[rank_math_breadcrumb]

عجائبات ساگا: میکسیکو کا حیرت کدہ چچن اِتزا جو وقت ناپنے کے لیے تعمیر کیا گیا

میکسیکو کے یوکاتان جزیرہ نما کی سبز زمین پر ایک ایسا شہر آباد تھا جو صرف پتھروں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ وقت کی پیمائش کا ایک زندہ نظام تھا۔ اس شہر کا نام چچن اِتزا ہے، مایا تہذیب کا وہ عظیم مرکز جہاں علم، عقیدہ اور فلکیات ایک دوسرے میں یوں گندھے ہوئے تھے جیسے آسمان زمین سے ہم آغوش ہو۔

اس شہر کے قلب میں ایستادہ ہے ال کاستیلو، جسے ٹیمپل آف کوکولکان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک ہرم نہیں بلکہ ایک کیلنڈر ہے، ایک فلکیاتی بیان، ایک ریاضیاتی نظم۔ اس کے چاروں اطراف 91 سیڑھیاں ہیں۔ چار سمتیں، چار زاویے۔ جب ان سیڑھیوں کو جمع کیا جائے اور اوپر موجود پلیٹ فارم کو شامل کیا جائے تو تعداد 365 بنتی ہے، سال کے مکمل دنوں کے برابر۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کو پتھر میں تراش دیا گیا ہو۔

لیکن حیرت کی انتہا تب ہوتی ہے جب بہار اور خزاں کے مساوی دنوں پر سورج کی روشنی ہرم کی سیڑھیوں کے کناروں پر مخصوص زاویہ بناتی ہے۔ روشنی اور سایہ مل کر ایک سانپ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو آہستہ آہستہ نیچے اترتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ منظر محض بصری اتفاق نہیں بلکہ صدیوں کے مشاہدے، حساب اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ کوکولکان، پروں والا سانپ، مایا عقیدے کی مقدس علامت، اس دن جیسے آسمان سے زمین پر اتر آتا ہے۔

چچن اِتزا صرف ایک ہرم تک محدود نہیں تھا۔ یہ ایک منظم شہری ریاست تھی۔ یہاں رصدگاہیں موجود تھیں جہاں سے ستاروں اور سیاروں کی حرکات کا مشاہدہ کیا جاتا تھا۔ ال کاراکول نامی عمارت کو ماہرین ایک قدیم رصدگاہ قرار دیتے ہیں، جہاں سے زہرہ سمیت مختلف اجرام فلکی کی گردش پر نظر رکھی جاتی تھی۔ اس شہر میں عظیم کھیل کا میدان بھی تھا، جو مذہبی اور سماجی اہمیت کا حامل تھا۔ ستونوں سے مزین عبادت گاہیں، وسیع چوک، اور منصوبہ بند تعمیرات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ معاشرہ سائنسی نظم اور اجتماعی تنظیم سے آشنا تھا۔

مایا تہذیب کے ماہرین فلکیات نے ایسے کیلنڈر ترتیب دیے جو حیران کن حد تک درست تھے۔ وہ موسموں کی آمد و رفت، سورج گرہن اور سیاروں کی گردش کا حساب رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک وقت سیدھی لکیر نہیں بلکہ ایک مقدس چکر تھا، جو مسلسل گردش میں رہتا ہے۔

جب دنیا کے کئی حصوں میں تہذیبیں ابھی اپنی ابتدائی ساخت میں تھیں، اس وقت چچن اِتزا کے باشندے آسمان کو پڑھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سورج کب بدلے گا، سایہ کب جھکے گا، اور سال کب مکمل ہوگا۔ انہوں نے وقت کو محسوس ہی نہیں کیا، اسے ناپا، سمجھا اور پتھر میں محفوظ کر دیا۔

آج یہ شہر کھنڈر ہے، مگر خاموش نہیں۔ اس کی سیڑھیاں اب بھی سورج کی روشنی سے بات کرتی ہیں۔ اس کے سائے اب بھی صدیوں پرانے راز دہراتے ہیں۔ چچن اِتزا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ ہرم کی شکل میں کھڑا ہوتا ہے، اور صدیوں بعد بھی اعلان کرتا ہے کہ انسان نے آسمان کو سمجھنے کی کوشش کبھی نہیں چھوڑی۔

 

اسی بارے میں: