نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات: دو دہائیوں کی ’سلطنت‘ کا سورج غروب، ایک نئے عہد کا آغاز

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سالانہ انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق افضل بٹ کے جرنلسٹ پینل کو شدید دھچکا لگا ہے۔ صدر اور سیکرٹری کی دونوں بڑی نشستوں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مخالف گروپ ڈیموکریٹس کے عبدالرزاق سیال صدر اور ڈاکٹر فرقان راؤ سیکرٹری منتخب ہو گئے۔

صدر کی نشست پر جرنلسٹ پینل کی امیدوار نیئر علی سخت مقابلے کے بعد بہت کم مارجن سے شکست سے دوچار ہوئیں۔ وہ گزشتہ برس کلب کی سیکرٹری منتخب ہوئی تھیں۔

نائب صدور کی چار نشستوں میں سے دو پر ڈیموکریٹس پینل کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ ڈیموکریٹس پینل کے عثمان خان اور بشیر چودھری کامیاب قرار پائے۔

جرنلسٹ پینل کے عابد عباسی فنانس سیکرٹری، احتشام الحق نائب صدر اور شیراز گردیزی سینئر جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ خواتین کی نشستوں پر جرنلسٹ پینل کی سحرش قریشی نائب صدر جبکہ شکیلہ جلیل جوائنٹ سیکرٹری کامیاب ہو گئیں۔
انتخابی نتائج کے مطابق ایگزیکٹو کی 11 نشستوں میں سے جرنلسٹ پینل نے سات نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ نئے اتحاد ڈیموکریٹ پینل نے چار نشستیں اپنے نام کیں۔ تاہم ان چار نشستوں میں سب سے نمایاں کامیابی صدر اور جنرل سیکرٹری کے عہدوں کی صورت میں ڈیموکریٹ پینل کے حصے میں آئی ہے۔

گورننگ باڈی کی 17 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی اتوار کو ہوگی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کی صحافتی سیاست میں اس وقت ایک ارتعاش کی کیفیت ہے۔ نیشنل پریس کلب (NPC) کے حالیہ سالانہ انتخابات کے نتائج نے نہ صرف مقامی صحافتی حلقوں بلکہ ملکی سطح پر سیاسی و سماجی ایوانوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔

لگ بھگ 20 سالوں سے پریس کلب کے سیاہ و سفید کا مالک رہنے والا ’جرنلسٹ پینل‘ اپنی طویل حکمرانی کے بعد اہم ترین نشستوں پر شکست سے دوچار ہو چکا ہے۔ یہ محض ایک انتخابی ہار نہیں بلکہ ایک ایسی اجارہ داری کا خاتمہ ہے جو 2006 سے ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھی۔

تاریخی پس منظر: میلوڈی کے ایک کمرے سے ایف سکس کے محل تک

نیشنل پریس کلب کی تاریخ میں افضل بٹ کا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرا جس نے صحافتی سیاست کا رخ موڑ دیا۔ آج سے 20 سال قبل، جب پریس کلب جی سکس (میلوڈی مارکیٹ) کے ایک تنگ سے کمرے میں قائم تھا، افضل بٹ نے ایک نیوز ایجنسی سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد ’جرنلسٹ پینل‘ کی بنیاد رکھی۔ اس سے قبل ایک دہائی تک حاجی احمد رضا گروپ کا طوطی بولتا تھا، لیکن افضل بٹ کی متحرک قیادت اور حکمت عملی نے جلد ہی پرانے برج الٹ دیے۔

اس گروپ کی سب سے بڑی کامیابی اسلام آباد کے پوش ترین علاقے ایف سکس (F-6) میں اربوں روپے مالیت کا سرکاری پلاٹ حاصل کرنا تھا، جہاں آج پریس کلب کی شاندار عمارت موجود ہے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) سے یہ پلاٹ حاصل کرنا اس گروپ کی طاقت اور اثر و رسوخ کا پہلا بڑا ثبوت تھا، جس کے بعد ’جرنلسٹ پینل‘ ایک ناقابلِ شکست قوت بن گیا۔

