[rank_math_breadcrumb]

اے آئی سے کئی کام آسان مگر کیا اے آئی جھوٹ کو سچ بنا سکتی ہے؟

اگر کوئی شخص ابھی ایک بلاگ لکھے اور اس میں یہ دعویٰ کر دے کہ وہ دنیا کا بہترین ہاٹ ڈاگ کھانے والا ٹیک رپورٹر ہے، تو شاید اس کا کوئی خاص اثر نہ ہو۔ ایک بلاگ، ایک عجیب دعویٰ، اور انٹرنیٹ کے وسیع سمندر میں گم ہو جانے والی ایک اور پوسٹ۔

لیکن تصور کریں کہ یہی دعویٰ چند منٹ بعد کسی اے آئی چیٹ بوٹ کے جواب میں بطور حقیقت سامنے آنا شروع ہو جائے۔ تب معاملہ محض مذاق نہیں رہتا، بلکہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔

حال ہی میں ایک صحافی نے اسی خیال پر ایک تجربہ کیا۔ اس نے جان بوجھ کر ایک جعلی بلاگ پوسٹ شائع کی۔ اس پوسٹ میں ایک ایسا دعویٰ لکھا گیا جو کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ مقصد صرف یہ دیکھنا تھا کہ انٹرنیٹ پر موجود غلط معلومات کس طرح آگے پھیل سکتی ہیں۔

چند ہی دیر بعد مختلف اے آئی پلیٹ فارمز نے اسی دعوے کو اپنے جوابات میں شامل کرنا شروع کر دیا۔ چیٹ بوٹس نے اس معلومات کو بغیر کسی تصدیق کے دہرا دیا، گویا وہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہو۔

یہ مسئلہ صرف ایک دلچسپ تجربے تک محدود نہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسے “ہالوسینیشن” کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسا وقت جب مصنوعی ذہانت پورے اعتماد کے ساتھ ایک غلط بات بیان کر دیتی ہے۔

مصنوعی ذہانت دراصل سچ اور جھوٹ کو انسانی انداز میں نہیں سمجھتی۔ وہ پیٹرنز یعنی معلومات کے انداز اور تکرار کو پہچانتی ہے۔ اگر کوئی دعویٰ انٹرنیٹ پر موجود ہو اور بار بار دہرایا جائے تو اے آئی کے لیے وہ ایک ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ بڑے لینگویج ماڈلز ہر سوال کے جواب کے وقت پورا انٹرنیٹ نہیں کھنگالتے۔ وہ اپنی تربیت کے دوران سیکھی ہوئی معلومات اور ممکنہ اندازوں کی بنیاد پر جواب دیتے ہیں۔ اگر تربیت کے دوران موجود ڈیٹا میں کمزور یا جعلی مواد شامل ہو تو نتیجہ بھی مشکوک ہو سکتا ہے۔

اب اس مسئلے کو ایک سنجیدہ زاویے سے دیکھیں۔ اگر یہی خامی صحت کے معاملات میں سامنے آئے تو کیا ہوگا۔ اگر کوئی جعلی طبی مشورہ اے آئی کے ذریعے پھیل جائے، یا مالیاتی شعبے میں غلط سرمایہ کاری کی معلومات حقیقت سمجھ لی جائیں تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق نے ایک اور دلچسپ پہلو بھی ظاہر کیا۔ جب سرچ انجن میں اے آئی کی طرف سے تیار کیا گیا خلاصہ سب سے اوپر نظر آتا ہے تو زیادہ تر صارفین نیچے موجود اصل ویب سائٹس کے لنکس پر کلک ہی نہیں کرتے۔ وہ اوپر دیے گئے خلاصے کو ہی کافی سمجھ لیتے ہیں۔

یہی اندھا اعتماد اصل خطرہ بن سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص ایک جعلی بلاگ بنا سکتا ہے، اپنی پروڈکٹ کو دنیا کی بہترین قرار دے سکتا ہے، اور اگر وہ مواد سرچ انجن میں شامل ہو جائے تو ممکن ہے کہ اے آئی اسے بطور حوالہ استعمال کرنے لگے۔

یعنی معلومات کی اس نئی جنگ میں صرف سچ بولنا کافی نہیں۔ سچ کو نمایاں کرنا بھی ضروری ہے۔

ایک اور کم معروف مسئلہ “کنفیڈنس بائس” کہلاتا ہے۔ اس میں اے آئی ماڈلز اپنے جواب اس انداز میں دیتے ہیں جیسے انہیں مکمل یقین ہو، چاہے معلومات ادھوری یا غلط ہی کیوں نہ ہو۔ انسان عام طور پر پراعتماد لہجے کو سچ سمجھ لیتا ہے۔

مصنوعی ذہانت بلاشبہ ہماری زندگی آسان بنا رہی ہے۔ تحقیق، تحریر، تعلیم اور روزمرہ کے کاموں میں یہ ایک طاقتور ٹول بن چکی ہے۔ لیکن یہ ناقابلِ خطا نہیں۔

اس کی بنیاد ڈیٹا ہے۔اور ڈیٹا ہمیشہ خالص نہیں ہوتا۔اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی خطرناک ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس پر کتنا اندھا اعتماد کر رہے ہیں۔

کیونکہ ہر جواب کو آخری سچ سمجھ لینا ہی شاید سب سے بڑا خطرہ ہے۔

یہ ہے ساگا ڈیجیٹل، جہاں ہم ٹیکنالوجی کی چمک دکھاتے بھی ہیں، اور اس کے سائے بھی۔

اسی بارے میں: