وادی سندھ کے وسیع میدان، نیم صحرائی جھاڑیاں اور دریائے سندھ کے کنارے پھیلے ہوئے گھاس کے میدان صرف تاریخی تہذیبوں کے ہی نہیں بلکہ کئی منفرد جانداروں کے بھی مسکن رہے ہیں۔ انہی میں ایک چھوٹا مگر دلچسپ پرندہ بھی شامل ہے جسے سندھ چڑیا یا Sind Sparrow کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ عام چڑیا جیسی دکھائی دیتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک الگ نوع ہے جو خاص طور پر سندھ کے ماحول اور جغرافیے سے جڑی ہوئی ہے۔
دنیا کے بیشتر شہروں اور دیہاتوں میں پائی جانے والی عام چڑیا کو گھریلو چڑیا یا ہاؤس اسپیرو (House Sparrow) کہا جاتا ہے۔ یہ پرندہ انسانی آبادی کے قریب رہنے کا عادی ہے اور گھروں کی چھتوں، دیواروں کے سوراخوں اور بازاروں کے اطراف آسانی سے نظر آجاتا ہے۔ لیکن سندھ میں پائی جانے والی چڑیا کو پرندوں کے ماہرین نے ایک الگ نوع کے طور پر شناخت کیا ہے، کیونکہ اس کی ساخت، رنگت اور رہائش کا انداز عام گھریلو چڑیا سے کچھ مختلف ہے۔
جسمانی طور پر سندھ چڑیا اور عام گھریلو چڑیا میں کئی مماثلتیں بھی ہیں، کیونکہ دونوں کا تعلق ایک ہی خاندان Passeridae سے ہے۔ عام گھریلو چڑیا عموماً قدرے موٹی اور گول جسم والی ہوتی ہے۔ اس کا سر نسبتاً بڑا اور چونچ مضبوط ہوتی ہے۔ نر ہاؤس اسپیرو کے گلے پر سیاہ دھبہ نمایاں ہوتا ہے اور سر پر سرمئی رنگ دکھائی دیتا ہے، جبکہ جسم بھورے اور سرمئی رنگوں کے امتزاج سے بنا ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں سندھ اسپیرو کی جسامت نسبتاً پتلی اور قدرے لمبی ہوتی ہے۔ اس کا جسم ہلکا اور رنگ زیادہ تر ریت جیسا یا مٹیالا بھورا ہوتا ہے۔ یہی رنگ اسے صحرائی اور نیم صحرائی ماحول میں چھپنے میں مدد دیتا ہے۔ نر سندھ اسپیرو کے سر کے پیچھے اور آنکھ کے پاس بھورا مائل یا سرخی مائل دھبہ پایا جاتا ہے جو اسے دوسری چڑیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ مادہ کا رنگ نسبتاً ہلکا بھورا اور سادہ ہوتا ہے۔ اس کی چونچ مخروطی اور مضبوط ہوتی ہے، جو بیج، دانے اور چھوٹے کیڑوں کو آسانی سے توڑنے کے لیے موزوں ہے۔
دونوں چڑیوں کے درمیان سب سے بڑا فرق ان کے مسکن میں دیکھا جاتا ہے۔ ہاؤس اسپیرو عموماً انسانی آبادی کے قریب رہنا پسند کرتی ہے اور شہروں میں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس سندھ اسپیرو زیادہ تر کھلے میدانوں، جھاڑیوں، ببول اور تمر کے درختوں، گھاس کے میدانوں اور دریائے سندھ کے کنارے موجود خشک یا نیم صحرائی علاقوں میں دیکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پرندہ شہری ماحول کے بجائے قدرتی اور نسبتاً غیر آباد علاقوں سے وابستہ رہتا ہے۔
پرندوں کے ماہرین کے مطابق سندھ چڑیا بنیادی طور پر وادی سندھ کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے۔ اس کی موجودگی زیادہ تر جنوبی پاکستان، خاص طور پر سندھ اور جنوبی پنجاب کے کچھ علاقوں میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسے سائنسی طور پر Passer pyrrhonotus کہا جاتا ہے اور انیسویں صدی میں برطانوی ماہرِ حیوانیات ایڈورڈ بلیتھ نے پہلی بار اس کی سائنسی درجہ بندی کی تھی۔
ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ سندھ چڑیا اکثر چھوٹے جھنڈوں میں رہتی ہے اور گھاس یا جھاڑیوں کے اندر گھونسلا بناتی ہے۔ یہ گھونسلا عام طور پر خشک گھاس، باریک تنکوں اور نرم پودوں کے ریشوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ مادہ عموماً تین سے پانچ انڈے دیتی ہے اور دونوں والدین مل کر بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ گھریلو چڑیا دنیا کے کئی حصوں میں کم ہوتی جا رہی ہے، مگر سندھ چڑیا ابھی تک نسبتاً کم تحقیق شدہ پرندہ ہے۔ اس پرندے کی آبادی، عادات اور نقل مکانی کے بارے میں سائنسی معلومات محدود ہیں۔ ماہرین کے مطابق وادی سندھ کے قدرتی مسکن، خصوصاً جھاڑیوں اور دریا کے کناروں پر پائی جانے والی نباتات، اس پرندے کی بقا کے لیے نہایت اہم ہیں۔
سندھ کی سرزمین ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کی گواہ رہی ہے، مگر اس مٹی میں بسنے والی چھوٹی چھوٹی مخلوقات بھی اتنی ہی دلچسپ کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ سندھ چڑیا ان ہی خاموش کہانیوں میں سے ایک ہے، ایک ایسا پرندہ جو بظاہر عام نظر آتا ہے لیکن دراصل وادی سندھ کے قدرتی ورثے کی ایک منفرد علامت ہے۔