رہائشی پلاٹس کی سیاست اور صحافیوں کی معاشی خوشحالی

جرنلسٹ پینل کی جڑیں اس وقت مزید گہری ہوئیں جب سابق صدر پرویز مشرف اور مسلم لیگ (ق) کے دورِ حکومت میں اس گروپ نے صحافیوں کے لیے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی خصوصی دلچسپی اور پنجاب حکومت کے تعاون سے صحافیوں کو قیمتی پلاٹس فراہم کیے گئے۔

یہ ایک ایسا انقلابی قدم تھا جس نے کم آمدنی والے صحافیوں کو راتوں رات کروڑوں روپے کی جائیداد کا مالک بنا دیا۔ اس معاشی فائدے نے صحافتی برادری کی اکثریت کو جرنلسٹ پینل کا گرویدہ بنا دیا اور یوں جیت کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو دو دہائیوں تک محیط رہا۔

تحریکِ آزادیِ صحافت اور ‘ناقابلِ تسخیر’ پینل

افضل بٹ کی قیادت میں اس گروپ نے صرف ’مراعات‘ کی سیاست نہیں کی بلکہ صحافتی حقوق کے لیے عملی جدوجہد میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ پرویز مشرف کے دور میں میڈیا پر پابندیوں اور ٹی وی چینلز کی بندش کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اس پینل نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

افضل بٹ پہلے خود عہدیدار رہے اور بعد ازاں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) اور پھر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) جیسے بڑے فورمز پر اپنی قیادت ثابت کی۔ ان کی اس ’مزاحمتی ساکھ‘ نے پینل کو اخلاقی طور پر بھی مضبوط کیے رکھا۔

اپوزیشن کا ارتقا: اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے اتحاد تک

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جرنلسٹ پینل کے اندر سے ہی اختلاف کی صدائیں اٹھنا شروع ہوئیں۔ کرائم رپورٹر شکیل قرار نے ’آزاد پینل‘ تشکیل دیا، جبکہ سابق صدر فاروق فیصل خان نے الگ دھڑا بنایا۔ اسی طرح مطیع اللہ جان نے ’جاگو گروپ‘ کے نام سے ایک متبادل پیش کرنے کی کوشش کی۔

اگرچہ ماضی میں شکیل قرار اور نوشین یوسف جیسے امیدواروں نے انفرادی طور پر چند نشستیں جیتیں، لیکن وہ جرنلسٹ پینل کی مجموعی اکثریت کو چیلنج کرنے میں ناکام رہے۔

تاہم حالیہ انتخابات میں منظرنامہ اس وقت بدلا جب تمام اپوزیشن گروپس نے اپنی انا پسِ پشت ڈال کر ’ڈیموکریٹ پینل‘ کے نام سے ایک گرینڈ الائنس تشکیل دیا۔ اس متحدہ محاذ نے وہ کر دکھایا جو گزشتہ 20 سالوں میں ناممکن نظر آتا تھا۔

بڑا اپ سیٹ: شکست کے محرکات کیا رہے؟

ڈیموکریٹ پینل نے صدر، جنرل سیکرٹری اور دو نائب صدور جیسی کلیدی نشستیں جیت کر جرنلسٹ پینل کے قلعے میں شگاف ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کار اس شکست کی چند اہم وجوہات بیان کرتے ہیں:

ناقابلِ واپسی پالیسی: افضل بٹ کے بارے میں یہ تاثر عام ہوا کہ وہ معمولی اختلافات پر الگ ہونے والے ساتھیوں کے لیے واپسی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔

فیصلوں میں مشاورت کا فقدان: گروپ میں ایک ہی شخصیت کے فیصلوں پر انحصار نے پرانے کارکنوں میں بیزاری پیدا کی۔

اندرونی بے وفائی: کہا جا رہا ہے کہ جرنلسٹ پینل کے اپنے ہی کچھ لوگوں نے ’خاموش ووٹ‘ کے ذریعے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔

