عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف نافذ، سپریم کورٹ کے جھٹکے کے بعد ٹرمپ متحرک، عالمی ٹیرف کے نفاذ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمع کی رات ایک اہم اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف (محصول) عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے۔ انہوں نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر کیا اور کہا کہ انہیں اوول آفس سے اس فیصلے پر دستخط کرنے پر فخر ہے۔ صدر کے مطابق یہ اقدام تقریباً فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ نیا ٹیرف 24 فروری کو امریکی وقت کے مطابق رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہو جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ محصولات امریکی تجارتی قانون کی شق 122 کے تحت لگائے جا رہے ہیں، جس کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر محدود مدت کے لیے ٹیرف نافذ کر سکتے ہیں۔ تاہم قانون کے تحت یہ اقدام زیادہ سے زیادہ 150 دن تک برقرار رہ سکتا ہے، جب تک کانگریس اس میں توسیع نہ کرے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کے تحت لگائے گئے وسیع پیمانے کے ٹیرف کو مسترد کر دیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے نئی تجارتی حکمت عملی اپنانے کا اعلان کیا۔

فیصلے کے بعد ہنگامی پریس بریفنگ

اس سے پہلے جمع کے روز وائٹ ہاؤس میں اچانک بلائی گئی تقریباً 45 منٹ کی پریس بریفنگ میں صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے بعض ججوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے کچھ ارکان سے ‘شرمندہ’ ہیں کیونکہ انہوں نے ملک کے مفاد میں درست فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ان کے اقدامات کو غلط طور پر مسترد کیا، اس لیے اب متبادل قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف عدالت کے فیصلے پر ناراضی ظاہر کی، تو دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ اس صورتحال سے مزید مضبوط ہو کر نکلے گا۔ تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ فیصلے سے ‘گہری مایوسی’ کا شکار ہیں۔

وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق نیا 10 فیصد عالمی ٹیرف دراصل ایک عبوری قدم ہے، جس کا مقصد انتظامیہ کو وقت دینا ہے تاکہ وہ اپنی تجارتی پالیسی کو دوبارہ ترتیب دے سکے۔ ٹرمپ نے کہا کہ نیا طریقہ کار پہلے سے کچھ زیادہ پیچیدہ ضرور ہے اور اس میں وقت لگے گا، لیکن آخرکار اس سے امریکہ کو زیادہ آمدنی حاصل ہوگی۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ گورنرز کے ساتھ ناشتے کی ایک ملاقات میں تھے جب انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی اطلاع ملی۔ انہوں نے تقریب جلد ختم کر دی۔ چند گھنٹوں بعد انہوں نے عوام سے خطاب کا فیصلہ کیا اور ایک ماہ بعد پہلی بار وائٹ ہاؤس بریفنگ روم میں میڈیا سے گفتگو کی۔

ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ٹرمپ کی معاشی اور خارجہ پالیسی کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صدر نے اپنے دور حکومت میں ہنگامی تجارتی اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عالمی سپلائی چین اور بین الاقوامی تعلقات پر نمایاں اثر ڈالا تھا۔ اب یہ واضح نہیں کہ امریکہ کی تجارتی پالیسی کس سمت جائے گی۔

ڈالرز کی واپسی کیسے؟

ایک اہم مسئلہ ان اربوں ڈالرز کی واپسی کا بھی ہے جو امریکی کمپنیوں سے ٹیرف کی صورت میں وصول کیے گئے تھے۔ عدالت نے اس بارے میں کوئی واضح ہدایت نہیں دی کہ یہ رقم کیسے واپس کی جائے گی۔ متعدد کمپنیاں اب قانونی کارروائی کے ذریعے اپنی رقوم واپس لینے کی تیاری کر رہی ہیں، جس سے معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ ممکنہ طور پر کئی سال تک عدالتوں میں زیر سماعت رہ سکتا ہے۔ انہوں نے پہلے تجویز دی تھی کہ اس رقم کو امریکی شہریوں کو دو ہزار ڈالر کے “ٹیرف ڈیویڈنڈ” کی صورت میں دیا جا سکتا ہے، مگر اب اس منصوبے پر غیر یقینی برقرار ہے۔

معاشی ماہر مائیکل اسٹرین کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ صدر کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ اس سے ان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہتھیار کمزور ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ انتظامیہ نے تجارتی پالیسی میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

صدر ٹرمپ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ٹیرف کی وجہ سے امریکہ میں سرمایہ کاری بڑھی اور ملکی صنعت مضبوط ہوئی۔ تاہم کئی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیرف کا سب سے بڑا اثر امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔

جمع کے روز صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں اور ممکن ہے غیر ملکی مصنوعات پر پہلے سے زیادہ محصولات عائد کیے جائیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے دیگر ارکان نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی، حالانکہ عدالت میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت موجود ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف امریکی معیشت بلکہ آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی ماحول پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، جبکہ عالمی تجارت اور کاروباری حلقے آنے والے مہینوں میں مزید غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر سکتے ہیں۔