اگر کوئی شہر کو گلے لگانا چاہے تو وہ منظر کیسا ہوگا؟ شاید ایسا ہی، جیسے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کے اوپر ایک پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا یہ عظیم مجسمہ اپنے بازو پھیلائے پوری بستی کو اپنی آغوش میں لینے کی کوشش کر رہا ہو۔
یہ ہے کرائسٹ دی ریڈیمر دنیا کے سب سے مشہور مجسموں میں سے ایک۔ ریو ڈی جنیرو میں کورکووادو پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا یہ مجسمہ نہ صرف ایک مذہبی علامت ہے بلکہ ایک پورے ملک کی شناخت بھی بن چکا ہے۔
اس مجسمے کی تعمیر 1931 میں مکمل ہوئی۔ تقریباً 98 فٹ بلند یہ مجسمہ جب اپنے بازو پھیلاتا ہے تو ان کا پھیلاؤ تقریباً 92 فٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ نیچے سے دیکھنے والا ہر شخص یوں محسوس کرتا ہے جیسے یہ مجسمہ پورے شہر کو اپنی بانہوں میں لیے کھڑا ہو۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ اس عظیم مجسمے کا بیرونی حصہ ری انفورسڈ کنکریٹ اور سوپ اسٹون کے ہزاروں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے تیار کیا گیا ہے۔ ان ٹکڑوں کو ایک ایک کر کے ہاتھ سے لگایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مجسمہ نہ صرف مضبوط ہے بلکہ اس کی سطح پر ایک منفرد چمک بھی نظر آتی ہے۔
کورکووادو پہاڑ کی بلندی پر ہونے کی وجہ سے یہ مجسمہ اکثر آسمانی بجلی کا نشانہ بھی بنتا ہے۔ کئی بار اس کی انگلیاں متاثر ہوئیں، مگر ہر بار اسے بحال کیا گیا۔ جیسے کسی علامت کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہو، کیونکہ یہ صرف ایک مجسمہ نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔
آج کرائسٹ دی ریڈیمر برازیل کے لیے اتحاد، امید اور شناخت کی علامت بن چکا ہے۔ جب سورج غروب ہونے لگتا ہے اور شہر کی روشنیوں کے اوپر یہ خاموشی سے کھڑا رہتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے بازو اب بھی پورے شہر کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں۔
وقت گزرتا رہا۔ طوفان آتے رہے۔ مگر یہ مجسمہ اپنی جگہ قائم رہا۔
یہ تھا کرائسٹ دی ریڈیمر۔ پتھر میں ڈھلی ایک امید۔
یہ ہے ساگا ڈیجیٹل، جہاں عجوبے صرف عمارتیں نہیں، انسان کی سوچ اور تخلیق کا ثبوت بھی ہوتے ہیں۔