انتخابات میں جہاں پانچ مختلف گروپوں کا اتحاد جرنلسٹ پینل کی شکست کا سبب بنا، وہیں اپنی صفوں میں موجود کچھ چھپے ہوئے کردار بھی اپنا کام کر گئے۔ شہرِ اقتدار کی صحافتی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ افضل بٹ کے ہی کسی ‘مہربان ساتھی’ نے اپنے ہی گروپ کے کچھ ووٹ تڑوا کر مخالفین کو دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وہ جو کوئی بھی ہے، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ وہ صحافتی حلقوں کے سیاسی جذبات کی نبض پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا؛ اسے پتا تھا کہ دو ہزار کے قریب ووٹوں میں سے صرف بیس سے پچیس ووٹ ادھر سے ادھر کرنے پر ‘لنکا ڈھائی’ جا سکتی ہے، اور اس نے یہ کمال کر دکھایا۔

جرنلسٹ پینل کے کرتا دھرتاؤں نے اب اپنی صفوں میں موجود اس ‘خاص مہربان’ کی تلاش شروع کر دی ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ جیسے ہی اس کی شناخت ہوئی، اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں ایک نئے الگ دھڑے کے قیام کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

نئی نسل کے مطالبات: نوجوان صحافیوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ پینل کی قیادت اب صرف مخصوص چہروں تک محدود ہو چکی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جیتنے والے اکثر امیدوار کسی نہ کسی دور میں افضل بٹ کے شاگرد یا ان کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔

نتائج پر بحث اور جمہوری رویہ

انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر پر سوشل میڈیا اور ’ایکس‘ (ٹوئٹر) پر کافی گرم بحث ہوئی اور یہ موضوع ٹرینڈ بھی بن گیا۔

سوشل میڈیا پر نیشنل پریس کلب کے انتخابات پر دلچسپ تبصرے پڑھنے کو ملے۔ جیسے کسی نے لکھا: ’اور این پی سی کا آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا‘۔ ایک صارف نے لکھا: ’وہ جو عام انتخابات میں کرید کرید کر نتائج سب سے پہلے لاتے ہیں، اپنے ہی گھر کے دو ہزار ووٹ چوبیس گھنٹوں میں نہیں گن سکے‘۔

طرح طرح کے الزامات بھی سامنے آئے، لیکن اس پوری صورتحال کا سب سے متاثر کن پہلو جرنلسٹ پینل کی قیادت کا ردِعمل تھا۔ بیس سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود افضل بٹ اور ان کے ساتھیوں نے نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کیا۔ انہوں نے نہ صرف ہار مانی بلکہ کامیاب امیدواروں کو گلے لگایا اور مبارکباد پیش کی۔ یہ عمل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک روشن مثال ہے جو جمہوری اقدار کی پاسداری کو ظاہر کرتا ہے۔

آگے کا راستہ: چیلنجز اور توقعات

اب جبکہ اقتدار کی تبدیلی ہو چکی ہے، نئے آنے والے عہدیداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی ’متحدہ اپوزیشن‘ کی شناخت برقرار رکھنا اور جرنلسٹ پینل جیسے تجربہ کار حریف کے ساتھ مل کر صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا ہے۔ کیا یہ نیا اتحاد صحافیوں کو درپیش معاشی بحران، بے روزگاری اور سیکیورٹی کے مسائل حل کر پائے گا؟ یا پھر اقتدار کی ہوس انہیں بھی اسی راستے پر لے جائے گی جس کے خلاف انہوں نے مہم چلائی تھی؟

نیشنل پریس کلب کا یہ انتخاب ایک سبق ہے کہ جمہوریت میں کوئی بھی طاقت مستقل نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی عہدوں میں نہیں بلکہ ان فیصلوں میں ہے جو عام کارکن کی زندگی میں بہتری لا سکیں۔

اسی بارے میں: