے لوک گیت سناتی تھی۔

بڑا ہو کر وکٹر جارا تھیٹر ڈائریکٹر، استاد، شاعر اور گلوکار بنا۔ وہ اپنی شاعری خود کمپوز کر کے گاتا تھا اور گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو سناتا تھا۔ لوگ اس کی آواز اور گیتوں کے دیوانے ہو جاتے تھے، کیونکہ اس کے گیتوں میں ان کے دکھ درد اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا ذکر ہوتا تھا۔

وہ ایک انقلابی تھا اور اس کا مقصد اپنے گیتوں کے ذریعے عوام کو متحرک کرنا تھا۔ اس کا تعلق چلی کی ‘پاپولر سوشلسٹ پارٹی’ سے تھا، جس کی قیادت اس وقت سلواڈور آلندے کر رہے تھے۔ امریکہ کی بھرپور مخالفت کے باوجود، 4 ستمبر 1970 کو آلندے صدارتی امیدوار کے طور پر الیکشن جیت گئے۔

اقتدار میں آتے ہی انہوں نے زرعی اصلاحات کیں، کارخانے قومی ملکیت میں لیے، تعلیم اور صحت کو عام کیا اور کئی ترقیاتی کام شروع کیے۔ نتیجے میں وہ قوتیں ان کی سخت مخالف ہو گئیں جن کے مفادات کو آلندے کی پالیسیوں سے نقصان پہنچا تھا۔ انہوں نے تین سال سخت محنت کی، جس سے عوام کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا ہوئی، اور اسی بات نے سرمایہ دار قوتوں کو مزید پریشان کر دیا۔

بالآخر آلندے کے خلاف سازش رچی گئی اور 11 ستمبر 1973 کو جنرل آگستو پنوشے نے ملک میں مارشل لاء لگا دیا۔ آتے ہی ہزاروں کی تعداد میں آلندے کے حامیوں، پارٹی کارکنوں، ڈاکٹروں، وکیلوں، استادوں، یونیورسٹی طلبہ اور مزدوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں سنٹیاگو کے دو بڑے اسٹیڈیمز میں قید کیا گیا۔ ایک اسٹیڈیم میں پانچ ہزار لوگوں کو بند کر کے ان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، جس میں کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان قیدیوں میں وکٹر جارا بھی شامل تھے۔

وکٹر جارا نے ہمت نہ ہاری۔ انہوں نے اپنا آخری گیت لکھ کر اپنے دوستوں کو یاد کرایا تاکہ وہ اسے ملک سے باہر بھیج کر دنیا کو بتا سکیں کہ ان پر کیا ظلم ہو رہا ہے۔ ان کے آخری گیت کے بول کچھ یوں ہیں:

ہم یہاں پانچ ہزار ہیں

اس شہر کے ایک چھوٹے سے حصے میں

ہم پانچ ہزار ہیں

نہ جانے دوسرے شہروں میں کتنے قید کیے گئے ہیں

کتنے انسان اس دیوانگی کی وجہ سے

بھوک، پیاس، سردی اور عذاب سے گزر رہے ہوں گے

اے خدا! کیا تو نے اسی لیے یہ دنیا تخلیق کی تھی؟

کیا تو نے سات دن اسی لیے محنت کی تھی؟

یہاں گانا کتنا کٹھن ہے، پر میں

اس خوف کے عالم میں بھی گاؤں گا

میں مرتے دم تک زندگی کے گیت گاؤں گا

میرے گیت چیخ چیخ کر خاموش ہو جائیں گے

میں نے وہ ظلم دیکھا ہے جو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا

جو میں نے محسوس کیا اور جو اب محسوس کر رہا ہوں

پر مجھے یقین ہے کہ ایک دن میرے گیت

ایک تحریک کو جنم دیں گے

وکٹر جارا نے یہ آخری گیت 16 ستمبر 1973 کو لکھا۔ اس کے بعد فوجی جنتا کے سپاہی انہیں تشدد کے لیے لے گئے۔ ایک افسر نے انہیں اتنی لاتیں ماریں کہ ان کے ہاتھوں اور کلائیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ پھر اس افسر نے نفرت آمیز طنز کے ساتھ انہیں گٹار دیتے ہوئے کہا: ‘جارا! اب گا کر دکھاؤ۔’

وکٹر جارا نے ٹوٹے ہوئے ہاتھوں سے گٹار اٹھایا اور اپنے گیت کی آخری سطر گنگنائی: ‘آخر فتح ہماری ہوگی!’

اس کے بعد ان پر 44 گولیاں برسا کر انہیں قتل کر دیا گیا۔ اس طرح دنیا کا یہ عظیم انقلابی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ ان کے گائے ہوئے گیت یوٹیوب پر موجود ہیں۔ میں نے ان جیسی خوبصورت آواز نہیں سنی، ان کے گیتوں میں درد، امید اور انقلاب کی خوشبو ہے۔

اس لازوال انسان کو سینکڑوں سلام، جس نے 41 سال کی عمر میں انسانیت کی عظمت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

اسی بارے میں: